میرا صفحہ > کہانیاں > معصوم Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Ahmed Alam
Ahmed Alam
Bright Star School
معصوم پرندے
تاریخِ تخلیق Feb 11th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  898
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
ندیم انتہائی شریر اور خودسر لڑکا تھا، ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اسے بڑا مزہ آتا تھا اپنی جماعت میں اس کا شمار نالائق لڑکوں میں ہوتا تھا، کاشف اکثر ندیم کو سمجھاتا لیکن ندیم اسے جھڑک دیا کرتا اور کہا تم اپنے کام سے کام رکھو، میرے معاملے میں دخل نہ دو، ندیم اکثر اسکول سے غائب ہی رہتا تھا، اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا غلیل سے ننھے پرندوں کو شکار کرنا، ننھے پرندوں کو تڑپتا دیکھ کر ندیم بہت خوش ہوتا تھا۔
ایک دن ندیم ہاف ٹائم میں اسکول سے بھاگنے ہی والا تھا کہ کاشف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور کہا، تم اسکول سے کیوں بھاگتے ہو اور تمہیں۔۔۔۔۔۔
ندیم کاشف کی بات کاٹ کر بولا تم میرے کیا باپ ہو جو ہر وقت نصیحتیں کرتے رہتے ہو، یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا اور اسکول کی پچھلی دیوار کود گیا، ادھر ایک باغ تھا جہاں ندیم ننھے پرندوں کا شکار کرتا تھا، ندیم اور ندیم کے  دوسرے  دوست باغ میں جمع ہوچکے تھے سب باتیں کررہے تھے۔ کچھ دوست اپنی غلیل ٹھیک کررہے تھے، اتفاق سے کچھ دیر کے بعد کاشف کا وہاں سے گزر ہوا، اس کے ہاتھ میں اسکول کی ایک دو کتابیں تھیں اور پڑھنے کی غرض سے باغ میں آیا تھا اس نے جب ان کو دیکھا تو کہا کیا آج بھی ننھے معصوم پرندوں کا شکار کرو گے، ندیم کے ایک دوست نے جواب دیا، ہاں کیوں کیا تم ہمیں روک سکتے ہو، کاشف نے انہیں سمجھایا کہ ننھے پرندوں کو ستانا بہت بڑا گناہ ہے، لیکن انہوں نے ایک نہ سنی بلکہ کاشف کو باغ سے باہر نکال دیا اور خود شکار کے لیے چڑیوں کو دیکھنے لگے۔
ندیم ایک جگہ کھڑا چاروں طرف نظریں گھما رہا تھا کہ اسے ایک رنگ برنگی چڑیا نظر آئی، ندیم نے سب دوستوں کو فوراً بلایا اور خود نشانہ لگانے لگا جیسے ہی غلیل سے پتھر مارا چڑیا پھر سے اڑ گئی اور دوسرے درخت پر جا بیٹھی۔
ندیم فوراً وہاں پہنچا اور غلیل سے دوسرا نشانہ لگایا اس بار بھی چڑیا دوسرے درخت پر بیٹھ گئی۔
دو نشانے خطا دیکھ کر ندیم کے تمام دوستوں نے قہقہے لگائے، ندیم کو بہت غصہ آیا، درخت کے قریب پہنچ کر اس نے اندھا دھند غلیل سے پتھر مارنے شروع کردیے، اتفاق سے ایک پتھر شہد کی مکھیوں کے چھتے پر لگا اور انہوں نے ندیم اور اس کے دوستوں پر حملہ کردیا۔
دوسرے دن وہ اسپتال میں تھے ان کے منہ بری طرح سوجے ہوئے تھے، شہد کی مکھیوں نے بڑی بے دردی سے کاٹا تھا، ندیم کو جب ہوش آیا تو اسے کاشف کی وہ بات یاد آرہی تھی، معصوم پرندوں کو ستانا بہت بڑا گناہ ہے۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems