میرا صفحہ > کہانیاں > اف! یہ ٹیلی Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Sarah Farooq
Sarah Farooq
The Camden School
اف! یہ ٹیلی فون
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  783
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
پچھلے مہینے ہی کی بات ہے کہ ہمارے گھر ٹیلی فون لگا، فون کا لگنا تھا، گھر بھر میں لڑائی ہوگئی کہ کون پہلے اپنی دوست کو فون کرے گا اور خوشخبری سنائے گا کہ ہمارے گھر فون لگ گیا ہے۔ ابھی یہ لڑائی جاری ہی تھی کہ امی فون نمبروں کی ڈائری لے آئیں اور سب کو پیچھے ہٹا کر خالہ کا نمبر گھمانے لگیں، کوئی آدھا گھنٹہ بات کی، پھر چچی، ممانی، پھوپھی، سب ہی کو فون کر ڈالے، لیکن ہوا یہ کہ فون کرتیں کسی کو تو ملتا کسی اور سے، ہم سب گھٹنے جوڑے ان کے اردگرد بیٹھے رہے۔ کوئی دو گھنٹے کی مشقت کے بعد فون بند ہوا تو آنٹی فرینہ جو کہ ہماری ہمسائی ہیں، ہاتھ میں پیسنے سے بھرا، میلا کچیلا چھوٹا سا کاغذ لیے آئیں۔ منہ میں پان تھا عینک اوپر کرتے ہوئے اور آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولیں۔
مجھے ذرا لاہور کی کال ملانی ہے۔ میرا فون خراب ہے۔ ہم نے غصے سے ہاتھ ملنا شروع کردیے کہ اتنے میں امی بولیں۔
کیوں نہیں، آپ کا اپنا تو گھر ہے آپ جب مرضی آئے، شوق سے آئیے۔
اتنے میں آنٹی فرینہ ہم سے مخاطب ہوئیں، ارے میری جان فری، ذرا یہ نمبر تو ملادے۔ ہم نے کوڈ نمبر پوچھا تو بولیں، ارے دیکھ لے، یہیں لکھا ہوگا۔
ہم جھنجھلا گئے اور ناک چڑھاتے ہوئے بولے۔ یہاں نہیں لکھا۔
اتنے میں امی بولیں ون سیون سے پتا کرلو۔
آنٹی بولیں، ارے نہیں بہن،  سیون آپ تو میں پیوں گی نہیں پہلے ہی بڑا زکام لگا ہوا ہے۔
امی ہنستے ہوئے بولیں۔ بھئی میں تو نمبر بتار رہی تھی۔
اچھا اچھا، آنٹی نے سر ہلایا اور ہم لگے ون سیون کو ملانے، کوئی پندرہ منٹ بہت انہوں نے فون اٹھایا اور بڑی منت سماجت کے بعد نمبر بتایا۔ اب لگے ہم انگلی گھیسٹنے کہ نمبر ملے۔ کوئی آدھ گھنٹے کی مشتقت کے بعد نمبر ملا جو کبھی انگیج جارہا تھا تو کبھی کوئی اٹھا نہ رہا تھا اور جب نمبتر ملا تو آنٹی مسلسل دس منٹ تک باتیں کرتی رہیں اس کے بعد ہم سب نے باری باری فون کیا۔
اگلے دن ہم صبح پڑھ رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی، لپک کر فون اٹھایا تو دوسری طرف سے کوئی بچہ تنگ کررہا تھا کہ دادا جان کو بلادیجئے۔ ہم نے اسے بڑاکوسا مگر وہ بڑا شریر تھا۔ لاکھ سمجھانے پر بھی فون بند نہ کرتا تھا آخر غصے کے عالم میں ہر پڑھنے بیٹھ گئے۔ دس منٹ تک گھنٹی نہ بجی، ابھی ہم نے شکر ادا کیا ہی تھا کہ گھنٹی پھر بجنے لگی ہم سمجھے کہ اسی بچے کا فون ہے۔ ریسیور اٹھایا اور بغیر پوچھے اسے بری طرح جھڑک دیا۔ لیکن پتا چلا کہ دوسری طرف سےماموں بول رہے ہیں کہ فری بیٹے اپنی امی کو بلادو۔
اے یہ تو ماموں ہیں۔ ہم چیخے، پھر ان سے بڑی معذرت کی اور بتایا کہ اصل قصہ کیا تھا۔
جی ہاں، اگلے مہینے جب بل آیا تو پورے نو سو پینتیس روپے پچیس پیسے درج تھے۔ پھر جو ابو سے ہمیں ڈانٹ پڑی تو نہ پوچھئے۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems