<?xml version='1.0' encoding='UTF-8' ?>
<rss version='2.0'>
<channel>
<title>VShineWorld.com | وی شائن ورلڈ | بچوں کی  سب سے بڑی کثیر اللسانی ویب سائٹ</title>
<description>مختلف زبانوں میں بچوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ، جہاں بچوں کی سرگرمیاں، میگزین، مضامین، کہانیاں، نظمیں اور لطیفے ہیں۔ بچوں کا صفحہ اور بچوں کا فورم</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu</link>
<language>en-us</language>
<copyright>Copyright vshineworld.com</copyright>

<image><title>VShineWorld.com | وی شائن ورلڈ | بچوں کی  سب سے بڑی کثیر اللسانی ویب سائٹ</title><url>http://www.vshineworld.com/images/logo.png</url><link>http://www.vshineworld.com/urdu</link></image>
<lastBuildDate>Mon, 06 Feb 2012 14:53:17 GMT</lastBuildDate><br />
<b>Warning</b>:  mysql_num_rows(): supplied argument is not a valid MySQL result resource in <b>/usr/local/apache/htdocs/vshine/web/urdu/rss/library</b> on line <b>52</b><br />

<item><title>Newses - طویل ترین سرنگ </title>
<description>سوئٹزرلینڈ میں دنیا کی طویل ترین سرنگ کھودنے والے انجینئرز نے آخری چٹانیں توڑ کر سرنگ کی کھدائی مکمل کر لی ہے۔ ستاون کلو میٹر طویل گوتھارڈ نامی ریلوے کی یہ سرنگ چودہ برس کی تعمیری کوششوں کے بعد مکمل ہو رہی ہے۔ اس سرنگ کی کھدائی کے کام کی تکمیل کا منظر براہ راست سوئس ٹی وی پر نشر کیا جائےگا اور یورپ میں نقل و حمل کے سبھی وزراء اس کو دیکھیں گے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/newses/6/21/longest-tunnel</link>
        <pubDate>Tue, 02 Nov 2010 09:34:24 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Newses - خلائی مخلوق </title>
<description>میکسیکو کی قدیم تہذیب کے مطابق دسمبر سنہ 2012ء میں ایلین یعنی خلائی مخلوق خود کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دے گی۔ اسی وجہ سے یو ایف او کانفرنس کا انعقاد بھی میکسیکو میں کیا گیا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/newses/1/20/</link>
        <pubDate>Tue, 20 Apr 2010 10:50:57 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Newses - سردی میں مسلسل اضافہ ہوگا </title>
<description>محققین کا کہنا ہے کہ &amp;rsquo;سولر ایکٹیوٹی&amp;lsquo; میں کمی کی وجہ سے برطانیہ اور براعظم یورپ کو مستقبل میں مزید سرد موسم کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم یہ ماحولیاتی تبدیلی ایک مخصوص خطے کو متاثر کرے گی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/newses/5/19/</link>
        <pubDate>Tue, 20 Apr 2010 10:36:21 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Newses - کوبرا کے پھن پھیلانے کا راز کھل گیا </title>
<description>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب بھی کوبرا اپنا پھن پھیلاتا ہے تو اس کی پسلیاں اور اس کے پٹھے اسے یہ شکل اپنانے میں مدد دیتے ہیں.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/newses/5/18/</link>
        <pubDate>Tue, 20 Apr 2010 10:30:15 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Newses - ہاتھیوں کی "خفیہ زبان" پر تحقیق </title>
<description>امریکی ریاست کیلیفورنیا کے سان ڈیاگو چڑیا گھر میں محققین ہاتھیوں کی &amp;rsquo;خفیہ زبان&amp;lsquo; پر تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ محققین ہاتھیوں کی اس باہمی بات چیت کی نگرانی کر رہے ہیں جو کہ انسانی کان نہیں سن پاتے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہاتھیوں کی چنگھاڑ سے تو عام طور پر سبھی واقف ہیں لیکن یہ اس کے علاوہ بھی آوازیں نکالتے ہیں۔ تاہم ان آوازوں میں سے کچھ ہی سنی جا سکتی ہیں کیونکہ ان میں سے ایک تہائی کی فریکوئنسی اتنی کم ہوتی ہے کہ انسانی کان انہیں سن ہی نہیں سکتے۔ ان آوازوں کو سننے کے لیے محققین نے چڑیا گھر کی آٹھ ہتھنیوں کے جسم پر جی پی ایس ڈیوائس اور طاقتور مائیکروفون نصب کیے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ وہ ان مائیکروفونز کی مدد سے آوازیں سن کر ان کی حرکات سے جوڑنے کی کوشش کریں گے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/newses/6/17/</link>
        <pubDate>Thu, 04 Mar 2010 09:13:13 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Scientists - گیلیلیو </title>
<description>گیلیلیو 15 فروری 1564 کو پیسا میں پیدا ہوا، باپ کے حکم سے فلسفے اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔گیلیلیو نے ٹھوس چیزوں کا وزن مخصوص معلوم کرنے کے لیے سیالات کی ایک ترازو ایجاد کی، جس سے وہ سارے اٹلی میں مشہور ہوگیا اور پسا کی یونیورسٹی نے اس کو اپنے ہاں پروفیسر مقرر کرلیا۔ یہیں گیلیلیو نے گرتے ہوئے اجسام کے متعلق اپنے تجربے کیے اور پیسا کے جھکے ہوئے مینار پر سے تجربہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ اوپر سے جو چیزیں گرائی جائیں ان کا وزن کم ہو یا زیادہ وہ ایک ہی رفتار سے نیچے گرتی ہیں۔اس نے پہلا تھرمامیٹر بنایا اور 1609 میں جب دور بین کی ایجاد کی افواہیں سنیں تو جھٹ پٹ خود ایک دور بین بنا ڈالی۔ پہلی آزمائش سے معلوم ہوا کہ اس دوربین سے چیزیں صرف تگنی نظر آتی ہیں، لیکن بہت جلد اس نے بتیس گنا بڑی چیزیں دیکھنے والی دور بین بنا ڈالی۔اس نے سورج کے دھبوں پر ایک کتاب شائع کی۔ چوں کہ اس سے تورات اور انجیل کے بعض فقروں کی تردید ہوتی تھیں۔ اس لیے پوپ نے اس کو ڈانٹا گیلیلیو نے پوپ کا حکم ماننے کا وعدہ کرلیا لیکن چوں کہ اس کو اپنے علم پر پورا بھروسہ تھا۔ اس لیے 1632 میں اس نے فلکیات کے متعلق ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس پر گیلیلیو کو حکم دیا گیا کہ مذہبی عدالت کے سامنے حاضر ہو۔ وہاں اسے دھمکایا گیا کہ تم اپنے خیالات سے توبہ نہ کرو گے تو شکنجے میں کس کر تم کو سزا دی جائے گی، گیلیلیو نے گھبرا کر توبہ کرلی اور اپنی باقی زندگی علمی تحقیقات میں بسر کردی۔ 8 جنوری 1642 کو گیلیلیو کا انتقال ہوگیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/scientists/2/22/</link>
        <pubDate>Tue, 26 Jan 2010 09:46:41 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Scientists - رونتجن </title>
<description>ولیم رونتجن نے ایکس رے کی شعاعوں کو صرف اتفاقی طور پر دریافت کرلیا تھا،لیکن اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیا شے ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے ان شعاعوں کو ایکس کا نام دیا یعنی نامعلوم۔ بہرحال ان کارآمد شعاعوں کو دریاف کرنے اور ان کو کارآمد بنانے کا سہرا اسی کے سر ہے۔رونتجن پروشیا کا رہنے والا تھا۔ 27 مارچ 1845 کو لپنپ میں پیدا ہوا۔ ہالینڈ میں اور زیورخ کی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ایک دن رونتجن شیشے کی ایک نلی میں سے جو سیاہ کاغذ سے پوری طرح لپٹی ہوئی تھی اور جس میں سے ہوا بالکل خارج کردی گئی تھی، بجلی کی روگزار رہا تھا اگرچہ سیاہ کاغذ کی وجہ سے بجلی کی رو سے کوئی روشنی نظر نہ آتی تھی، لیکن اس نے دیکھا کہ جس وقت بجلی کی رو نلی  میں جاتی ہے، پاس پڑے ہوئے بیریم پلاٹینو سائنائیڈ کے ذرے چمک اٹھتے ہیں۔ اس نے نلی اور اس کارڈ کے درمیان جس پر وہ ذرے پڑے تھے، مختلف قسم کی اشیاء رکھ کر دیکھیں لیکن یہی معلوم ہوا کہ ان اشیاء کا سایہ کارڈ پر پڑ رہا ہے۔ مزید تجربے کیے تو ثابت ہوگیا کہ یہ شعاع ان مادوں سے گزر جاتی ہے، جن میں معمولی روشنی نہیں گزرسکتی۔رونتجن نے بجلی اور مقناطیس کے متعلق بہت سی مفید دریافتیں کیں۔ 1901 میں اسے طبیعیات کا نوبل پرائز اور 1896 میں رائل سوسائٹی کا رمفرڈ تمغہ دیا گیا۔ تاریخ وفات 10 فروری 1923 ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/scientists/2/21/</link>
        <pubDate>Tue, 26 Jan 2010 09:28:24 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Scientists - بنجمن فرینکلن </title>
<description>بنجمن فرنیکلن 17 جنوری 1706 کو بوسٹن میں پیدا ہوا۔ اس کے سوتیلے بھائی جیمز کا ایک پریس تھا۔ جس میں بنجمن فرینکلن نے چھپائی کا کام سیکھا۔بنجمن فرنیکلن کا وہ تجربہ تو مشہور ہی ہے کہ اس نے بادلوں تک ایک پتنگ پہنچایا اور اس کی ڈور میں چابی باندھ کر بجلی کا پتا چلایا۔ پھر اس نے فرینکلن کی انگیٹھی ایجاد کرکے بنی نوع انسان کو آرام پہنچایا۔ وہ سائنس کی ہر شاخ سے دلچسپی رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نے ڈاکٹری کے آلات سے لے کر موسمیات تک میں کئی نئی ایجادیں کیں۔فرنیکلن کی کتابوں میں سب سے زیادہ دلچسپ اس کی نامکمل سوانح عمری ہے جو اس نے خود لکھی تھی، یہ کتاب حاضر جوابی اور دانائی کی باتوں سے بھری ہوئی ہے اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/scientists/2/20/</link>
        <pubDate>Tue, 26 Jan 2010 09:24:50 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Scientists - بو علی سینا </title>
<description>طب اور فلسفے میں مشرق و مغرب کو ملا کر بو علی سینا سے زیادہ نامی حکیم پیدا نہیں ہوا۔ خصوصا طب میں تو وہ امام مانا جاتا ہے اور پندرھویں صدی عیسوی تک مشرق کے علاوہ یورپ کی یونیورسٹیوں میں بھی اس کی کتاب قانون داخل نصاب رہی ہے۔بو علی سینا کا نام حسین تھا۔ والد کا نام عبداللہ۔ عبداللہ بخارا کے ایک علاقے کا حاکم تھا۔ وہیں صفر 870 ہجری میں بو علی سینا پیدا ہوا۔ دس سال کی عمر میں علوم عربیہ کی تعلیم سے فراغت حاصل کی اور چھ سال تک فلسفہ، ریاضیات، ہیئت اور طب کا مطالعہ کیا۔اس کی کتاب القانون یورپ کی یونیورسٹیوں میں پندرھویں صدی کے اواخر تک کل نصاب تعلیم کا نصف سے زیادہ حصہ تھی اور مونٹ پلیئر اور لووین کی یونیورسٹیوں میں 1650 تک داخل نصاب چلی آتی تھی۔ اس کی تقریباً سب اہم کتابوں کے ترجمے یورپی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/scientists/4/19/</link>
        <pubDate>Tue, 26 Jan 2010 09:22:56 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Scientists - ایڈیسن </title>
<description>ایڈسن امریکا کا سب سے بڑا موجد تسلیم کیا جاا ہے۔ اس نے کوئی ایک ہزار ایجادیں کیں۔ وہ مسلسل سعی و کوشش کا نمونہ اور قریب قریب ہرمسئلے پر قوم کو بہترین مشورے دیتا تھا۔ وہ میلان میں 11 فروری 1847 کو پیدا ہوا۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے ماں باپ مشیگن چلے گئے۔ وہاں ایڈیسن نے سب سے پہلے گرنیڈ ٹرنک ریلوے پر ایک اخبار فروش کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ ایک مال گاڑی میں اپنا ذاتی اخبار نکالنے اور چھاپنے لگا۔اس کے بعد تار برقی کی طرف توجہ کی، لیکن ایک ماہر و مشاق تار بابو بن کر بھی اس کو اطمینان نہ ہوا۔ یہاں اس نے ایک آلہ ایجاد کیا، جس سے کسی تار بابو کی مدد کے بغیر دوسری لائن پر بھی پیغامات بھیجے جاسکتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک چار رخ کا تار ایجاد کیا اور چلتی ہوئی ٹرینوں کو پیغام پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کرلیا۔1886 میں ایڈیسن نے اپنے گھر اور لیبارٹری سے ملحق ضروری آلات بنانے کا ایک کارخانہ منیلو پارک میں قائم کیا۔ جس کو بڑی شہرت حاصل ہوئی، یہاں پینتالیس سال تک مسسلسل اس نے محنت و مشقت سے زندگی گزاری۔ایڈیس کی سب سے زیادہ مشہور ایجادوں میں سے چند یہ ہیں: فوٹو گراف، مائیکرو فون، میمیوگراف، ٹیلی فون کے لیے کاربن کا پیغام رساں اور سب سے بڑی نعمت جو اس نے بنی نوع انسان کو دی وہ بجلی کا بلب ہے جس کے لیے اس نے سال ہا سال نہایت صبر سے کام کیا۔ اسے بار بار ناکامی ہوئی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور آخر بجلی کا بلب بنانے میں کامیاب ہوا۔ اس نے کینٹوسکوپ بنایا جو ترقی پا کر آج کا سینما بن گیا۔ ایڈیسن نے اپنی ایجاد فونو گراف کو ترقی دے کر دونوں کو باہم ملا کر بولتی چالتی تصویریں بناڈالیں۔ نکل اور لوہے کی اسٹوریج بیٹری بھی اس نے ایجاد کی اور اس کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ اس نے مصنوعی ربڑ بنانے کا طریقہ معلوم کرلیا۔ ایڈیسن قریب قریب بہرا ہوگیا تھا۔ 17 اکتوبر 1931 کو فوت ہوا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/scientists/2/18/</link>
        <pubDate>Tue, 26 Jan 2010 09:25:13 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Worldhistories -  ہیروشیما پر ایٹم بم گرتا ہے </title>
<description> اگست 1945ء نے جاپان کے چھوٹے سے شہر ہیروشیما کے نام کو اس لحاظ سے بقائے دوام کا لباس پہنادیا کہ ایٹم بم پہلی مرتبہ اسی شہر پر استعمال ہوا اور تین روز بعد ناگا ساکی پر دوسرا بم گرا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان نے ہتھیار ڈال دئیے اور دوسری عالمگیر جنگ ختم ہوگئی۔ہیروشیما میں ایک بم نے جو قیامت برپا کی اس کا سرسری اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے یا زخمی ہوئے یا پاگل ہوگئے۔ شہر کی تین چوتھائی عمارتیں ملبے کا ڈھیر ہو کر رہ گئیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہیرو شیما کی آبادی میں جو لوگ بچے، ان کے بچوں، پووں، پڑوتوں پر اس بم کے اثرات کن کن صورتوں میں رونما ہوئے یا ہوں گے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/worldhistories/8/54/</link>
        <pubDate>Mon, 04 Jan 2010 18:07:46 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Worldhistories - جرمنی کی شکست </title>
<description>جرمنی کی جس جنگی قوت کے متعلق عام خیال یہ ہوگیا تھا کہ اسے توڑا نہیں جاسکتا، وہ روس، شمالی افریقہ، سسلی، اٹلی اور بلقان میں بہت بری طرح پسپا ہوئی۔جرمن آبدوزوں کی قوت 1943ء کے اواخر ہی میں توڑ دی گئی تھی۔اتحادیوں نے چھ جون کو آدھی رات کے وقت ہوائی جہازوں کے ذریعے تین ڈویژن فوج جرمن استحکامات کے پیچھے اتار دی۔ اس میں ایک ڈویژن برطانوی اور دو امریکی۔شربورگ اور رودبار کی دوسری بندر گاہوں پر قبضہ جمانے میں شدید مشکلات پیش آئیں، لیکن نارمنڈی پر قبضہ ہوگیا تو اتھادی فوجیں سیل کی طرح فرانس پر پھیل گئیں۔ پیرس کو خود وہاں کے رضا کار عساکر نے آزاد کرالیا۔مشرقی جانب سے سٹالن کے طوفانی لشکر بڑھ چلے آرہے تھے، اٹلی میں بھی اتحادیوں کی پیش قدمی جاری تھی، اگرچہ اس کی رفتار تیز نہ تھی۔آخر کار روسی برلن تک پہنچ گئے جہاں ہٹلر دیر تک لڑتا رہا حالاں کہ اب ایسی مزاحمت میں کوئی معقولیت نہ رہی تھی۔ پھر اس نے خودکشی کرلی۔ اتحادی فوجوں نے برلن پہنچنے میں کسی قدر دیر کی۔ روسی فوجوں نے برلن اور اس کے مشرقی علاقوں پر قبضہ کرکے قدم جمالیے۔  اتحادی اب تک اس دیر کے لیے پچھتاتے ہیں۔جرمنی نے 7 مئی 1945ء کو ہتھیار ڈال دئیے تھے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/worldhistories/8/53/</link>
        <pubDate>Mon, 04 Jan 2010 18:05:38 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Worldhistories -  پرل ہاربر کی تباہی </title>
<description>جاپان نے 7 دسمبر 1941ء کو امریکا کے مشہور بحری مرکز پرل ہاربر (جزیرہ ہوائی) پر جو حملہ کیا تھا، وہ بھی اسی قسم کا تھا اور اس میں جاپان کو جس بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی، وہ کسی کے خواب و خیال میں بھجی نہ تھی۔ اتوار کا دن حملے کے لیے یقیناً اس خیال سے تجویز کیا گیا تھا کہ بحری مرکز کے اکثر افسر اور ملاح معمول کے مطابق چھٹی منارہے ہوں گے اور بیڑا مزاحمت کرنا بھی چاہے گا تو نہ کرسکے گا۔بے شک امریکا کے لیےیہ بڑی پریشانی کا وقت تھا۔ اگر زیادہ سے زیادہ تیزی کے ساتھ بھی فوجی تیاریاں شروع کردی جاتیں تو ایک بڑی مصیبت یہ بھی کہ پہلے زیادہ سے زیادہ سامان اور فوجیوں ہٹلر کے مقابلے پر بھیجنی ضروری تھیں جو جاپان کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ خطرناک تھا اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے انتظامات مکمل کیے بغیر جاپان پر پوری توجہ نہ کی جاسکتی تھی۔ لہٰذا جاپان کو جوابی حملہ کا زیادہ اندیشہ نہ تھا۔ تاہم خود جاپان پر بہت جلد واضح ہوگیا کہ وہ اتنے علاقے ہتیا چکا ہے، جنہیں ہضم کرلینا بہت مشکل تھا۔اچانک امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ جن سے بے شمار غیر مصافی آبادی موت کے گھاٹ اترگئی اور جاپان مزید لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔ اس طرح لاکھوں امریکی سپاہیوں کے لیے خلاف توقع بہت جلد وطن واپس جانے کی صورت نکل آئی۔ لہٰذا بہت کم سپاہیوں کو اس غیر مصافی جاپانی آبادی سے ہمدردی کا خیال پیدا ہوسکا جو ایٹم بم کا ہدف بنی تھی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/worldhistories/8/52/</link>
        <pubDate>Mon, 04 Jan 2010 18:04:03 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Worldhistories - انڈونیشیا کی آزادی </title>
<description>انڈونیشیا کا پہلا نام جزائر شرق الہند تھا یورپی قوموں میں سے پہلے پہل پرتگیز مسالوں کی تجارت کے لیے انڈونیشیا پہنچے پھر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے پوری تجارت سنبھال لی اور وہ انڈونیشیا پر قابض ہوگئی۔ 1798ء میں کمپنی ٹوٹی تو ہالینڈ کی حکومت نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 1942ء تک دلندیزی یہاں حکمران رہنے ویسے براے نام ان کی حکمرانی کا سلسلہ 1949ء تک جاری رہا۔آزادی کی تحریک تو ملک میں پہلے سے موجود تھی۔ دوسری جنگ عالمگیر میں جرمنی ہالینڈ پر قابض ہوگیا اور ملکی ہالینڈ، انگلستان جا بیٹھی تو اس نے 7 دسمبر 1942ء کو اعلان رکدیا کہ آئندہ کے لیے ہالینڈ کے تمام مقبوضہ علاقوں کو وہی درجہ حاصل ہوگا جو ہالینڈ کو حاصل ہے۔ اس طرح انڈونیشیا کی سیاسی آزادی تسلیم کرلی گئی۔ جب جاپان نے شرق الہند کے بڑے جزیروں پر قبضہ جمالیا تو اس نے یہاں کے لوگوں میں ہتھیار تقسیم کردئیے اور آزادی کا یقینی بھی دلادیا۔ مقصود یہ تھا کہ وہ جاپان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائیں، بلکہ اس کے مقاصد کو ہر ممکن ذریعے سے تقویت پہنچاتے رہیں۔جنگ کے خاتمہ پر ملکہ ہالینڈ واپس وطن پہنچ گئی اور حکومت کا نقشہ نئے سرے سے درست ہوا تو حکومت پالینڈ کی نیت بدل گئی، لیکن جو لوگ آزادی کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے اور اب لڑنے مرنے کو تیار تھے۔ انہیں دھوکا دینا آسان نہ تھا، لہٰذا 1946 میں ہالینڈ اور اہل انڈونیشیا کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا جس کے مطابق 1949ء تک انڈونیشیا میں متحدہ ریاستوں کا نظام جاری کردینے کا فیصلہ ہوگیا۔ 23 اگست سے 2 نومبر 1949ء تک حکومت ہالینڈ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی، آخر کار فیصلہ ہوگیا اور 28 دسمبر 1949ء کو ہالینڈ نے تمام اختیارات ریاست ہائے متحدہ انڈونیشیا کے حوالے کردئیے۔ یوں آزادی کی مہم کامیابی کی منزل پر پہنچ گئی۔ پہلے نظام حکومت وفاقی رکھا گیا تھا۔ پھر اسے وحدانی بناد یا گیا۔ 14 اگست 1950ء کو عارضی دستور منظور ہوا۔ 28 ستمبر 1950ء کو انڈونیشیا انجمن اقوام متحدہ کا رکن بن گیا۔ اب جمہوریہ انڈونیشیا بھی براعظم ایشیا کی ایک بڑی جمہوریت ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/worldhistories/7/51/</link>
        <pubDate>Fri, 01 Jan 2010 20:11:14 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Worldhistories - قیام پاکستان </title>
<description>قرارداد پاکستان مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940ء کے اجلاس لاہور میں منظور کی تھی۔ اس وقت سے اسلامی سیاست  کا رخ بدلا اور مسلمانوں نے ملی جلی حکومت بنانے کا خیال ترک کرکے اپنی الگ مستقل حکومت کے لیے جدوجہد شروع کی۔14اگست 1947ء کو انگریزی حکومت کا دور ختم ہو گیا اور متحدہ ہندوستان کی جگہ دو آزاد حکومتیں وجود میں آگئیں۔ ایک پاکسان، دوسری ہندوستان، حد بندی کے کمیشن نے 17 اگست کو اپنا فیصلہ سنایا اور کم از کم ایسی سات تحصیلیں ہندوستان کے حوالے کردیں جن میں مسلمانوں کی تعداد سب قوموں سے زیادہ تھی اور ان کی حدیں مغربی پاکستان سے ملی ہوئی تھیں۔ اس غلط فیصلے اور بعض مفسد گروہوں کی فتنہ انگیزی سے قتل و غارت کا ایک ایسا افسوس ناک دور شروع ہوگیا جس نے آزادی کی شادمانیوں کو آنسوئوں اور آہوں میں تبدیل کردیا۔ لاکھوں انسانوں کو ان کے آبائی وطن سے اٹھا کر پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا۔ تاکہ اس نئی حکومت کی مشکلات زیادہ سے زیادہ بڑھ جائیں، اس غم نے قائد اعظم کی صحت برباد کردی۔ تاہم جو قدم اٹھ چکا تھا، اس کا پیچھے ہٹنا غیر ممکن تھا۔ قائد اعظم کی ہمت اور عام پاکستانیوں کے صبر و استقامت سے تمام مشکلوں پر قابو پالیا گیا اور وہ جمہوری ریاست ایک روشن حقیقت بن گئی جو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی حکومت ہے.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/worldhistories/7/50/</link>
        <pubDate>Fri, 01 Jan 2010 20:09:16 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Stories - مردے کی واپسی </title>
<description>سب دھک سے رہ گئے۔ بات ہی کچھ ایسی تھی&amp;lsquo; جس سلطان کو فوت ہوئے چند دن ہوگئے تھے۔ اب وہ ان کے سامنے تخت پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں ملنے لگے، کچھ نے خود کو چٹکیاں بھی کاٹیں کہ ہوسکتا ہے ہم کوئی سہانا خواب دیکھ رہے ہوں جب انہیں تکلیف ہوئی تو انہیں یقین کرنا ہی پڑا کہ ان کے سامنے تخت پر وہی سلطان بیٹھا ہے جس کا کچھ دن پہلے ایک فوجی مہم کے دوران انتقال ہوگیا تھا اور اس کی میت ایک تابوت میں واپسی آئی تھی جس کی وفات نے پورے ملک کو غم کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دل غم سے پھٹے جارہے تھے&amp;lsquo; جب آج سلطان ان سب کے سامنے دربار میں آیا تو وہ یہی سمجھے کہ ان کی روح دنیا میں واپس آگئی ہے لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ روحوں کا اس دنیا میں آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ درباری اتنے حیرت زدہ تھے کہ وہ سلطان سے یہ بھی نہ پوچھ سکے۔ حضور! وہ جو ہم نے آپ کا جنازہ پڑھا تھا جو ہم نے آپ کو کندھے دیے تھے ان کا کیا بنا۔ سلطان بھی ان سب کی حیرت سے نڈہال ہورہا تھا، کچھ دیر بعد بولا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بھروسہ کرنے کے قابل ہے جس نے تم لوگوں کو اس آزمائش میں کامیاب کیا۔ کیسی آزمائش۔ چند دبی دبی سی سرگوشیاں ابھریں۔ اصل میں ہم نے تمہارا امتحان لیا تھا کہ تم ہمارے بغیر بھی منظم رہتے ہو یا بھیڑ بکریوں کی طرح بکھر جاتے ہو۔ یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ سب سے زیادہ حیرت تو سلطان کے بیٹے کو تھی۔ اسے ذرا سا بھی علم نہیں ہوا تھا کہ یہ اصلی جنازہ ہے یا کوئی چال ہے۔ اسی نے تو سب سے زیادہ کندھے جنازے کو دیے تھے۔ سلطان پھر کہنے لگا۔ چند خاص آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو اس بات کا پتا نہیں تھا.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/stories/5/153/murde-ki-wapsi</link>
        <pubDate>Wed, 01 Feb 2012 09:34:46 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Stories - قیمتی موتی کی تلاش </title>
<description>پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔ چنانچہ اس تاجر کو بھی بغداد پہنچنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش کردیا گیا۔ تاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کیے۔ پھر مال تجارت نکالا اور ایک ایک چیز کی خوبی بیان کرتے ہوئے دکھانے لگا۔حضور، یہ پانی سے چلنے والی گھڑی ہے جو میں نے یونان سے خریدی ہے۔ یہ قالین ہے جو میں نے ایران سے خریدا ہے اور یہ خالص ریشم کے تار سے بنا ہے۔ یہ قلم ملاحظہ فرمائیے جو میں نے جاپان سے بہت مہنگے داموں خریدا ہے۔ تاجر نے ایک ایک مال کی اہمیت بیان کی۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بہت خوب، تمام چیزیں بہت عمدہ نایاب ہیں جو تم نے ایران، یونان اور جاپان سے خریدی ہیں لیکن یہ تو بتاﺅ کہ تمہیں ہندوستان میں ہمارے شایان شان کوئی چیز نظر آئی۔تاجر نے بادشاہ کو متاثر کرنے کے لیے کہا، یوں تو بادشاہ سلامت آپ کے شایان شان بہت چیزیں تھیں لیکن جو چیز مجھے پسند آئی۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے مجھے کچھ عرصہ وہاں قیام کرنا پڑتا جبکہ میرے پاس صرف دو دن کا وقت تھا۔بادشاہ نے پوچھا۔ اچھا وہ کیا چیز تھی۔تاجر بولا، جناب وہ ایک موتی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ اس کو کوئی چرا بھی نہیں سکتا اور اس موتی سے بہت سارے زیور بھی بنا کر پہنے جاسکتے ہیں۔بادشاہ بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا۔ میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے فوراً اپنے ایک خاص وزیر کو مع سامان و سواری اس ہدایت کے ساتھ رخصت کیا کہ اب وہ موتی لے کر ہی لوٹے۔ وزیر اپنے مقصد کے لیے نکل پڑا۔ جنگلوں،سمندروں، پہاڑوں اور صحراﺅں غرض یہ کہ ہر جگہ کی خاک چھان ماری۔ وادی وادی گھوما، ہر شخص سے اس نادر و نایاب موتی کا پوچھا مگر سب نے یہ ہی کہا کہ ایسا کوئی موتی نہیں ہے جو چوری نہ ہوسکے اور اس سے بہت سارے زیور بن جائیں۔ لوگ اس کی بات سن کر ہنستے اور کہتے۔ مسافر پاگل ہوگیا ہے۔یوں ہی مہینوںبیت گئے، ناامیدی کے سائے گہرے ہونے لگے لیکن بادشاہ کے سامنے ناکام لوٹنے کا خوف اس کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔وزیر نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ ایسا موتی مل جائے لیکن یہ نہ ملا،سو اس نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔ وزیر اپنی ناکامی پر زارو قطار روتا ہوا جنگل سے گزر رہا تھا۔ رات کافی ہوچکی تھی اور وزیر بہت تھک بھی گیا تھا۔ ایک درخت کے پاس آرام کے ادارے سے لیٹا ہی تھا کہ اسی لمحے ایک روشنی اپنی جانب بڑھتی ہوئی نظر آئی۔ پہلے تو وزیر ڈر گیا مگر پھر ایک آواز نے اس کو حوصلہ دیا۔ارے نوجوان ڈرو مت، میں اچھی پری ہوں۔ بتا تیرے ساتھ کیا مسئلہ ہے، تو مدتوں کا تھکا ہوا مسافر معلوم ہوتا ہے، بتا میں تیری کیا مدد کروں۔وزیر نے اپنی داستان کہہ سنائی کہ اسے جس موتی کی تلاش تھی، وہ کہیںنہیں ملا۔ اب اچھی پری وزیر کے سامنے آچکی تھی اور وہ وزیر کی بات سن کر بے ساختہ ہنسنے لگی، پھر بولی۔ افسوس کہ تو نے عقل سے کام نہ لیا اور محض ایک موتی کی تلاش میں مہینوںمارا مارا پھرتا رہا۔وزیر بولا۔ اچھی پری،میں تمہارا مطلب نہیںسمجھا۔ وہ بولی، بھلے آدمی، وہ موتی دراصل علم کاموتی ہے لیکن تو اس کی ظاہری شکل کو تلاش کرتا رہا۔ علم تو ایک ایسی شے ہے جسے ہزاروں نام دیے جاسکتے ہیں۔ کہیں اسے پھل دار درخت کہتے ہیں تو کبھی سورج سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے سمندر بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے کوئی چرا نہیں سکتا۔لیکن اس سے زیور بنانے والی صفت۔ وزیر نے حیرت سے پوچھا۔پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔ علم کی بہت ساری صفات ہیں۔ تم اس موتی کی صورت کو کیوں تلاش کرتے ہو۔ یاد رکھو، ہر شے کی تاثیر کا تعلق اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے اندرونی خوبیوں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح علم بھی ایک نایاب موتی ہے کہ جس سے یہ حاصل ہوجائے، وہ اس سے ایسے ہی سج جاتا ہے جیسے انسان زیور پہن کر سجتا ہے اور اسے کوئی چرا نہیںسکتا بلکہ یہ تو بانٹنے سے بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں ہے۔وزیر بڑے غور سے پری کی بات سن رہا تھا اور بالآخر اس بات کا قائل ہوگیا کہ واقعی علم ایک ایسا موتی ہے کہ جس کے پاس ہو، وہ دراصل دنیا کے سب سے قیمتی زیور کا مالک بن جاتا ہے۔ وزیر نے پری کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد اچھی پری وہاں سے غائب ہوگئی۔ اب وزیر بہت خوش تھا اور اپنی کامیابی کے گیت گاتا ہوا اپنے ملک روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے بادشاہ کو علم کے موتی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تو بادشاہ بھی پری کی بات کا قائل ہوگیا کہ صرف علم ہی وہ موتی ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔پیارے ساتھیوں! علم ایک ایسا موتی ہے جس کی چمک دمک زمین سے آسمان، فرش سے عرش تک ہے اور علم کے اس موتی کی روشنی میں ہی انسان اس کائنات کے خالق و مالک تک رسائی حاصل کرتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/stories/5/152/qemti-moti-ki-talash</link>
        <pubDate>Mon, 23 Jan 2012 09:51:41 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Stories - بادشاہ کا انوکھا واقعہ </title>
<description>ایک وقت تھا جب ملک کے بادشاہ کے اندر عبادت، پرہیز گاری اور دینی سمجھ بوجھ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آج کے اس گئے گزرے دور میں آدمی ان واقعات کو سنے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ چنانچہ عقل کو حیران کردینے والا واقعہ سنیے۔جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔زندگی میںاس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/stories/2/151/badshah-ka-anokha-waqia</link>
        <pubDate>Tue, 17 Jan 2012 08:41:28 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Stories - بری صحبت کا اثر </title>
<description>اقبال صاحب کرسی پر بیٹھے مغموم دکھائی دے رہے تھے۔ سرجھکائے وہ کسی سوچ میں محو تھے۔ اسی لمحے اس کا سیکرٹری طارق اندر داخل ہوا۔ اقبال صاحب کو اس کے آنے کی کچھ خبر نہ ہوئی۔ کیا بات ہے۔ اقبال صاحب! آپ آج اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ طارق کے سوال پر اقبال صاحب سوچوں کے گہرے سمندر سے باہر نکل آئے۔ کیا کہہ رہے تھے آپ؟ اقبال صاحب نے سیکرٹری سے پوچھا۔ سر! میں پوچھ رہا تھا کہ پریشانی کی کیا وجہ ہے؟ سیکرٹری طارق نے دوبارہ پوچھا ۔ کیا بتاﺅں طارق! تمہیں تو پتا ہی ہے کہ ہماری کمپنی کے سیف سے کتنی مرتبہ چوری ہوچکی ہے۔ ہر بار لاکھوں روپے چوری ہوجاتے ہیں۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ہاتھ کی یہ صفائی کون دکھاتا ہے؟ اب کی بار تیس لاکھ روپے چوری ہوگئے ہیں۔ اقبال صاحب کی یہ بات سن کر سیکرٹری طارق چکرا سا گیا۔ وہ تین دن کی چھٹی کے بعد آج ہی دفتر آیا تھا۔ اقبال صاحب کی طرح اس کا چہرہ مغموم ہوگیا۔ اقبال صاحب! اب تو حد ہوگئی ہے۔ آخر کون ہے، جو ہمیں نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے۔ سیکرٹری طارق پریشانی کے عالم میں بولا۔ اقبال صاحب ایک بہت بڑی کمپنی کے مالک تھے جس میں سینکڑوں ملازمین کام کرتے تھے۔ دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر تھی۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا علی حیدر تھا۔ انہوں نے اپنی اولاد کو خوب پڑھایا لکھایا اور بہت ہی اچھے انداز میں تربیت کی۔ ان کی گھریلو زندگی بہت پرسکون گزر رہی تھی۔ بس انہیں پریشانی تھی تو اس بات کی کہ آئے دن ان کی کمپنی میں ایک نئی واردات ہوجاتی تھی جس سے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ انہوں نے اپنے طور پر تحقیق کی لیکن انہیں کچھ بھی سراغ نہ ملا۔ کمپنی کے تمام کارکنان نہایت ایماندار تھے۔ انہیں کسی پر کوئی شک نہیں تھا۔ صرف اقبال صاحب ہی نہیں بلکہ ان کے ہمدرد سیکرٹری سمیت تمام ملازمین اس آئے روز کی وارداتوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ اقبال صاحب کسی بھی ملازم کو اپنی کمپنی میں بہت چھان پھٹک کے بعد رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود انہیں آئے دن لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اب وہ دن رات اسی بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی صحت گرتی جارہی تھی۔ اقبال صاحب کے گھر والے ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں بہت پریشان تھے۔ ایک دن ان کی بیگم نے انہیں پریشانی کی اصل وجہ بتانے کو کہا۔ انہوں نے بیگم کو اس تازہ واردات کے متعلق نہیں بتایا تھا وہ دمے کی مریضہ تھیں۔ اقبال صاحب بیگم کی بات کو ٹالتے ہوئے اندر چل دیے۔ ان کی بیگم بھی پیچھے آگئیں اور بولیں آج آپ کو بتانا پڑے گا۔ سارا گھر آپ کی صحت کے بارے میں پریشان ہے اور آپ نے چپ سادھ رکھی ہے۔ خدا کے واسطے کچھ تو بولیے۔ بیگم کے بار بار کے استفسار پر اقبال صاحب نے سارا ماجرہ سنادیا۔ سنتے ہی بیگم صاحبہ کو کھانسی کا شدید دورہ پڑا اور وہ شدت غم سے بے ہوش ہوگئیں۔ سب گھر والے بہت پریشان ہوئے ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ بیگم صاحبہ کو ہوش آگیا اور ان کی طبیعت خطرے سے باہر قرار دے دی گئی۔ اتنے میں اقبال صاحب کا اکلوتا بیٹا علی حیدر اکیڈمی سے پڑھنے کے بعد اندر داخل ہوا اور آتے ہی اپنے باپ سے لپٹ گیا۔ اقبال صاحب نے اسے اپنی پریشانی محسوس نہ ہونے دی اور ایک جعلی مسکراہٹ سے اس سے اکیڈمی کے بارے میں پوچھا۔ علی حیدر سمجھ گیا دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور پھر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ ماں کیا ہوا ہے آپ کو؟ علی حیدر نے جھٹ سوال کیا۔ کچھ نہیں بیٹا! بس ذرا طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ ماں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔ کچھ دیر کے بعد اقبال صاحب نے اپنے بچوں کے ہمراہ کھانا کھایا اور واک کو چل پڑے۔ اب وہ خود کو قدرے بہتر محسوس کررہے تھے۔ خیر دن گزرتے گئے اور اقبال صاحب خود کو ہلکا محسوس کرنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ بالکل ہی بھول گئے کہ انہیں اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اقبال صاحب نے اپنی کمپنی کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا اور جگہ جگہ کیمرے نصب کروادیے۔ اتنی سخت سیکورٹی کا یہ فائدہ ہوا کہ دوچار ماہ بڑے سکون سے گزرگئے۔ اب اقبال صاحب بہت خوش تھے۔ ان کی صحت بھی مکمل بحال ہوچکی تھی۔ وہ ایک دن اپنے ملازمین کے ساتھ بیٹھے کچھ باتیں ڈسکس کررہے تھے کہ یکایک چھ نقاب پوش اسلحہ اٹھائے ان کے دفتر میں آدھمکے اور سب کو ہینڈز اپ کرنے کو کہا۔ یہ امر اقبال صاحب کے لیے باعث حیرت تھا کہ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود ڈاکو ان کے دفتر میں پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟۔ یہ بات سب کے لیے پریشان کن تھی کیوں کہ ڈاکا کمپنی میں پہلی بار ہی پڑا تھا۔ پہلے جتنا بھی مالی نقصان ہوا تھا اس کے لیے ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی تھی۔ نقاب پوش ڈاکوﺅں نے اقبال صاحب کے سیکورٹی اسٹاف کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ ایک ڈاکو اپنی جیب سے چابی نکال کر تجوری کھولنے لگا۔ اتنے میں اقبال صاحب کے ایک گن مین نے کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے ڈاکو کو دبوچ لیا۔ بندوق نقاب پوش ڈاکو کے ہاتھ سے گرگئی۔ اتنے میں دوسرے ڈاکو بدحواس ہو کر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ ایک نقاب پوش ڈاکو کو اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے نرغے میں دیکھ کر اقبال صاحب کے چہرے پر رونق نمودار ہوگئی۔ اب وہ بہت خوش ہورہے تھے کہ نقصان بھی نہیں ہوا اور ڈاکوﺅں کا ایک ساتھی بھی ان کے ہاتھ آگیا۔ کمپنی کے ایک گن مین نے نقاب پوش ڈاکو کا نقاب اتارا تو اقبال صاحب کے پاﺅں تلے زمین نکل گئی۔ ان کا سر چکرانے لگا۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کیوں کہ ڈاکو کوئی اور نہیں بلکہ اس کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا علی حیدر تھا۔ وہ شرمندگی سے سرجھکائے کھڑا تھا۔ اقبال صاحب نے علی حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا۔ علی حیدر تم اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔ ان کی بیگم بھی ہسپتال پہنچ گئیں۔ ڈاکٹروں نے اقبال صاحب کی حالت بہت نازک بتائی۔ اقبال صاحب کی بیگم ایک ڈیسک پر بیٹھے روئے جارہی تھی۔ بیگم صاحبہ کو ایک آدمی نے تمام صورتحال سے آگاہ کردیا کہ آج جو کچھ ہوا ہے آپ کے لاڈلے بیٹے علی حیدر کی وجہ سے ہوا ہے۔ بیگم صاحبہ نے جب یہ سنا کہ ان کا اپنا ہی بیٹا اپنی ہی کمپنی میں ڈاکا ڈالتے پکڑا گیا ہے تو انہیں ایک دھچکا سا لگا۔ پہلے پہلے تو انہیں اپنے ملازم کی باتوں پر یقین نہیں آیا لیکن علی حیدر کے اعتراف جرم سے انہیں یقین کرنا ہی پڑا۔ علی حیدر کی آنکھیں بارش کی طرح برسنے لگیں وہ مسلسل روئے جارہا تھا اور اس کی آنکھیں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی غلطی پر انتہائی نادم تھا۔ اسے اپنی غلطی کا بھرپور احساس ہوچکا تھا اور وہ اپنے والد کی صحت یابی کے لیے دعائیں کررہا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب نے خوشخبری سنائی کہ اقبال صاحب کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب یہ بتایا کہ اقبال صاحب کو ایک بڑے صدمے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا ہے تو علی حیدر پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔ بیگم صاحب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اقبال صاحب کی حالت سنبھل گئی ہے۔ علی حیدر بھی اب کچھ دلی سکون محسوس کررہا تھا۔ دو ہفتے کے بعد اقبال صاحب کو ہسپتال سے گھر شفٹ کردیا گیا۔اب ان کی صحت کافی بہتر ہوچکی تھی۔وہ گھر پر زیادہ تر خاموش ہی رہتے اور ان کے سامنے وہی منظر گھومنے لگتا جو ان کے لیے ہارٹ اٹیک کا باعث بنا تھا۔وہ کھانا بہت ہی کم کھاتے۔ علی حیدر جب یہ سب کچھ دیکھتا تو خود کو بہت کوستا۔وہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے ابو سے کوئی بات کرے لیکن اس میں ہمت ہی نہ پڑتی تھی اور نہ ہی ابو اسے بلاتے تھے۔ ایک دن باپ کا دل پسیج گیا۔اقبال صاحب نے علی حیدر کو آواز دی۔ علی حیدر اپنے باپ کی ایک ہی آواز پر دوڑتا چلا آیا اور آتے ہی اپنے باپ کے قدموں میں گرگیا۔ وہ اپنے باپ کے پاﺅں پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے جارہا تھا۔ وہ بار بار اپنے ابو سے معافی مانگ رہا تھا۔ اقبال صاحب نے علی حیدر کو دلاسا دیتے ہوئے اپنے قدموں سے اٹھایا اور اپنے گلے لگالیا اور کہا بیٹا! واقعی میرا دل تہماری اس حرکت سے ٹوٹ گیا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرا بیٹا ڈاکو بن جائے گا اور اپنے باپ کی رقم پر ہی ڈاکا ڈالے گا۔ اسی دکھ سے مجھے ہارٹ اٹیک ہوا۔ میرے زندہ بچنے کی تو کوئی امید نہ تھی لیکن تم سب لوگوں کی دعائیں رنگ لائیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم نے میرے لیے بہت دعائیں کیں۔ دن رات جاگتے رہے،میری صحت کے لیے فکر مند رہے۔ مجھے تمہاری ماںنے سب کچھ بتادیا ہے۔ علی حیدر سر جھکائے ہوئے بولا ابو جان بری صحبت انسان کو برا بنادیتی ہے۔ کالج میں میرے چند برے لڑکوں کے ساتھ تعلقات بن گئے وہ راتوں رات امیر بننا چاہتے تھے اور میںامیر ہونے کے باوجود ان کی صحبت کا اثر لے بیٹھا۔ ابو جان! وہ تمام لڑکے اب بہت خطرناک ڈاکو بن چکے ہیں۔ میں ان کو پکڑوانے کے لیے پولیس کی مدد کرسکتا ہوں۔ ابو جان! میں اب ان کی صحبت مکمل چھوڑ چکا ہوں۔ میں اب مکمل بدل چکا ہوں۔ میں آئندہ ایسی غلطی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اقبال صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ ان کا بیٹا اب مکمل بدل چکا ہے۔ علی حیدر کے سب گھر والے اب بہت خوش تھے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/stories/5/150/buri-suhbat-ka-asar</link>
        <pubDate>Wed, 11 Jan 2012 09:56:35 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Stories - ضمیر کی صدا </title>
<description>شام کی کرنیں ڈوب چکی تھیں، دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد میں ابھی بستر پر دراز ہوا تھا کہ ایک اعلان کانوں میں سنائی دیا۔ معزز مسافرین۔ ڈریم ورلڈ کا جہاز تیار ہوچکا ہے۔ تمام مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہوجائیں۔ ڈریم لینڈ کے حسین نظاروں کو دیکھنا تھا اس لے جلد ہی تمام تر سوچوں کو چھوڑ کر میںحسین وادیوں کے سفر کو نکل پڑا۔ کچھ ہی لمحوں بعد میں سپنوں کی وادیوں میں کھوچکاتھا۔10جون کی یہ حسین صبح تھی۔ یعنی میری اکیسیوں سالگرہ کا دن تھا۔ ویسے تو اس دن کی تیاریاں کافی دن سے عروج پر تھیں۔ ایک فٹ لمبے کیک کا آرڈر بھی دیا جاچکا تھا۔ مختلف احباب کے کارڈز اور گفٹ کا جم غفیر گھر کے ایک کونے میں جمع تھا۔آج تو تقریب کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ اس لیے سویرے ہی دوستوں کا تانتا بندھ چکا تھا۔ میرے چاہنے والوں کی اتنی تعداد، میں تو آج خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ ساتھ ساتھ فخر کا جن بھی سر پر سوار ہوچکا تھا۔ کیک کاٹا جارہا تھا۔ تمام دوست باری باری اپنے تحائف کے ساتھ ساتھ گلے لگ کر مبارکبادوں سے ہمکنار کررہے تھے۔آخر یہ صاحب کون ہوسکتے ہیں جو کافی دیر سے تن تنہا، بنا کسی شور شرابے سکوت کی چادر اوڑھے کھڑے ہیں۔ کہیں میرے ساتھ ان کی کوئی ناراضگی تو نہیں۔ تنہائی میں کھڑے ایک شخص کو دیکھ کر ذہن میںمختلف سوالات ابھر رہے تھے۔ کافی دیر تک تو میں منتظر رہا کہ شاید یہ شخص آکر مجھ سے ملے لیکن اس نے مجھے کوئی خاطر خواہ لفٹ نہیں کروائی۔ آخر میں خود ہی دوستوں کی لمبی قطار سے گزرتے ہوئے اس کی جانب لپکا، ایک لمحہ تو میں حیران ہوچکا تھا۔ یہ تو وہی شخص تھا جسے میں نے آئینے میں دیکھا تھا۔ اس کی شکل تو ہو بہو میری تصویر ملتی تھی۔محترم، آپ مجھے مبارکباد نہیں دیں گے۔ میں بولا۔کس بات کی مبارکباد۔ وہ صاحب بولے۔آپ کو معلوم نہیں، آپ تو میری سالگرہ کی تقریب میں شامل ہیں۔ میں مسکراتے ہوئے بولا۔محمود، خوشی تو مفاد پر کی جاتی ہے نقصان پر نہیں، وہ بولے۔کچھ سمجھا نہیں کھل کر صاف صاف بتائیے۔سننا ہی چاہتے ہو تو سنو۔کیا تم اس بات پر خوشی منار رہے ہو، کہ تم ایک سال اور موت کے قریب چلے گئے۔ اکیس برس کی زندگی تو محض تم نے گزار دی لیکن اس میں تم نے کیا پایا۔ ان گزرے ہوئے سالوں میں تم نے ہمیشہ کی زندگی موت کے لیے کتنا ذخیرہ کیا ہے۔ وہاں تمہارے اعمال ہی تمہارے لیے زاد راہ ہوں گے۔ حقوق اللہ&amp;lsquo; حقوق العباد کی کتنی پاسداری کی تم نے۔قبر کے لیے کتنی تیاری کی، جس کی طرف تمہارا ایک قدم جارہا ہے۔ضمیر کی صدا نے مجھے بیدار کردیا تھا۔ یہ میرا ضمیر تھا جو مجھے للکار رہا تھا&amp;lsquo; جاگتے ہی میری آنکھوں سے اشک جاری تھے۔اور میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہہمارے ضمیر سوئے ضرور ہیں، پر مردہ نہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/stories/5/149/zamir-ki-sada</link>
        <pubDate>Fri, 02 Dec 2011 09:17:54 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Sports - کوہ پیما لاپتا </title>
<description>نیپال میں انیس مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والا کوہ پیما چی وانگ نیما ہمالیہ کی ایک اور چوٹی سر کرتے ہوئے لاپتا ہو گئے ہیں۔ ان کی کوہ پیما ایجینسی کا کہنا ہے کہ نیما &amp;rsquo;باروتسے&amp;lsquo; کی چوٹی کے راستے میں ایک گلیشیئر سے ٹکرا ئے ہیں۔ وہ سات ہزار میٹر اونچائی پر اپنے رسے نصب کر رہے تھے تاکہ یہاں سے اگے سات ہزار ایک سو انتیس میٹر والی چوٹی پر پہنچ سکیں۔ تینتالیس سالہ نیما انیس مرتبہ ہمالیہ کی چوٹیاں سر کرچکے ہیں، جبکہ نیپال کے ہی اپیا شرپا ایورسٹ کی چوٹی بیس مرتبہ سر کرچکے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/sports/5/71/missing-mountain-climber</link>
        <pubDate>Mon, 08 Nov 2010 09:02:06 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Sports - یو ایس اوپن بھی رافیل نڈال کے نام </title>
<description>رافیل نے نووک جاگووچ کو چھ چار ، پانچ سات، چھ چار، اور چھ دو سے ہرا دیا۔ بارش کی وجہ سے کھیل روکنا پڑا تھا۔ ندال پہلی دفعہ یو ایس اوپن جیتنےمیں کامیاب ہوئے ہیں۔اسپین کے رافیل ندال یو ایس اوپن کے فائنل میں سربیائی کھلاڑی نووک جاگووچ کو ہرا کر ٹینس کے ایسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے جنہوں نے تمام بڑے ٹورنامنٹ، برٹش ، فرنچ ، آسٹریلین اور یو ایس اوپن مقابلے جیتے ہوں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/sports/9/70/</link>
        <pubDate>Tue, 28 Sep 2010 09:32:19 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Sports - نیروبی کے مقام پر۔۔۔۔ </title>
<description>نیروبی کے مقام پر 24فروری 2003 کو کینیا نے سری لنکا کو 53 رنز سے شکست دی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/sports/7/69/</link>
        <pubDate>Tue, 14 Sep 2010 10:55:31 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Sports - کینیڈا کی ہاکی ٹیم نے۔۔۔۔۔۔ </title>
<description>14 مارچ 2009 کو کینیڈا کی ہاکی ٹیم نے ارجنٹینا کو 3-4 سے پان پیسیفک کپ کے سیمی فائنل میں شکست دی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/sports/7/68/</link>
        <pubDate>Tue, 14 Sep 2010 10:55:12 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Sports - بنگلہ دیش نے 18جون ۔۔۔۔۔ </title>
<description>بنگلہ دیش نے 18جون 2005 میں کارڈف کے مقام پر آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے شکست دی۔ یہ کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا اپ سیٹ ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/sports/7/67/</link>
        <pubDate>Tue, 14 Sep 2010 10:54:47 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Quotes - کامیابی </title>
<description>کامیابی کا سب سے بڑا راز خود اعتمادی میں ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/quotes/11/82/kamyabi</link>
        <pubDate>Fri, 27 May 2011 10:42:15 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Quotes - زندگی </title>
<description>زندگی بغیر محنت کے اور بغیر عقل کے مصیبت کا پیش خیمہ ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/quotes/6/81/zindagi</link>
        <pubDate>Fri, 27 May 2011 10:39:54 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Quotes - گالی کا جواب </title>
<description>گالی کا جواب نہ دو کہ کبوتر کوے کی بولی نہیں بول سکتا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/quotes/6/80/gali-ka-jawab</link>
        <pubDate>Wed, 04 May 2011 10:11:50 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Quotes - بہترین اصول </title>
<description>کم کھانا، کم سونا، کم بولنا زندگی کے بہترین اصول ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/quotes/6/79/behtren-usol</link>
        <pubDate>Mon, 31 Jan 2011 10:30:22 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Quotes - غصہ </title>
<description>جب غصہ تجھ پر غلبہ پائے تو خاموشی اختیا رکر۔ .</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/quotes/9/78/ghussa</link>
        <pubDate>Wed, 12 Jan 2011 09:44:00 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Poems - حمد باری تعالیٰ </title>
<description>تنہائیوں میں ہے یاد اس کیمحفلوں میں ہے بات اس کیرنجشوں میں ملے رحمت اس کیخوشیوں میں بھی ملے رحمت اس کیوہ رحیم و کریم ہے لوگوتعریف میں کیا لکھوں اس کینہ کہیں ہے اس جیسا کوئییہ کائنات بھی ہے ملکیت اس کیوہ واحد لاشریک ہے لوگوتعریف میں کیا لکھوں اس کی.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/poems/4/107/hamd-bari-tala</link>
        <pubDate>Wed, 26 Oct 2011 09:07:43 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Poems - حمد باری تعالیٰ </title>
<description>تو موسم سردی کا لائے سردی جائے گرمی آئے   تیرا ہے برسات نظارا اور ہے موسم بہار پیارا   پربت تیرے دریا تیرے گاﺅں گاﺅں قریہ تیرے   دنیا میں سب تیرے دھندے گورے کالے تیرے بندے   تو نے قوت گفتار عطا کی اور ہے نعمت ہزار عطا کی   ہر اک دل پر راج ہے تیرا عظمت والا تاج ہے تیرا.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/poems/4/106/hamd-bari-tala</link>
        <pubDate>Mon, 08 Aug 2011 09:36:24 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Poems - اسکول </title>
<description>علم و دانش کا ہے نشاں&amp;lsquo; اسکول آگہی کا ہے گلستاں، اسکول تیرگی میں چراغ ہے اسکول علم و حکمت کا باغ ہے اسکول پھول کھلتے ہیں آگہی کے یہاں گل مہکتے ہیں دل دہی کے یہاں گوہر علم کا یہ مخزن ہے درس و تدریس کا یہ گلشن ہے مرکز علم ہے یہ سب کے لیے ہے ادب گاہ، باادب کے لیے ساری دنیا میں نام ہے اس کا دہر میں فیض عام ہے اس کا جو یہاں آکے فیض پاتے ہیں روشنی بن کے جگمگاتے ہیں.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/poems/9/105/school</link>
        <pubDate>Mon, 31 Jan 2011 10:13:53 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Poems - قدرت مہربان ہوگی </title>
<description>جسے بھی زیست کی پہچان ہوگی مسرت اس کے گھر مہمان ہوگی پریشان حال لوگوں کی مدد کر تری مشکل بھی پھر آسان ہوگی خرد سے کام لے تحفہ سمجھ کر وگرنہ ہر خوشی بے جان ہوگی ملی ہو ماں سے اچھی تربیت جو وہ بیٹی باپ کی پہچان ہوگی جہاں انصاف کی باتیں نہ ہوں گی وہ بستی ایک دن ویران ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قربان محسن جو مانگی جان تو قربانی ہوگی.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/poems/4/104/qudrat-muhrban-hogi</link>
        <pubDate>Tue, 04 Jan 2011 10:24:52 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Poems - حمزہ کی گیند </title>
<description>بہت پیاری پیاری ہے حمزہ کی گیند کھلونا ہے بچوں کا ننھی سی گیند   ادھر سے ادھر پھینکتے ہیں اسے کبھی گیند کو ماریں وہ پاﺅں سے   اچھلتی ہے پھینکو زمیں پر اگر لپکتے ہیں گڈو اسے دیکھ کر   اچھالیں کبھی اونچا سب گیند کو اسے جو بھی دیکھو وہ مسرور ہو   جدھر گیند جاتی ہے جاتے ہیں سب ضیا کس قدر غل مچاتے ہیں سب   سنو عائشہ، زین، حمزہ، سہیل ضروری پڑھائی کے ہے ساتھ کھیل.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/poems/9/103/hamzas-ball</link>
        <pubDate>Thu, 13 Oct 2011 09:07:41 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Jokes - تیاری </title>
<description>ایک طالب علم نے اپنے ساتھی سے کہا۔بھئی پیپرز کب ہورہے ہیں۔دوست نے جواب دیا، یکم جنوری سے۔کوئی تیار بھی کی ہے۔ہاں، ایک نیا قلم خریدا ہے، نئے کپڑے سلوائے ہیں، نیا جوتا اور نئی گھڑی خریدی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/jokes/11/84/tayari</link>
        <pubDate>Wed, 07 Dec 2011 11:29:59 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Jokes - بتیسی </title>
<description>پارک میں ایک بڑے میاں زمین پر کچھ تلاش کررہے تھے، اتنے میں ایک لڑکا آیا اور بولا، انکل آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔بڑے میاں بولے۔ میری چاکلیٹ یہاں کہیں گر گئی ہے، وہ تلاش کررہا ہوں۔لڑکے نے اپنی جیب سے ایک چاکلیٹ کا پیکٹ ازراہ ہمدردی ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ چھوڑیں یہ نئی چاکلیٹ کھائیں۔بڑے میاں بولے، برخوردار، دراصل اس چاکلیٹ کے ساتھ میری بتیسی بھی چپکی ہوئی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/jokes/14/83/batisi</link>
        <pubDate>Mon, 04 Jul 2011 10:59:44 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Jokes - پیپرز </title>
<description>ایک طالب علم نے اپنے ساتھی سے کہا۔بھئی پیپرز کب ہورہے ہیں۔دوست نے جواب دیا، یکم جولائی سے۔کوئی تیار بھی کی ہے۔ہاں، ایک نیا قلم خریدا ہے، نئے کپڑے سلوائے ہیں، نیا جوتا اور نئی گھڑی خریدی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/jokes/14/82/papers</link>
        <pubDate>Thu, 30 Jun 2011 12:03:50 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Jokes - سریلی آواز </title>
<description>ایک آدمی کی آواز بڑی بھاری تھی، مگر وہ اپنے آپ کو بہت بڑا گلوکار سمجھتا تھا، ایک دن ترنگ میں آکر اس نے گانا شروع کردیا تو ایک کمار دوڑتا ہوا آیا اور بولا، میر اگدھا کہاں ہے۔کون سا گدھا۔یہی جو ابھی ابھی یہاں رینک رہا تھا، میں نے ابھی ابھی اس کی آواز سنی تھی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/jokes/14/81/surili-awaz</link>
        <pubDate>Thu, 30 Jun 2011 11:55:28 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Jokes - دو ہزار </title>
<description>پہلا آدمی، بھئی آج طبیعت ٹھیک نہیں، ہر چیز دو نظر آرہی ہیں۔دوسرا آدمی ایک ہزار کا نوٹ دیتے ہوئے بولا، یہ لو دو ہزار روپے جو میں نے تم سے ادھار لیے تھے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/jokes/14/80/2-hazar</link>
        <pubDate>Fri, 27 May 2011 10:53:15 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Countries - آسٹریلیا </title>
<description>لفظ آسٹریلیا لاطینی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب جنوبی علاقہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کے کچھ جزائر بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں بھی واقع ہیں۔ انڈونیشیا مشرقی تیمور اور نیوزی لینڈ اس سرزمین کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ انیس سو ایک میں چھ خطوں پر مشتمل حکومتوںنے باہم مل جانے کا فیصلہ کیا اور یوں دولت ہائے مشترکہ آسٹریلیا وجود میں آئی۔ یہاں آزاد جمہوری سیاسی نظام ہے جس کے تحت ان چھ علاقوں کے عوام ایک ہی نام سے دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔آسٹریلیا کی آبادی کم و بیش دو کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ کنبرا ملک کا دارالحکومت جب کہ سڈنی سب سے بڑا تجارتی شہر ہے۔ آسٹریلیا کو کھیلوں میں ایک مقام حاصل ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم اب تک چار مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکی ہے، جبکہ دو ہزار دس میں ہاکی کا عالمی چیمپئن بھی آسٹریلیا ہے۔ یہ ایک کثیر القومی مملکت ہے جس میں متعدد قبائل کے لوگ صدیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ یہ سرزمین زیادہ تر نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے کہیں کہیں وسیع جنگلات بھی ہیں۔ بیسویں صدر کے وسط سے اس خطہ کی تہذیب امریکا کے زیر اثر ہے، صدیوں قبل اس خطے کو جنوب مشرقی ایشیا سے آئے ہوئے ماہی گیروں نے آباد کیا۔ یہ بنیادی طور پر شکاری لوگ تھے۔ بعد کے آنے والے دنوں میں ڈچ اور برطانوی سیاحوں نے بھی یہاں پڑاﺅ ڈالے اور کچھ نے یہاں اپنا سکہ جمانے کی کوشش کی۔ انیس سو اسی کے بعد آسٹریلیا نے پورپیوں کے ساتھ ساتھ باسیان ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والوں کو بھی اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آسٹریلیا کی مملکت دنیا بھر کی تہذیبوں، مذاہب ار مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کی آماجگاہ بن گئی۔ آسٹریلیا کا سرکاری مذہب کوئی نہیں۔ اسکول کی تعلیم پورے آسٹریلیا میں لازمی ہے جس کا دورانیہ چھ سے سولہ سال کی عمر تک ہے، اسی کے باعث یہاں کی شرح خواندگی ننانوے فیصد تک جاپہنچی ہے، یہاں اڑتیس کی تعداد میں سرکاری جامعات ہیں اور بہت سارے نجی جاداروں کے تحت چلنے والی جامعات ہیں اور بہت سارے نجی اداروں کے تحت چلنے والی جامعات بھی قائم ہیں جبکہ یہاں کی حکومت سرکاری اور نجی تمام جامعات کو اپنی طرف سے بھرپور مالی امداد مہیا کرتی ہے تاکہ تعلیم کا سلسلہ رکنے نہ پائے۔ حکومت نے فنی تعلیم پر بھی بے پناہ سرمایہ خرچ کیا ہے چنانچہ ایک سروے کے مطابق اٹھاون فیصد آسٹریلوی باشندے فنی تعلیم سے آراستہ ہیں اور یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آسٹریلیا دنیا کا سب سے زیادہ کوئلہ برآمد کرنے والا ملک ہے اس کے علاوہ یہاں پیٹرولیم، سونا، چاندی اور کاپر جیسی دھاتیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ بانوے فیصد سفید نسل کے لوگ اور ساتھ فیصد ایشیائی آباد ہیں۔ ایک فیصد کچھ اور نسلوں کے لوگ بھی ملتے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/countries/1/27/australia</link>
        <pubDate>Thu, 08 Dec 2011 09:42:37 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Countries - الجزائر </title>
<description>اگر افریقا کے بڑے شہروں کو مرتب کیا جائے تو یقینا الجزائر ہی وہ شہر ہے جسے آبادی کے اعتبار سے افریقا کے بڑے شہروں پر سبقت حاصل ہے۔ یہ جمہوریہ الجزائر کا نہ صرف دارالحکومت ہے بلکہ ملک کا سب سے بڑا اہم صنعتی و تجارتی مرکز بھی ہے، یہ بحیرہ روم کے ساحل پر ملک کے شمال میں واقع ہے، اسی وجہ سے یہاں گرمیوں میں سخت گرمی جبکہ سردیوں میں بارش کی وجہ سے موسم معتدل رہتا ہے، یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور عربی یہاں کی مقامی زبان ہے، کہا جاتا ہے کہ بربروں نے دسویں صدی عیسوی میں اس شہر کی بنیاد رکھی جس کے بعد پندرہ سو اٹھارہ میں ترکی کے مشہور امیر البحر خیر الدین بار بروسہ نے یہاں پر ترک حکومت قائم کی۔ خیر الدین باربروسہ کے دور اقتدار میں اس شہر نے خوب ترقی کی اور اس کا شمار افریقا کے ترقی یافتہ شہروں میں ہونے لگا، اٹھارہ سو تیس میں اس شہر پر فرانسیسیوں نے حملہ کرکے اسے فوجی چھاﺅنیوں میں تبدیل کردیا۔ یہاں کے باشندوں کی مسلسل جدوجہد کے باعث انیس سو پچاس میں اس شہر کو فرانسیسیوں کے تسلط سے آزادی ملی اور بالآخر انیس سو باسٹھ میں اس کی آزاد حیثیت کو تسلیم کرلیا گیا۔ یہ شہر قدیم اور تاریخی ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے، آج یہ شہر دو حصوںمیں تقسیم ہے قدیم شہر جو کہ پہاڑیوں پر آباد ہے جہاں پر قدیم طرز کی متعدد عمارتیں موجود ہیں جبکہ جدید شہر خوبصورت ہوائی اڈے، عالیشان عمارتوں، پختہ سڑکوں، دلکش ریسٹورینٹ اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں پر مشتمل ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/countries/1/26/al-jazair</link>
        <pubDate>Thu, 19 May 2011 09:12:52 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Countries - سینیگال </title>
<description>سینیگال میں فرانسیسی&amp;lsquo; ٹکولاس، سیرا اور دولف لینگویج زبان زد عام ہے۔ اس کے پرچم پر سبز&amp;lsquo; زرد اور سرخ رنگوں کی تین عمودی پٹیوں کے درمیان میں سبز رنگ کا ستارہ بنا ہوا ہے۔ یہاں کی کرنسی بھی فرانک کہلاتی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/countries/1/25/senegal</link>
        <pubDate>Tue, 22 Feb 2011 10:33:14 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Countries - کوالالمپور </title>
<description>اگر آپ کو دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے خوبصورت عمارت دیکھنے کا شوق ہو تو ملائیشیا کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر کوالالمپور جاسکتے ہیں۔ جی ہاں! کوالالمپور ہی وہ شہر ہے جہاں دنیا کی بلند ترین عمارت پیٹرونس ٹاور موجود ہے، ویسے تو یہ شہر اپنی خوبصورتی اور شاداب مقامات میں جواب نہیں رکھتا مگر پھر بھی یہاں کی سیاحت کرنے والے اس کی ثقافت، عوام کا طرز عمل، شاپنگ پلازہ اور پیٹرونس ٹاور کو دیکھ کر محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہاں کی قومی مسجد شہر کی خوبصورتی کا اہم جز ہے جبکہ یہاں کے قومی عجائب گھر میں دنیا بھر سے لائے گئے نادر نمونے محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہیں داتران مردیکا نامی تاریخی چوک ہے جہاں ملائیشیا کی عوام نے انیس سو ستاون میں برطانیہ سے آزادی ملنے پر ملائیشیا کا پرچم لہرایا تھا۔ اگرچہ یہ ملائیشیا کا دارالحکومت ہے مگر یہاں ملائی، چینی، ہندوستانی اور یورپ سے تعلق ر کھنے والے باشندے کثرت سے پائے جاتے ہیں جبکہ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ کوالالمپور ملائیشیا کا نہ صرف خوبصورت شہر ہے بلکہ یہ ملائیشیا کا سب سے بڑا مالیاتی مرکز بھی ہے یہاں دنیا بھر کے بینکوں نے اپنی شاخیں کھول رکھی ہیں، یہاں کا موسم معتدل رہتا ہے، دن گرم جبکہ راتیں قدرے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اوسطاً درجہ حرارت بائیس سے بتیس درجہ سینٹی گریڈ رہتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/countries/1/23/kuala-lampur</link>
        <pubDate>Wed, 01 Feb 2012 09:45:07 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Countries - سری لنکا </title>
<description>سری لنکا کی زبان سنہالی کہلاتی ہے۔ تامل اور انگریزی بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے پرچم پر زرد رنگ ہے، پرچم کے بائیں طرف دو عمودی پٹیاں باریک سبز اور نارنجی رنگوں میں چاروں جانب ایک سنہری تیر اور یو کی پتیاں بنی ہوئی ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/countries/1/22/srilanka</link>
        <pubDate>Tue, 23 Nov 2010 09:15:24 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Healthtips - دانت اور یادداشت </title>
<description>طبی ماہرین نے کہا ہے کہ دانتوں کی صفائی کا یادداشت سے گہرا تعلق ہے۔ دانتوں مسوڑوں کو صاف رکھنے سے یادداشت کم ہونے کی بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ تحقیق کے دوران مسوڑوں کی بیماریوں اور یادداشت میں کمی کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔ صاف دانت جہاں یادداشت میں کمی کے امکانات کو کم کرتے ہیں وہاں عارضہ قلب کے امکانات کو بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/healthtips/1/7/dant-aur-yadasht</link>
        <pubDate>Fri, 28 Oct 2011 11:27:36 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Healthtips - روزانہ پچیس منٹ کی ورزش سے ہڈیاں مضبوط کریں </title>
<description>طبی ماہرین نے کہا ہے کہ روزنہ پچیس منٹ ورزش یا کھیل کود کا عمل چھوٹے بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بچپن میں ہونے والی مضبوط ہڈیاں آخری عمر تک پائیدار ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین نے اپنی سفارشات میں کم از کم دورانیہ پچیس منٹ لکھا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ دورانیہ ایک سے دو گھنٹے تک مقرر کیا جاسکتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/healthtips/1/6/rozana-25-minute-ki-warzish-say-hadiyan-mazbot-karen</link>
        <pubDate>Thu, 27 Oct 2011 10:50:49 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Healthtips - جنک فوڈ سے بچیں </title>
<description>برگر، پیزا، چپس، آلو کے چپس اور کولڈ ڈرنگ آپ کو غیر فعال اور کمزور بناتے ہیں۔ یہ ابتدائی بیماریوں اور جگر فیل ہونے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/healthtips/1/5/avoid-junk-food</link>
        <pubDate>Tue, 19 Oct 2010 10:23:34 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Healthtips - ہر روز غسل دو مرتبہ کرنا چاہیے </title>
<description>سردیوں میں گرم پانی سے اور گرمیوں میں ٹھنڈے پانی سے دو مرتبہ نہانے سے تھکاوٹ اتارتی ہے اور آپ کا جسم ان فکشن اور جراثیم سے محفوظ رہتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/healthtips/1/4/take-a-bath-twice-a-day-every-day</link>
        <pubDate>Thu, 04 Nov 2010 07:50:46 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Healthtips - ہاتھ دھونا </title>
<description>کھانا کھانے سے قبل اپنے ہاتھ دھو لو کیوں کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں جراثیم ہوتے ہیں جو مختلف چیزوں کو پکڑنے سے لگتے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/healthtips/1/3/wash-your-hands</link>
        <pubDate>Tue, 19 Oct 2010 10:08:25 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Hadiths - پانچ نمازیں </title>
<description>حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا، تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر ہو، جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو کیا ایسے شخص کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا۔ سب نے عرض کی کہ اس پر کسی قسم کا میل باقی نہ رہے گا، آپ نے فرمایا، بس یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کے گناہ معاف کرتا ہے۔ بخاری، کتاب مواقیت الصلوة.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/hadiths/2/51/panch-namazen</link>
        <pubDate>Thu, 13 Jan 2011 09:03:45 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Hadiths - جھوٹ بولنا </title>
<description>آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذئب، سعید مقبری اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صحیح بخاری.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/hadiths/2/50/</link>
        <pubDate>Wed, 18 Aug 2010 09:45:28 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Hadiths - شب قدر </title>
<description>مسلم بن ابراہیم، ہشام، یحیی بن ابی سلمہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اسکے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ صحیح بخاری.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/hadiths/2/49/</link>
        <pubDate>Wed, 18 Aug 2010 09:30:04 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Hadiths - باب الریان </title>
<description>خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، ابوحازم، سہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کوباب الریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے روزے دار ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا صحیح بخاری.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/hadiths/2/48/</link>
        <pubDate>Wed, 18 Aug 2010 09:28:01 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Hadiths - روزہ دار </title>
<description>عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔ صحیح بخاری.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/hadiths/2/47/</link>
        <pubDate>Wed, 18 Aug 2010 09:24:55 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Discoveries - کونین </title>
<description>کونین سولہویں صدی میں یورپی باشندوں نے استعمال کی۔ اس زمانے میں ملیریا نہایت موذی مرض تھا جس کا کوئی علاج نہیں تھا، لیکن قدرت کی طرف سے اس کے علاج کا بندوبست ہوگیا اور کونین دریافت ہوئی، ہوا یوں کہ ایک شخص جو ملیریا کا شکار ہوچکا تھا، جنوبی امریکا کے جنگوں میں ایک جوہڑ کا پانی پیا جس میں کونین کے درخت گرے ہوئے تھے۔ اس کا ملیریا کا بخار اتر گیا اور پھر یہی پتے کونین کہلائے جو آج تک ملیریا کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/discoveries/5/40/conen</link>
        <pubDate>Wed, 13 Apr 2011 09:01:42 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Discoveries - اسٹین لیس اسٹیل </title>
<description>اسٹین لیس اسٹیل کو زنگ نہیں لگتا اور یہ برتنوں وغیرہ اور دوسری کئی اشیاءمیں استعمال ہوتا ہے، اس کی دریافت حادثاتی طور پر 1913ءمیں ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ اسٹیل کے کچھ ٹکڑے تجربات کرنے کے بعد پھینک دیے گئے لیکن راہ چلتے کسی نے یہ دیکھا کہ ابھی کچھ ٹکڑے ویسے ہی چمکدار اور اجلے ہیں، ان ٹکڑوں کی جانچ کی گئی اور پھر یہ اسٹین لیس اسٹیل کے پہلے ٹکڑے تھے جو دریافت ہوئے، اس طرح لوہے میں دوسری دھاتوں کے بھرت سے اسٹین لیس اسٹیل بننے لگا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/discoveries/5/39/stain-less-steel</link>
        <pubDate>Fri, 11 Feb 2011 09:59:02 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Discoveries - نئی دریافت۔۔۔۔ بندر </title>
<description>نئی دریافت میں 637 پودے، 257 مچھلیاں، 216 زمینی اور بحری دونوں زندگی کے عادی حیوانات، پچپن رینگنے والے، سولہ پرندوں کی اقسام، اور بشمول اس بندر کے انتالیس قسم کے میمل جاندار شامل ہیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/discoveries/8/38/monkey</link>
        <pubDate>Fri, 11 Feb 2011 09:59:21 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Discoveries - دوسرے قسم کی ڈولفن </title>
<description>اٹھارہ سو چھتیس میں اس کی دریافت کے بعد اسے ایمیزن کا ڈولفن یا پنک ریور ڈولفن بھی کہا جاتا تھا، لیکن دوہزار چھ میں پائے گئے اس حیوان کو سائنس دانوں نے اسے دوسرے قسم کی ڈولفن بتایا ہے جو بولیویا میں پایا جاتی ہے، یعنی یہ مختلف جانور ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/discoveries/8/37/dolphin</link>
        <pubDate>Fri, 11 Feb 2011 09:59:32 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Discoveries - پیروکے ترائی علاقوں کا مینڈک </title>
<description>رنگین اقسام کے مینڈکوں میں سے یہ نسل پیرو کے ترائی علاقے میں پائی جاتی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/discoveries/8/36/frog</link>
        <pubDate>Fri, 11 Feb 2011 09:59:45 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Diduknowcontents - مشکل زبان </title>
<description>دنیا کی سب سے مشکل زبان چینی زبان ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/diduknowcontents/6/126/mushkil-zuban</link>
        <pubDate>Wed, 01 Feb 2012 09:50:37 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Diduknowcontents - خرگوش </title>
<description>خرگوش کی اوسط رفتار پینتیس میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/diduknowcontents/8/125/khargosh</link>
        <pubDate>Wed, 01 Feb 2012 09:49:49 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Diduknowcontents - سب سے بڑا ائیر کنڈیشنڈ </title>
<description>دنیا کا سب سے بڑا ائیر کنڈیشنڈ نظام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/diduknowcontents/6/124/sab-say-bara-air-condition</link>
        <pubDate>Mon, 23 Jan 2012 11:09:46 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Diduknowcontents - دنیا کا ذہین ترین کتا </title>
<description>آسٹریلیا میں ایک شخص کے پاس ایسا پالتو کتا موجود ہے، جسے دنیا کا ذہین ترین کتا کہا جارہا ہے، رپورٹ کے مطابق بیسٹی نامی اس کتے کو دنیا کا ذہین ترین کتا اس لیے کہا جارہا ہے کہ اس کو تقریباً تین سو بیس الفاظ یاد ہیں، جب کہ عام طور پر کتے کم و بیش پندرہ الفاظ یاد رکھ سکتے ہیں، اس کتے میں یہ قدرتی صلاحیت بھی موجود ہے کہ وہ صرف ایک بار دیکھی ہوئی تصویر یا انسان کو باآسانی ذہن نشین کرلیتا ہے اور طویل عرصے بعد دیکھ کر پہچاننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/diduknowcontents/8/123/duniya-ka-zahen-tareen-kutta</link>
        <pubDate>Mon, 23 Jan 2012 11:05:40 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Diduknowcontents - بلند ترین عمارت </title>
<description>امریکا کی بلند ترین عمارت سیرز ٹاور کا ڈیزائن ایک پاکستان آرکیٹیکچر نے تیار کیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/diduknowcontents/6/122/buland-taren-emarat</link>
        <pubDate>Fri, 06 Jan 2012 09:10:52 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Personalities - وکٹر ہیوگو </title>
<description>اس میں شک نہیں کہ ہیوگو نے "لامزراہل" جیسے ناولوں سے بھی بڑی شہرت حاصل کی، لیکن اصل میں اس کی شاعری کا ادبی اثر بہت قوی اور وسیع تھا جس سے ویرلان، بودلیر اور رمبائو جیسے مختلف شاعرمتاثر ہوئے۔ 1830 سے 1845 تک اس نے ناول شاعری اور ڈراما میں بڑا نام پیدا کیا۔ پھر اس نے سیاسیات کی طرف توجہ کی، جب نپولین ثالث ڈکٹیٹر بنا تو ہیوگو کو جلا وطن کردیا گیا۔ یہ جلا وطنی اٹھارہ سال تک رہی ہیوگو گورنسی کے جزیرے میں اپنی اس مظلومی میں بھی مزے اڑاتا رہا۔ 1870 میں جب دوبارہ جمہوریت قائم ہوئی تو ہیوگو پیرس واپس آیا اور آخری پندرہ سال انتہائی کامیابی اور کامرانی سے گزارے۔ اس کی ادبی شہرت دنیا بھر میں پھیل گئی اور لوگ اس سے بے حد محبت کرنے لگے۔ہیوگو زبان اور وزن و بحر کا بہت بڑا ماہر تھا لیکن آج کل کےنقادوں کی رائے یہ ہے کہ اس میں وہ اعلیٰ کردار اور دماغی قابلیت نہ تھی جو کسی غیر فانی مصنف کے لیے ضروری ہے، لیکن اپنے زمانے میں وہ ایک ادبی قوت تھا جس کی اہمیت کم نہیں کی جاسکتی۔ ہیوگو 22 مئی 1885 کو وفات پاگیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/personalities/4/93/</link>
        <pubDate>Tue, 16 Feb 2010 08:28:00 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Personalities - ہینی بال </title>
<description>اگرچہ دوسری" پیونک وار" 219 سے 201 ق م کا خاتمہ رومہ کی فتح پر ہوا لیکن اس کے باوجود کار تھیج کے کماندار ہینی بال کو دائمی فوجی عظمت حاصل ہوگئی۔ رومی افواج کی کثرت اور رسد کے راستے خطرے میں ہونے کے باوجود ہینی بال سولہ سال تک شمالی اٹلی پر قابض رہا۔اس نے اپنے چھوٹے بھائی ہسدرو بال کو ہسپانیہ پر قابض رہنے کے لیے چھوڑا اور خود دریائے رہون پر رومیوں کو بے وقوف بنا کر لڑے بھڑے بغیر کوہ الپس کو عبور کرکے شمالی اٹلی میں داخل ہوگیا۔ لیکن اس پہاڑی یلغار کے دوران میں اسے کافی نقصان بھی پہنچا، آخر فتح پر فتح حاصل کرتا ہوا وہ پورے شمالی اٹلی پر قابض ہوگیا۔اب مشہور رومن جرنیل فیبی آس نے رومیوں کی کمان ہاتھ میں لی۔ وہ گھمسان کی جنگ سے ہمیشہ پرہیز کرتا تھا، کیوں کہ ایسی لڑائیوں میں ہینی بال ہمیشہ فتح پاجاتا تھا۔ اس طرح ہینی بال کی طاقت رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی اور جب اس کا بھائی ہسپانیہ سے امدادی فوج لے کر آیا تو رومیوں نے اس کو شکست دے دی اور میتارس کے مقام پر اس کو قتل کردیا۔ رومن برابر ہینی بال کو پیچھے ہٹاتے چلے گئے، یہاں تک کہ 202 قبل مسیح میں افریقا کے مقام زاما ریجیو پر ہینی بال کو شکست ہوگئی اور کارتھیج نے ہتھیار ڈال دیے۔ہینی بال رومہ پر دوبارہ حملے کے لیے کارتھیج کی طاقت کا اضافہ کرتا رہا لیکن رومیوں کو اس کے منصوبے کا پتا چل گیا اور ہینی بال شہر بہ شہر بھاگتا پھرا۔ آخر بتھینیا کے مقام پر وہ گھر گیا اور زہر کھا کر مر گیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/personalities/4/92/</link>
        <pubDate>Tue, 16 Feb 2010 08:26:08 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Personalities - ہومر </title>
<description>یورپ کی ادبیات میں دو کلاسیکی نظمیں سب سے مشہور ہیں۔ الیئڈ اور اوڈیسے۔ یہ نظمیں تو خوب ہیں لیکن ان کا لکھنے والا کون ہے، یہ کچھ معلوم نہیں، ہومر کا نام محض فرضی ہے اور اس کے متعلق ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔ہیروڈوٹس کا خیال یہ ہے کہ ہومر 850 ق م کے لگ بھگ زندہ تھا، لیکن دوسرے اہل علم اس تاریخ کو بارہ سو قبل مسیح تک کھینچ لے جاتے ہیں۔ قدیم یونان میں بھی ہومر کےمتعلق بعض افسانے موجود تھے اور سات شہر اس کو اپنا باشندہ بتاتے تھے۔ ایتھنز، ارگوس، چیوس، کولو فون، رہوڈز، سلامیس اور سمرنا۔ روایت یہ ہے کہ وہ اپنی عمر کے دوسرے حصے میں ایک اندھا شاعر تھا۔ بستی بستی گھومتا پھرتا تھا، لوگوں کو اپنے شعر گا کر سناتا تھا اور اس طرح روٹی کماتا تھا۔ہومر کا کلام دنیا کی تمام مہذب زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ انگریزی نظم میں کائوپر اور پوپ نے جو ترجمہ کیا، وہ بہت مشہور ہے، لیکن ہومر کے خاص آہنگ اور لطافت کو انگریزی نظم میں پیش کرنا اس قدر مشکل ہے کہ نثر میں ترجمہ کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/personalities/4/91/</link>
        <pubDate>Tue, 16 Feb 2010 08:22:27 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Personalities - ایچ جی ویلز </title>
<description>ویلز نے انگریزی ادبیات میں یوں تو رنگا رنگ اضافے کیے  لیکن اس کی ساری تصنیفات میں بہترین کتاب آئوٹ لائن آف ہسٹری ہے جس میں اس نے پرانے مورخین کے خشک اور بے رنگ انداز کو چھوڑ کر دنیا کے تمام تاریخی واقعات کو اس قدر دلکشی سے لکھا ہے کہ بے اختیار پڑھنے کو جی چاہتا ہے، اس نے بے شمار موضوعات پر قلم اٹھایا، مثلاً سائنس کے خیالی ناول لکھے جیسے ٹائم مشین۔ 21 ستمبر 1866 کو ایچ جی ویلز کینٹ میں پیدا ہوا۔ جب ذرا ہوشیار ہوا تو ایک درزی کے ہاں شاگرد کے طور پر بٹھادیا گیا، لیکن وہاں طرف دو سال بیٹھ سکا، پھر پڑھنے لگا۔اس کی کتاب ٹائم مشین 1895 میں شائع ہوئی۔ اگرچہ اس کا رنگ فرانسیسی مصنف ژوے ورن کی کتابوں سے ملتا ہے لیکن ویلز کو معاشرتی اور اقتصادی معاملات سے ایسا شغف تھا کہ مستقبل کے متعلق اس کی پیش بینی ورن سے بالکل مختلف تھی۔ اسی قسم کی ایک اور خیالی کتاب وار آف دی ورلڈ 1898 میں شائع ہوئی جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ مریخ کے باشندوں نے کرہ ارض پر حملہ کردیا ہے۔ کئی سال بعد جب یہی ناول ریڈیو پر پیش کیا گیا تو شمالی اور جنوبی امریکا میں بہت بھاگڑ مچی اور بے حد سنسنی پھیلی، کیوں کہ سننے والوں نے یہ سمجھ لیا کہ مریخ والوں نے سچ مچ زمین پر حملہ کردیا۔ ویلز نے 13 اگست 1946 کو انتقال کیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/personalities/4/90/</link>
        <pubDate>Tue, 16 Feb 2010 08:21:14 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Personalities - جارج واشنگٹن </title>
<description>امریکا کے سب لوگ جارج واشنگٹن کو بہت بڑا سپاہی اور بہت بڑا مدبر مانتے ہیں۔ 1732 میں پیدا ہوا۔ وہ آغاز ہی سے تحریک آزادی کا حامی تھا، چنانچہ جنگ آزادی شروع ہونے کے بعد جلد ہی نو آبادیوں کی فوج کا کماندار مقرر ہوگیا۔ اس کے بعد ٹرینٹن اور پرنسٹن کے مقامات پر فتوحات ہوئیں۔ نیو یارک، مون متھ کے مقامات پر شکستیں ہوئیں۔ کانگریس کے ساتھ جھگڑے ہوئے، اس کی فوج میں خوراک اور روپے کی قلت ہوگئی، ماتحت افسروں نے غداری کی اور عام لوگ ایک طویل جنگ سے تنگ آگئے، اس تمام واقعات نے واشنگٹن کے عزم کو زیادہ پختہ کردیا۔ آخر فرانسیسیوں کی مدد اور اپنی بے نظیر فوجی ہنرمندی کی وجہ سے اکتوبر 1781 میں اس نے یارک ٹائون میں کارنوالس سے ہتھیار رکھوالیے۔اپریل 1790میں وہ امریکا کا صدر منتخب ہوا اور دوسری دفعہ پھر قوم نے اسی کو چنا اور وہ ملک بھر میں اعلیٰ درجے کا سیاسی مدبر تسلیم کیا گیا۔دو سال بعد دسمبر1799 میں واشنگٹن کا انتقال ہوگیا۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/personalities/4/89/</link>
        <pubDate>Tue, 16 Feb 2010 08:19:13 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Articles - مکہ مکرمہ </title>
<description>دنیا کا قدیم ترین شہر، کرہ ارض کا مرکز اور دنیا کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے اسلامی انقلاب کا مقدر بننے والی یہ سرزمین مکہ مکرمہ جو کہ سعودی عرب کا اہم شہر اور عالم اسلام کا سب سے بڑا روحانی اور مقدس مرکز و منبر ہے، اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی کل آبادی دس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ شہر سطح بحر سے دو سو ستتر میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ شہر گرم و خشک ہے۔اس شہر میں جنت المعلی (صحابہ کرام کا مدفن) اور مشہور مساجد مسجد طوبی اور مسجد جن بھی واقع ہیں۔ صفا اور مروہ سے باہر کھڑے ہو کر پہاڑی کی جانب دیکھیں تو سفید رنگ کا چھوٹا سا مکان نظر آئے گا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقام پیدائش ہے، کوہ حرا جسے جبل نور بھی کہا جاتا ہے۔ یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل اعتکاف فرمایا تھا۔تعلیمی اعتبار سے مکہ مکرمہ ایک ترقی یافتہ شہر ہے جہاں متعدد جامعات قائم ہیں جن میں سرفہرست نام شریعہ یونیورسٹی ہے جو کا قیام انیس سو اننچاس میں عمل میں آیا جبکہ ایجوکیشن یونیورسٹی بھی قابل ذکر ہے جہاں بیرون ملک سے بھی طلباءمستفید ہوتے ہیں۔مکہ مکرمہ سے بذریعہ سڑک آپ طائف، ریاض، جدہ اور مدینہ جاسکتے ہیں، شہر میں ٹیکسیاں، بسیں اور سرکلر ریلوے رواں دواں ہیں، حج کے زمانے میں ہر سال لاکھوں مسلمان بیت اللہ کی زیارت کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں، اس کے باوجود بھی یہاں کا شہری انتظام قابل تعریف ہوتا ہے، آج بھی یہ سرزمین مسلمانوں کے ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/articles/3/36/makkah-mukarama</link>
        <pubDate>Wed, 28 Sep 2011 09:42:17 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Articles - میرا پہلا روزہ </title>
<description>میرا نام سعدین ہے اور یہ کہانی میرے اور میرے بہن &amp;lsquo; بھائی کے پہلے روزے کی ہے، میں اس وقت8 سال تھا اور میرے بھائی اور بہن مجھے سے بڑے تھے۔ پہلے رمضان کو ہم لوگوں کی روزہ کشائی تھی اور امی، ابو نے سب مہمانوں کو دعوت دی تھی کہ آج ہمارے بچوں کی روزہ کشائی ہے۔ عمر کے لحاظ سے میں بہت چھوٹا تھا لہٰذا امی ابو نے مجھے منع بھی کیا کہ آپ روزہ نہ رکھیں لیکن میں نے پھر بھی ضد کرکے روزہ رکھ لیا۔ اب شروع کرتے ہیں سحری سے، ویسے تو میں ہر سحری میں ہی اٹھتا تھا پر اس بار تو روزہ رکھنا تھا اس لیے سویاں&amp;lsquo; پراٹھا بھی خوب کھایا اور دودھ اور پانی بھی زیادہ پیا اور نماز &amp;lsquo; قرآن پاک کی تلاوت کرکے سو گئے۔ اب جو ہم صبح اٹھے تو گلا خشک ہورہا تھا لیکن کیا کرتے روزہ جو رکھا تھا برداشت کیا لیکن پھر دو گھنٹے بعد بھوک بھی شدت کی لگنا شروع ہوگئی اور اسی بے چینی میں ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا تو ہم ابو اور بھائی کے ساتھ نماز پڑھنے چلے گئے، جب نماز پڑھ کے آئے تو امی ہماری حالت دیکھ کر سمجھ گئیں کہ ہمیں بھوک اور پیاس لگ رہی ہے تو امی نے میری کزن کے کان میں کچھ کہا جو میں سن نہ سکا۔ کچھ دیر بعد میری کزن میرے پاس سویاں لے کر آئیں جو کہ سحری کی بچی ہوئی تھیں اور کہا کہ یہ کھالو، پر ہم نے صاف انکار کردیا کہ ہم تو روزے سے ہیں۔ اس پر ہماری کزن نے کہا کہ سحری کی بچی ہوئی چیزیں کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا لہٰذا تم اس کو کھالو اس طرح تمہاری بھوک اور پیاس کم ہوجائے گی۔ پہلے تو ہم سوچتے رہے اور پھر کھانے کا فیصلہ کرکے سویاں کھالیں۔ بس ہمارے کھانے کی دیر تھی کہ سب نے کہا کہ اب تو تمہارا روزہ ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا اور ہم زار و قطار رونے لگے۔ پھر امی اور ابو نے ہمیں منایا اور اس طرح ہمارا روتے دھوتے پورا دن گزرا۔ تو یہ تھا میرا پہلا روزہ۔ آپ اپنی رائے سے مجھے ضرور آگاہ کیجیے۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/articles/5/35/mera-pehla-roza</link>
        <pubDate>Fri, 05 Aug 2011 10:33:43 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Articles - شارک </title>
<description>کرہ ارض پر کروڑوں قسم کے جانور پائے جاتے ہیں&amp;lsquo; سائنسی ترقی کی بدولت اب انسان ان جانوروں کی اقسام پر تحقیق کررہا ہے اور جوں جوں انسانی تحقیق کا دائرہ پھیل رہا ہے، ایسے ایسے جاندار سامنے آرہے ہیں، جن کے بارے میں انسان پہلے کچھ نہیں جانتا تھا، تاہم کچھ جاندار ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں انسان صدیوں سے جانتا ہے، اس کی وجہ ان جانداروں کی کچھ خصوصیات ہیں جو انہیں دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں مثلاً ان کا ڈر، خوف، وحشت، خوبصورتی اور اس طرح دیگر منفرد خصوصیات۔انہی جانداروں میں سے ایک آبی مخلوق شارک بھی ہے جس کا غصہ، خطرناک روپ اور جسامت ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے، شارک دنیا میں پائی جانے والی مچھلیوں میں سب سے بڑی مچھلی ہے جو تقریباً دنیا کے تمام سمندروں میں پائی جاتی ہے، لیکن عام طور پر اس کو گرم پانیوںمیں دیکھا گیا ہے، اب تک شارک مچھلی کی تین سو ساٹھ اقسام دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے صرف چند ایک ہی خطرناک ہیں لیکن دیکھنے میں ان کی تمام اقسام ہی ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں اور ان کی ہیبت انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔شارک مچھلی کی جسامت کا انحصار ان کی اقسام پر ہوتا ہے، وہیل شارک تقریباً 60 فٹ لمبی ہوتی ہے جبکہ باکسنگ شارک کی لمبائی تقریباً 45 فٹ تک ہوتی ہے، دیگر تمام اقسام کی شارک جسامت میں ان دونوں سے چھوٹی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں طویل جثہ شارک خطرناک نہیں ہوتیں اور نہ یہ گوشت خور ہوتی ہیں۔شارک کا وزن بھی ان کی اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، ایک بڑی شارک کا وزن سات ٹن ہوسکتا ہے، مختلف اقسام کی شارک کی خوراک بھی مختلف ہوتی ہے، ان میں سے بعض صرف آبی پودے کھاتی ہیں جبکہ بعض دوسرے آبی جانوروں کو بھی اپنی خوراک بنالیتی ہیں، یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ بہت کم اقسام کی شارک ایسی ہوتی ہیں جو انسانوں کو اپنی خوراک بناتی ہیں، ان میں ٹائیگر شارک، گریٹ وائٹ شارک، ٹپ شارک اور مارل شارک شامل ہیں۔شارک کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں، کچھ دیکھنے میں سانپ کی طرح معلوم ہوتی ہیں تو کچھ کا سر ان کی جسامت کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے، کچھ کی ناک بہت لمبی اور نوکیلی ہوتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ شارک کا منہ ان کی رفتار بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، عام طور پر شارک کی تیرنے کی رفتار 4 سے 8 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، لیکن مارل شارک 64 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تیر سکتی ہے۔ایک شارک کے منہ میں ہزاروں دانت ہوتے ہیں جو مختلف قطاروں میں جبڑے سے منسلک ہوتے ہیں، یہ تعداد میں بہت زیادہ اور لمبے ہوتے ہیں، اب تک شارک کے فوسلز میں سب سے زیادہ اس کے دانت ہی ملے ہیں جس میں سے چند تو 410 ملین سال پرانے ہیں،زیادہ دانتوں کے فوسلز ملنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ شارک جب کسی کوکاٹتی ہے تو اپنے دانتوں کو شکار کے جسم میں بہت سختی سے گھسادیتی ہے اور بعد میں اس میں سے بہت سے دانت الگ ہو کر شکار کے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے شارک اپنی زندگی میں تقریباً چار ہزار دانت اس طرح نکال دیتی ہے۔شارک میں انسانوں کی طرح پانچ حسیں ہوتی ہیں مگر اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ آدھے کلو میٹر کے اندر خون کے ایک قطرے کی بھی بو سونگھ سکتی ہے، اس لیے زخمی جاندار بڑی آسانی سے شارک کا شکار بن جاتے ہیں، اس کی یہی حس اسے شکار کی تلاش میں مدد دیتی ہے، شارک میں چھٹی حس بھی ہوتی ہے جو اسے برقی رو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شارک کا غصہ بہت تیز ہوتا ہے، غصے اور بھوک میں یہ کچھ بھی کرسکتی ہے، ایسی حالت میں اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ بھوکی شارک آسانی سے چھوٹی کشتی کے ٹکڑے ٹکڑے کرسکتی ہے، کچھ عرصے قبل غصے میں بپھری ایک شارک نے اٹلانٹک میں فائبر آپٹکس (انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی مضبوط تار) کاٹ دی تھی جس سے ڈھائی لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔آپ کو یہ بات سن کر حیرت ہوگی کہ انسان کینسر جیسے موذی مرض سے بچاﺅ کے لیے شارک کے جسم پر تحقیق کررہا ہے، کیوں کہ شارک ایک ایسی آبی مخلوق ہے جسے کینسر نہیں ہوتا، اس لیے اسے کینسر فائٹر بھی کہا جاتا ہے، اس کی دو وجوہات سامنے آئی ہیں، ایک تو اس کا مدافعتی نظام بہت مضبوط ہوتا ہے، اس میں موجود اینٹی باڈی وائرس بہت سے بیکٹیریا کو کمپلز کو ختم کردیتا ہے، دوسری وجہ اس کا ڈھانچا ہے، ماہرین کے کہنا ہے کہ شارک کا ڈھانچا ایسے کاٹیلجز پر مشتمل ہے جو خون کی ان نالیوں کو بڑھنے سے روک دیتا ہے جن پر وائرس کا حملہ ہوتا ہے، اگر ماہرین شارک کے اس مدافعتی نظام کو اچھی طرح سمجھ جائیں تو پھر ایسا ہی مدافعتی نظام انسان میں پیدا کرنے کی راہ کھل سکتی ہے۔کیا انسان ایسا کوئی نظام وضع کرپائے گا؟۔اس بات کا تعین تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اپنے غصے، خطرناک جسامت اور شکار کرنے کے دردناک انداز کے باوجود شارک سمندر کا حسن ہے، سمندر مخلوقات پر تحقیق کرنے والوں کو کہنا ہے کہ اگر شارک مچھلیوں کو ختم کردیا جائے تو قدرت کا توازن بگڑ جائے گا، جس کا اثر نہ صرف آبی زندگی پر ہوگا بلکہ خشکی پر رہنے والی مخلوق بھی اس سے متاثر ہوگی۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/articles/2/34/shark</link>
        <pubDate>Fri, 01 Jul 2011 08:10:51 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Articles - طویل و مختصر ترین جنگیں </title>
<description>دو ملکوں کے درمیان دنیا کی معلوم تاریخ کی مختصر ترین جنگ برطانیہ اور زنجبار کے مابین لڑی گئی۔ ستائیس اگست اٹھارہ سو چھیانوے کو صبح نو بجے اس جنگ کا آغاز ہوا تھا اور اسی صبح نو بج کر پچیس منٹ پر یہ جنگ ختم ہوگئی تھی، زنجبار کا علاقہ آج کل اسلامی ملک تنزانیہ میں ہے جو کہ براعظم افریقا میں واقع ہے، اس مختصر سی جنگ میں انگریزوں کو فتح ملی، برطانیہ کو فتح سے ہمکنار کرنے میں صرف تین جنگی بحری جہازوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، زنجبار کا ساحلی شہر سمندری راستوں میں تجارت کے لیے اہم بندر گاہ ہے، یہ خوبصورت شہر تنزانیہ کے مسلمانوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تو اسی شہر سے ابتداءکی۔ اس کے علاوہ سوا گھنٹے کی مختصر جنگ موصل کے بادشاہ نورالدین زنگی کے سالار اسد الدین شیر کوہ نے بھی لڑی ہے، اس جنگ میں اس نے فاطمہ خلافت کی باغی مصری فوج اور یروشلم کے بادشاہ اموری کی صلیبی فوج کو مشترکہ شکست دی تھی، جب کہ تاریخ کی طویل ترین جنگ موجودہ دور میں افغانستان میں طالبان اور اتحادی افواج کے مابین لڑی جارہی ہے، دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔اس سے پہلے یہ اعزاز ایران و عراق کو حاصل تھا جن کے درمیان انیس سو اسی میں شروع ہونے والی جنگیں آٹھ سال تک چلیں۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/articles/2/33/tawel-taren-wa-mukhtasir-taren-jangen</link>
        <pubDate>Tue, 28 Jun 2011 09:10:37 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Articles -  لو سے بچنے کے طریقے </title>
<description>موسم گرماکا آغاز ہوتے ہی ہواﺅں میں بھی گرم تپش محسوس ہونے لگتی ہے اور ان گرم ہواﺅں کو عرف عام میں ہم &amp;rdquo;لو&amp;ldquo; کہتے ہیں&amp;lsquo; اپنے روزہ مرہ کے معمولات کے لیے گھر سے نکلنا ایک بڑی بے بسی سی بن جاتی ہے، بے بسی اس لیے کہ نہ تو گھر میں رہا جاسکتا ہے اور نہ ہی گرم موسم اور لو کی گرم مار برداشت ہوتی ہے۔لو کے تھپیڑے اچھے بھلے انسان کے ہوش و حواس چھین لیتے ہیں، سوال یہ ہوتا ہے کہ گرمی کے اس شدید موسم میں معمولات کے ضروری امور کیسے انجام دیے جائیں اور لو کے تھپیڑوں سے محفوظ رہتے ہوئے ہوش و حواس کیسے قائم رکھے جائیں۔سب سے پہلے تو سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ لو ہے کیا بلا۔ لو ہماری عام بول چال میں شدید تپتی اور جھلسا دینے والی ہوا کو کہتے ہیں، یہ گرم ہوا کے تھپیڑے انسانی صحت اور تندرستی کے قاتل ہیں، کسی شخص کو لو لگی ہے یا نہیں دوسرے لفظوں میں اسے لو نے اپنا نشانہ بنایا ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس کی جسمانی کیفیت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔عام طور پر لو کی لپیٹ میں آجانے سے جسمانی درجہ حرارت بھی رفتہ رفتہ بڑھنے لگتا ہے جو 101تک پہنچ سکتا ہے، انسانی جسم کے لیے اتنی حرارت اس کی قوت برداشت سے بہت زیادہ ہوجاتی ہے، جسمانی درجہ حرارت سے دوسرے اثرات بھی نمایاں ہونے لگتے ہیں، متاثرہ شخص کو چکر آتے محسوس ہونے لگتے ہیں، سانس لینے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے، نبض کی رفتار میں اضافہ ہوجاتا ہے، سردرد، بدن درد اور جسمانی کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے، جی متلانے لگتا ہے اور کبھی کبھی الٹیاں بھی ہونے لگتی ہیں۔جسم میں پسینہ نہیں آتا جلد خشک ہوجاتی ہے اکثر متاثرہ شخص بے ہوش بھی ہوجاتا ہے۔لو لگ جانے پر سب سے پہلے ہمیں متاثرہ شخص کو ٹھنڈے اور ہوا دار مقام یا کمرے میں لٹائیں، جہاں کولر، پنکھا، خس کا پردہ یا پھر جدید صورتحال میں اے سی کی سہولت موجود ہو، پیشانی پر ٹھنڈے پانی یا برف کی پٹی رکھیں، اگر متاثرہ شخص کو تیز بخار ہو تو اس کے پورے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں، اگر مریض ہوش میں ہو تو اسے ٹھنڈے پانی سے غسل کرادیں۔مریض اگر بے ہوش نہ ہو تو اسے کچے آم (کیری) کا پنا بنا کر پلائیں، لو کے اثر میں کیری کا اپنا ایک مفید اور تیز بہدف گھریلو علاج ہے، ساتھ ہی مریض کو ٹھنڈا پانی بھی پلایا جائے، اس کے ہاتھ پیروں پر کچی پیاز کا رس نکال کر لیپ کردینے سے بھی لو کے اثرات جلد ختم ہوجاتے ہیں، یہ تو ہوئی لو کے متاثرہ شخص کی ابتدائی طبی دیکھ بھال، اس کے بعد جتنی جلد ممکن ہوسکے اسے قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں یا ڈاکٹر کو گھر پر ہی بلوالیں جس میں آپ کو اپنی سہولت ہو۔کسی بھی بیماری کی صورت میں بہترین اور ضروری بات یہ ہونی چاہیے کہ ہم بیماری کا فوری علاج پر توجہ دینے کے بجائے اس بات کی ہر ممکن کوشش کریں کہ کسی بھی بیماری کے حملے سے جسم محفوظ رہے، یعنی ہماری احتیاطی تدابیر قبل از بیماری ہونا چاہئیں ہم لو کا شکار ہونے سے ہی محفوظ رہیں اور یہی سب سے بہتر طریقہ ہے، اس طرح ہم قبل از وقت لو سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے لو کے اثرات بد اور شدت سے بروقت محفوظ رہ سکتے ہیں، جہاں تک ممکن ہو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، سڑکوں اور کھلے میدانوں میں آزاد آمد و رفت کا سلسلہ محدود سے محدود تر رکھنے کی کوشش کریں، بہتر تو یہی ہوگا کہ آپ بارہ بجے دوپہر سے کم از کم تین یا چار بجے تک گھر میں ہی رہنے کی کوشش کریں اور جانا ہی پڑجائے تو چھتری ساتھ رکھیں اگر آپ سائیکل یا موٹر سائیکل پر گھر سے باہر نکل رہے ہیں تو اپنے سر کو موٹے کپڑے سے اس طرح لپیٹ لیں کہ وہ لو کے گرم جھونکوں اور تھپیڑوں سے محفوظ رہے، سر کے ساتھ ساتھ اپنے کانوں کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے، گھر میں موجود ہوں تو اپنے گھر کی کھڑکی اور دروازے دوپہر کے وقت بند رکھیں یا ان پر گہرے رنگ کے پردے لٹکادیں۔موسم گرم میں جب آپ کے لیے گھر سے نکلنا ضروری ہوجائے تو آنکھوں پر سن گلاسز یعنی دھوپ کا چشمہ بطور حفاظت ضرور استعمال کریں، یہ دھوپ کی شدت سے ہی نہیں آنکھیں کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگا جو لوگ ائیر کنڈیشنڈ یا روم کولر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں انہیںاس ٹھنڈے ماحول سے باہر قطعی نہ نکلنا چاہیے، کیوں کہ اس سردی اور گرمی کی وجہ سے جسمانی حرارت بری طرح متاثر ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔گرمی کے دنوں میں اپنا پیٹ خالی ہرگز نہیں رکھنا چاہیے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ آپ بھوکے بالکل نہیں رہیں، جب بھی گھر سے باہر نکلنا ضروری ہو تو اچھی طرح کھاپی کر ہی باہر نکلیں، خالی پیٹ گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں لو لگنے کا خطرہ کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح گرمی کے دنوں میں ٹھنڈا پانی بھی آب حیات سے کم اہمیت نہیں رکھتا، موسم گرم میں گرمی کی وجہ سے چوں کہ پیسنہ آنا ایک فطری عمل ہوتا ہے اس لیے جسمانی پانی پسینے کی صورت میں کافی ضائع ہوجاتا ہے، اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹھنڈا پانی پیتے رہنا بہت ضروری ہے، اب اگر جسم میں اس کی ضرورت کے مطابق پانی ہی موجود نہیں ہوگا تو پسینہ کہاں سے اور کیسے خارج ہوگا، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر جسم سے پیسنے کا اخراج بند ہوجائے تو لو لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہیے، پانی کے علاوہ اس موسم میں شربت، گنے کا رس، لسی کے علاوہ اگر جیب اجازت دے تو پھلوں کا رس بھی پیتے رہنا چاہیے، جو کے بنائے ہوئے ستو موسم گرما میں ایک قدیم گھریلو مشروب بنانے کی چیز ہے، اسے بقدر ضرورت ٹھنڈے میٹھے پانی میں گھول کر پیتے رہنا بھی لو کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، گھریلو قدیم دوا کے طور پر کچے آم یعنی کیری کو ابال کر یا راکھ میں دبا کر نرم کرکے اس کا رس نکال لیں اور اس کا شربت جسے عرف عام میں پنا کہتے ہیں بنا کر پئیں تو یہ بھی لو کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔پیاز جیب میں رکھنا آپ کے لیے لو سے محفوظ رہنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے اپنے کھانے میں پیاز کے سلاد کا اہتمام کرنا اور اسے استعمال کرنا بھی لو کے اثرات سے بچاتا ہے، موسم گرم میں صبح، شام دونوں وقت غسل کرنا بھی آپ کی صحت کے لیے مفید عمل ہوگا، اس طرح جسمانی درجہ حرارت بڑھ کر آپ کے لیے خطرہ نہیں بن سکے گا، موسم گرما میں قدرت نے آپ کے لیے کھیرا، ککڑی، خربوزہ اور تربوز بڑی کثرت سے پیدا کیے ہیں، آپ قدرت کے ان تحائف کو استعمال کرکے بھی گرمی کی شدت اور لو لگنے کے خطرے سے خود کو بچاسکتے ہیں، پودینے کی پتیاں پانی میں ابال کر اور بڑی الائچی بھی ساتھ ملا کر استعمال کریں تو لو کے اثرات سے محفوظ رہنے کا قدیم گھریلو نسختہ ہے، آپ قبل از وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرکے لوکے نقصانات سے بڑی آسانی کے ساتھ محفوظ رہ سکتے ہیں۔اسی طرح املی بھی گھریلو ضرورت کی ایک اہم چیز ہے اور ہر گھر میں ہی یہ مل جاتی ہے، طبی ماہرین کا قول ہے کہ املی جتنی پرانی ہوگی اتنی ہی صحت کے لیے مفید بھی اگر گھر میں کسی کو لو کا اثر ہوجائے تو پکی املی کے گودے کو ہاتھ میں پیروں کے تلووں پر ملنے سے لو کا اثر جاتا رہتا ہے، اس کے علاوہ املی کو بھگو کر اس کا پانی پی لینے سے بھی لواثر نہیں کرتی یعنی اس طرح املی کا یہ پانی آپ کی صحت کے لیے ہیلمٹ کا کام کرتا ہے، پچاس گرام املی اور پچاس گرام گڑ دونوں کو نئے کورے مٹی کے برتن میں الگ، الگ پچاس، پچاس ملی لیٹر پانی میں بھگودیں اور صبح کو دونوں الگ الگ چھان کر نہار منہ یعنی خالی پیٹ پی لیں یہ عمل دس روز کریں ان شاءاللہ لو کے اثرات سے مکمل شفا حاصل ہوجائے گی، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ املی کے ساتھ دودھ کا استعمال قطعی نہ ہونے پائے، اسی طرح لیموں کا عرق ایک گلاس میں نچوڑ کر حسب ذائقہ اسی میں پسی ہوئی مصری ملا کر پی لیں تو بھی لو کے اثر سے نجات مل جائے گی، اسی طرح شہتوت، انناس بھی لو کے اثر سے محفوظ رہنے کے لیے مفید ہیں، الغرض قدرت نے ہماری صحت ہماری زندگی کے لیے ہر موسم میں بے شمار اشیاءپیدا فرمائی ہیں، ان مخصوص موسم کی چیزوںکو بقدر ضرورت استعمال کرتے رہنے سے ہم موسم کی شدت اور اس کے برے اثرات سے بخوبی محفوظ رہ سکتے ہیں، ۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/articles/2/32/uff-ye-loo</link>
        <pubDate>Tue, 14 Jun 2011 10:46:42 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Aayats - سورۃ البقرہ آیت نمبر 182 تا 185 </title>
<description>مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو (١٨٣) (روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے (١٨٤) (روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو (١٨٥).</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/aayats/1/27/</link>
        <pubDate>Wed, 18 Aug 2010 09:04:18 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Aayats - سورہ تین  </title>
<description>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا اور اس پُر امن شہر (مکہ) کی ہم نے انسانوں کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتےر ہے کہ ان کے لیے بھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ پس (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملے میں تم کو جھٹلاسکتا ہے؟ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/aayats/1/26/</link>
        <pubDate>Fri, 12 Feb 2010 08:17:20 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Aayats - سورہ علق  </title>
<description>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔پڑھو (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے (حالاں کہ) پلٹنا یقینا تیرے رب ہی کی طرف ہے، تم نے دیکھا اس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر ( وہ بندہ) راہ راست پر ہو یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو)جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے، اس پیشانی کی جو جھوٹی اور سخت خطاکار ہے۔ وہ بلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو، ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلالیں گے، ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/aayats/1/25/</link>
        <pubDate>Sat, 12 Dec 2009 18:50:21 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Aayats - سورہ قدر </title>
<description>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/aayats/1/24/</link>
        <pubDate>Sat, 12 Dec 2009 18:49:45 GMT</pubDate>
</item>
<item><title>Aayats - سورہ بینہ  </title>
<description>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے، (وہ اپنے فکر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں۔پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس (راہ راست کا) بیان واضح آچکا تھا۔ اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے، بالکل یک سو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، یہی نہایت صحیح درست دین ہے۔اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں، جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں۔ ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کچھ ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو۔.</description>
<link>http://www.vshineworld.com/urdu/library/aayats/5/23/</link>
        <pubDate>Sat, 12 Dec 2009 18:49:36 GMT</pubDate>
</item>
</channel>
</rss>
