میرا صفحہ > کہانیاں > امتحان Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Yousuf Elahi
Yousuf Elahi
Daffodils
امتحان
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 1
دیکھے گئے :  698
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، فہیم نے پاس ہی میز پر رکھے ہوئے ٹیلیفون کی جانب دیکھا اور ریسور اٹھا کر کانوں سے لگایا، ہیلو کون بول رہا ہے، فہیم نے پوچھا، مسٹر فہیم تم نے ہماری آفر کے بارے میں کیا سوچا ہے، اگر تم جنگل کے درختوں کی کٹی ہوئی لکڑیوں کا ایک ٹرک ہر پھیرے میں ہمارے ہاتھوں بیچ دیا کرو، بکواس بند کرو، میں اپنے مالک سے غداری نہیں کرسکتا، ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاسکتا سمجھے، فہیم نے غصہ سے کہا، دیکھو تم اچھی طرح سوچ لو دس ہزار روپے میں ایک ٹرک کا سودا مہنگا نہیں ہے، میں تمہیں پھر ٹیلی فون کروں گا یہ کہہ کر دوسری جانب سے ریسیور رکھ دیا گیا۔
فہیم ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد اس نے نوکری کی تلاش شروع کردی تھی آخری اسے چوہدری افضل کے ہاں نوکری مل گئی، چوہدری افضل نے گائوں کے ساتھ موجود جنگل سے شیشم کے درختوں کو کاٹ کر ان درختوں کی لکڑیاں ان لوگوں تک پہنچانے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا جو ان لکڑیوں کے ذریعے مختلف سامان تیار کرتے تھے۔
فہیم کا کام ان درختوں کی لکڑیوں کی دیکھ بھال کرنا اور انہیں ان لوگوں تک پہنچانا تھا جو اس کو مختلف کام میں لاتے تھے۔
کوئی آدمی فہیم کو چند دنوں سے ٹیلی فون پر لکڑیاں چوری کرکے فروخت کرنے کے لیے کہہ رہا تھا اور آج ان لوگوں کی آفر دس ہزار روپوں تک پہنچ گئی تھی، وہ فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ کیا کرے اگر فہیم اس آدمی کی بات مان کر دس ہزار روپے میں لکڑیوں کا ایک ٹرک اس کے ہاتھوں بیچ دیتا تو اس کی کئی ضروریات پوری ہوسکتی تھیں لیکن وہ چوہدری افضل کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔
فہیم کافی دیر تک سوچتا رہا پھر اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ تمام بات چوہدری افضل کو بتادے گا یہ سوچ کر فہیم اپنی جگہ سے اٹھا اور چوہدری افضل کے کمرے کی جانب چل پڑا۔
تھوڑی دیر بعد فہیم چوہدری افضل کے سامنے بیٹھا ہوا انہیں تمام بات بتارہا تھا، فہیم کی باتیں سن کر چوہدری افضل بولے تم جائو میں خود اس آدمی سے نمٹ لوں گا۔
دوسرے دن جب فہیم دفتر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ چوہدری افضل دروازے پر کھڑے اس کا انتظار کررہے ہیں،چوہدری افضل فہیم کو دیکھ کر مسکرائے اور بولے مبارک ہو فہیم تم اپنے امتحان میں پاس ہوگئے ہو آج سے تم میری کرسی پر بیٹھو گے، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر، کون سا امتحان میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے، فہیم نے حیران ہوتے ہوئے کہا، دیکھو میں ہی تمہیں آواز بدل کر ٹیلی فون کیا کرتا تھا، میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں کیوں کہ مجھے تم جیسے بااعتماد نوجوان کی ضرورت تھی جو میرا یہ کاروبار سنبھال سکے ایک طرح سے یہ تمہارا امتحان تھا، تم سے پہلے میں نے کئی لوگوں کا امتحان لیا مگر وہ دولت کی لالچ میں آگئے، میں ملک سے باہر جارہا ہوں آج سے یہ تمام کاروبار تم سنبھالو گے چوہدری افضل نے کہا اور آگے بڑھ کر فہیم کو گلے سے لگالیا۔



  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 1
Aliza اچھی کہانی ہے Aliza
Oct 1st 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems