میرا صفحہ > کہانیاں > احساس Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Hiba Ali
Hiba Ali
Pakistani High
احساس
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  779
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
جب میری آنکھ کھلی تو سات بج رہے تھے، بارش بھی ہورہی تھی میں نے بستر سے چھلانگ لگائی اور کھڑی میں کھڑی ہو کر بارش کا لطف لینے لگی۔
اتنے میں اپیا اور صائمہ بھی جاگ چکی تھیں، ہم نے پروگرام بنایا کہ کہیں چلتے ہیں مگر اس وقت بارش میں صائمہ نے منہ بنایا اس موسم کا لطف تو وہی لیتے ہیں جن کے پاس اپنی کوئی گاڑی ہو۔
مگر ہماری قسمت میں کہاں یہ سب چیزیں، میں نے ٹھنڈی آہ بھر کر اپنا فقرہ مکمل کیا۔
بھئی یہ ٹھنڈی آہیں کس خوشی میں بھری جارہی ہیں، ایک تو ویسے ہی سردی ہے اور تم ٹھنڈی آہیں بھر کر مزید اضافہ کررہی ہو، یہ شبی بھائی تھے جو نہ جانے کب کمرے میں داخل ہوگئے تھے۔
وہ دراصل ہم سوچ رہے تھے کہ کہیں باہر جا کر موسم کا لطف اٹھایا جائے، ہاں تو چلی جائو سوئٹزر لینڈ، میں نے منع نہیں کیا۔
وہ دراصل ہم آپ کے ساتھ جانا چاہ رہے تھے۔
مگر مجھے تو پوسٹر مکمل کرنا ہے، تم بھائی جان کے ساتھ چلی جائو اور پھر ہم نے جب اس خواہش کا اظہار بھائی جان سے کیا تو انہوں نے بڑی آسانی سے کام کا بہانہ بنا کر ہماری خواہش رد کردی۔
پھر ہم نے اس شدید خواہش کا اظہار کیا افتخار بھائی سے وہ تھے سیر و سفر کے شوقین فوراً راضی ہوگئے۔
مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ جایا کس جگہ جائے۔
گارڈن جائیں گے ہم تو شینہ اور توبی نے کہا۔
ہاں وہاں کچھ پنجرے بھی خالی ہیں، بھائی میاں مسکراتے ہوئے گویا ہوئے اچھا کلفٹن چلتےہیں شینہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
مگر وہاں بہت زیادہ لوگ ہوتے ہیں اور شور بھی بہت ہوتا ہے میں نے ناک سکیڑی۔
تو پھر قبرستان چلی جائو اچھی خاصی تنہائی ہوتی ہے وہاں۔ افتخار بھائی چڑ کر بولے۔
میں نے لاکھ اودھم مچایا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا، ہمارے بارہ بہن بھائیوں کی فوج مظفر موج کلفٹن جانے کی تیاری کرنے لگی، اللہ کرے زوردار بارش ہوجائے اور پھر سارا پروگرام کینسل ہوجائے، میں نے بلند آواز میں دعا مانگی۔
بجیا ایسی دعا نہ مانگیں اگر بارش تیز ہوگئی تو بابا کا گھر گرجائے گا ۔ توبی نے معصومیت سے کہا
کون بابا، بھائی میاں نے سوال کیا۔
یہ شاید بھوسی ٹکڑے والے بابا کا کہہ رہی ہے، وہ کل جب آئے تھے تو بتار رہے تھے ان کا مکان کچا ہے، روز روز کی بارش سے ان کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔
شاید یہ باتیں ثوبیہ نے سن لی ہوں گی، اپیا نے اپنا خیال ظاہر کیا،ثوبیہ ہم سب بہن بھائیں میں سب سے چھوٹی ہے مگر اس کے چھوٹے سے ذہن نے یہ بات سوچ لی جو ہم نے محسوس بھی نہ کیا، یہ سوچ کر ہم سب لوگ ایک دوسرے سے کترا کر ادہر ادہر ہوگئے۔
مجھے اپنا آپ بے حد چھوٹا محسوس ہونے لگا کہ تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجود میں ہمیشہ خدا سے شکوہ کرتی رہتی ہوں کہ ہمیں یہ نہیں دیا، وہ نہیں دیا۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems