میرا صفحہ > کہانیاں > تکیہ کلام Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Sarah Farooq
Sarah Farooq
The Camden School
تکیہ کلام
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  588
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
اسلم صاحب کی سب سے بری عادت ان کا تکیہ کلام تھا۔ کیوں کہ جب بھی کوئی بات کہنی ہوتی، تو آخر میں لفظ بتری ضرور کہتے اور اس وجہ سے انہیں کئی بار سزا بھی ملی مگر اسلم صاحب کی یہ عادت نہ گئی اور بتری کا دم چھلا ان کے ساتھ لگا رہا، اسلم صاحب کے گھر کچھ مہمانوں کو آنا تھا اور مہمان تھے ان کے چچا،جو کراچی سے بڑی مدت کے بعد آرہے تھے اس لیے صبح ہی گھر میں گہما گہمی کے آثار تھے۔
اسلم بیٹے، بھائی جان سے کہو، جلدی کریں مہمان آنے والے ہوں گے، امی نے کچن سے آواز لگائی، اسلم صاحب منہ بسورتے ہوئے اٹھے اور بھائی جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے البتہ رفتار کسی تیز گھوڑے سے کم نہ تھی، پھر ظاہر ہے، انہیں راستے میں پڑا ہوا بڑا سا استقبالیہ پتھر کیسے نظر آسکتا تھا چنانچہ اگلے ہی لمحے بھاگتے ہوئے اسلم صاحب دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین بوس ہوگئے پھر فوراً ہی طیش سے اٹھے اور ایک عدد بھرپور لات پتھر کو رسید کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلم صاحب اپنی لات پکڑ کر ڈانس کرنے لگے،اچانک انہیں امی جان کا حکم یاد آگیا، اس لیے ڈانس بھول کر تیزی سے بھائی جان کے کمرے کی طرف بڑھے۔ دروازے کے قریب پہنچ کر ان کے حلق سے آواز نکلی۔ امی کہہ رہی ہیں کہ مہمان آنے واہی والے ہوں گے، اس لیے جلدی کریں بتری۔
آرہا ہوں۔ بھائی نے گرج کر کہا اور اسلم صاحب واپس مڑ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگھ مگر دروازے کی طرف بڑھنے کے بجائے دیوار سے جاٹکرائے اور دھڑام سے زمین پر جاگرے، ان کے منہ سے معمار کے لیے ایک صلوٰت نکل گئی کہ اس نے غلط جگہ دروازہ لگایا ہے، اسی لمحے کال بیل کی شوخ آواز نے انہیں چونکا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بھائی جان کے کمرے سے آواز گونج اوے بتری کے بچے، دروازہ کھولو، مہمان آگئے ہوں گے۔
اچھا بتری، اسلم صاحب بادل نخواستہ اٹھے اور دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازہ کھلنے پر ایک بزرگ شکل صاحب نظر آئے ج نہیں اسلم صاحب نے فوراً پہچان لیا۔
آئیے چچا بتری، اسلم صاحب نے ایک طرف ہٹتے ہوئے پرخلوص لہجے میں کہا۔ مہمان نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا اور بولا، کہاں ہے بکری۔ مجھے تو کہیں نظر نہیں آتی۔
اسلم صاحب نے حیرانی نے کہا۔ میں نے آپ کو اندر آنے کے لیے کہا تھا۔
تو کیا میں آپ کو بکری نظر آتا ہوں، مہامن کچھ غصے سے بولا۔
ارے ارے میرا مطلب بالکل نہیں اور میں نے آپ کو بکری کب کہا، چچا بتری،
اسلم صاحب بوکھلاگئے۔ مہمان نے پھر چونک کر کیہا۔ بھئی میں کرم دین ہوں۔۔۔۔۔ بکری نہیں۔ ارے چچا بتری میں آپ کو جانتا ہوں، اسلم نے بڑے فخر سے کہا۔
اوہو، مجھے کرم دین کہتے ہیں۔ مہمان کو تائو آگیا۔
کون کہتا ہے، اسلم صاحب نے الوئوں کی طرح آنکھیں جھپکائیں۔
میرا مطلب تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا نام کریدن ہے اور اور تم مجھے چچا کرم دین کہہ سکتے ہو، بڑے بیوقوف ہو، مہمان غصے سے دہاڑا۔
میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں، خیر چچا بتری اندر آئیے، اسلم صاحب خوشامدانہ لہجے میں بولے۔
بھئی میں کرم دین ہوں، بکری نہیں، چچا چلایا اسی لمحے  بھائی جان بھی آگئے، انہوں نے اسلم صاحب کو ڈانٹ پلائی اور چچا کو لے کر اندر چلے گئے۔ اسلم صاحب نے غصے سے دروازہ ب ند کیا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگے مگر پھر بھائی جان کی آواز سن کر مجبوراً ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئے۔ بھائی جان نے حکم صادر فرمایا کہ چچا کے ساتھ گپ شپ لگائو میں ابھی آتا ہوں۔ اسلم صاحب وہیں بیٹھ گئے۔
تمہارے گھر میں کتنے کمرے ہیں، چچا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
بس چھ کمرے ہی، چچا بتری، اسلم صاحب بولے۔
پھر وہی بکری، میں چچا بکری نہیں، چچا کرم دین ہوں، چچا کرم دین کو تائو آگیا۔
گھر کتنا بڑا ہے، چچا کرم دین نے پھر سوال کیا۔
بس اتنا ہی ہے چچا بتری، اسلم صاحب بتری کہنے سے باز نہ آئے چچا نے اس کی طرف دیکھا اور چلایا، پھر وہی تمہاری منحوس بکری، اسلم صاحب جھینپ گئے اور شرمندی ہو کر بلوے۔ اوہ سس سوری، چچا بتری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مم، چچا نے پھر گھور کر اسلم صاحب کی طرف دیکھا اور چلائے پھر بکری۔
اسی لمحے بھائی جان بھی آگئے انہوں نے اسلم صاحب کو ڈانٹ پلائی اور کمرے سے نکال دیا۔ اسلم صاحب مجرموں کی طرف سرجھکائے باہر نکل آئے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے اب وہ بے چارے کیا جانیں کہ ان کے تکیہ کلام بتری کو چچا بکری سمجھ رہے تھے۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems