میرا صفحہ > کہانیاں > طوطوں کی رٹ Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Mubashir Salman
Mubashir Salman
The Village School
طوطوں کی رٹ
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  1002
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
ایک پرانے باغ میں بہت سے طوطے اکٹھے رہتے تھے، خوب کھاتے اور خوب مزے اڑاتے، سارے باغ میں انہی کا راج تھا، پہلے پہل جب یہ باغ میں آکر رہتے تھے تو بڑے پھر تیلے تھے، خوب اڑتے تھے، لیکن اس باغ میں انہیں کھانے کو ملا تو آرام سے کھانے میں ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگئی، طوطوں کی وہ پھرتی اور اڑنے کی مشق جاتی رہی۔
کچھ دن بعد ایک شکاری ان طوطوں کے پیچھے لگ گیا وہ ہر سال آتا اور بہت سے طوطے پکڑ کر لیے جاتا، اب ان کی تعداد گھٹنے لگی، شکاری سے چھٹکارا پانے کے لیے طوطے ایک جگہ جمع ہوئے اور سب نے مشہورہ کیا کہ اس مصیبت کو کس طرح ٹالا جائے، ایک طوطا بولا بھائیو، دراصل ہماری مصیبت کی جڑ یہ ہے کہ ہم میں علم نہیں ہے، ہم جانتے ہی نہیں ہیں کہ شکاری کے جال سے بچنے کی تدبیر کیا ہے، اگر ہم میں علم ہوتا اور ہم ان تدبیروں کو جانتے ہوتے جو شکاری کے پھندے سے بچنے کے لیے ضروری ہیں تو بھلا کیا طاقت تھی شکاری کی جو ہم میں سے ایک کو بھی پکڑ کر لے جاتا۔
سب طوطوں نے علم حاصل کرنے کی تجویز منظور کرلی کچھ طوطے اب بھی گردن لٹکائے کچھ سوچ رہے تھے، عقلمند طوطوں نے ان بیوقوفوں کا کوئی خیال نہ کیا، بلکہ فوراً ہی علم حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔
پڑھنے پڑھانے کا بڑا چرچا ہوا، سب طوطوں کو پہلے شکاری کی پہچان پڑھائی گئی۔ پھر اس کے جال کی تشریح پڑھائی گئی کہ اگر شکاری آئے تو یا تو اس کے ڈالے ہوئے چارے کے قریب نہ جانا اور اگر جائو تو شکاری کو آتا دیکھ کر پھڑ پھڑا کر اڑ جانا، طوطوں نے اس تعلیم کو بڑے اچھے طریقے سے رٹ لیا، اگلے سال شکاری پھر آیا طوطوں کو اپنا سبق یاد تھا، سب نے شکاری کو پہچان لیا، شکاری نے لاگ لگائی سب طوطوں نے سیکھے ہوئے علم کو چھوڑ کر اپنی عقل پر بھروسہ کیا اور سوچا کہ وقت پر اڑجائیں گے، یوں سب طوطے شکاری کے ڈالے ہوئے چارے پر ٹوٹ پڑے، شکاری آیا اس نے اپنے قاعدے کے مطابق جال پھینکا بہت سارے طوطے  پھنس گئے۔
اس سال کی پکڑ پہلے سالوں سے اچھی تھی لیکن شکاری کو تعجب تھا کہ اس مرتبہ سب طوطے بڑے اچھی آواز میں ایک گیت گارہے تھے۔
ہے آدمی شکاری کندھے پہ اس کے جال
دیکھو  اگر  اسے  تو نہ ہونا  کبھی نڈھال
جو  لاگ  وہ  لگائے  تو  ہرگز  نہ کھائیو
اور   کھائو   تو  رکھیو   اپنا   ذرا   خیال
آتے   اسے   جو   دیکھا   ہر گز نہ ٹھہرنا
اڑ بھاگنے  کا  تم  بھی  دکھانا،  اسے کمال

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems