میرا صفحہ > کہانیاں > اپنی حفاظت Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Amir Paracha
Amir Paracha
Model High
اپنی حفاظت
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  777
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 25 Out of 10
ملا نصیر الدین اپنے گدھے پر سوار بازار سے گزر رہے تھے، ان کے پاس ایک بکری بھی تھی جس کے گلے میں گھنٹی بندھی تھی، انہوں نے احتیاط کے طور پر بکری کی دم گدھے کی دم سے باندھ رکھی تھی۔ راستے میں ملا کو تین چور ملے جنہوں نے ملاا کو لوٹنے کی ٹھان لی۔ پہلے نے کہا، میں بکری لے جائوں گا۔ دوسرے نے کہا۔ میں گدھے کو لے جائوں گا۔ تیسرے نے ملا کی پوشاک پر ہاتھ صاف کرنے کی ٹھانی۔
پہلے چور نے بکری کی رسی کاٹ کر گھنٹی کو گدھے کی دم سے باندھ دیا۔ دوسرا چور ملا سے کہنے لگا۔ گھنٹی ہمیشہ گدھے کی دم میں ڈالی جاتی ہے، گدھے کی دم سے نہیں باندھی جاتی آپ نے گدھے کی دم سے باندھ رکھی ہے۔ یہ کیا حماقت ہے، ملا نے نظر اٹھا کر گدھے کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ بکری غائب ہے ملا کو بہت صدمہ ہوا اور وہ زور زور سے رونے لگے، چور نے ہمدردانہ لہجے میں کہا، چور ابھی ابھی اس راستے سے بکری لے گیا ہے، اگر اس کا تعاقب کیا جائے تو بکری مل سکتی ہے، یہ سن کر ملا نے چور سے کہا اگر آپ میرے گدھے کا دھیان کریں تو میں بکری ڈھونڈ سکتا ہوں۔
ملا بکری کی تلاش میں ایک کوچے میں گھس گئے مگر بکری نہ ملنا تھی نہ ملی۔ ناچار ملا اسی جگہ واپس آگئے۔ لیکن گدھے کی حفاطت کرنے والا کافی دیر پہلے گدھے کو لے کر بھاگ چکا تھا۔ ملا نے اب بکری کے بجائے گدھے کی تلاش شروع کی لیکن وہ بھی انہیں نہ مل سکا۔
ملا غم و غسے کی حالت میں گھر کو روانہ ہوئے راستے میں انہوں نے ایک آدمی کو کنویں کی منڈیر پر بیٹھے زار و قطار روتے ہوئے دیکھا، ملا نے بڑے ہمدردانہ لہجے میں اس سے رونے کی وجہ پوچھی، اس شخص نے کہا کہ حاکم شہر کی بیوی کا زیور اور سونے کی ایک صندوقچی میرے پاس تھی، میں یہ سامان حاکم کے گھر لے جارہا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے میرے سر پر ڈنڈا مارا اور میرے ہاتھ سے صندوقچی لے کر کنویں میں پھینک دی، اگر آپ صندوقچی نکال دیں دیں تو سو دینار انعام دوں گا۔
ملا نے دل میں حساب لگایا کہ اگر صندوقچی مل جائے تو کم از کم گدھے اور بکری کا نقصان پورا ہوجائے گا۔ یہ سوچ کر ملا نے کپڑے اتارے اور کنویں میں اتر گئے۔ بہت تلاش کی مگر صندعقچی کا کوئی نشان نہ ملا۔ ملا نے بہت آوازیں دیں مگر منڈیر پر کوئی ہوتا تو جواب دیتا، بڑی مشکل سے ملا باہر آئے اور اپنے لباس کو نہ پا کر شخص پریشان ہوئے۔ اب انہوں نے ایک لکڑی ہاتھ میں لی اور اسے گھماتے ہوئے راستہ طے کرنے لگے لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو، ملا نے جواب دیا اب صرف میں چوری ہونے سے بچ گیا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی مجھے بھی چوری کرکے نہ لے جائے چنانچہ اپنی حفاظت کی غرض سے ایسا کررہا ہوں۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems