میرا صفحہ > مضامین > ایک مضمون Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |   
Owais paracha
Owais paracha
Jennings
ایک مضمون گدھے پر
تاریخِ تخلیق Jan 1st 2009
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  1014
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
گدھا فرمانبرداری کا دوسرا نام ہے۔
ارے ارے، ہم آپ کو ہر گز گدھا نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ اس گدھے جانور کی بات کررہے ہیں جو انسان کے بہت کام آتا ہے، دسویں جماعت کی اردو کی کتاب میں پطرس بخاری نے کتے کی عدات و اقسام کے بارے میں ایک سیر حاصل مضمون لکھا ہے جب ہم نے یہ مضمون پڑھا تو ہماری منصفانہ طبیعت کو بڑا دکھ ہوا کہ پطرس جیسے بلند پا یہ مزاح نگار نے کتے جیسے بیکار جانور پر تو مضمون لکھ دیا، جسے بھونکنے اور کاٹنے کے سوا کوئی کام نہیں اور گدھے جیسے حلیم الطبع اور شریف جانور کو چھوڑ دیا، لہٰذا ہم نے فوری طور پر سوچا کیوں نہ ہم خود ہی اس قومی فریضے کو انجام دے لیں۔ پھر ہم نے لکھنا شروع کیا۔
گدھا فرمانبرداری کا دوسرا نام ہے۔ جس طرح انسانوں کی مختلف عادات و خصلات ہوتی ہیں، اسی طرح گدھا بھی مختلف عادات و خصلات کا مالک ہوتا ہے۔ انسانوں اور گدھوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں دن میں کام کرتے ہیں اوررات کو آرام، گدھے کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم گدھا نیہں، گدھے کا بچہ ہوتی ہے۔ یہ عمومات بھورے اور کالے رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ سفید رنگ کا بھی ہوتا ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی والدہ محترمہ یعنی گدھی کے پاس کھڑا رہ کر ہمہ وقت کچھ نہ کچھ چباتا رہے یعنی مفت کی روٹیاں۔۔۔۔۔ سوری، گھاس توڑتا یا چباتا رہتا ہے، مگر افسوس، اس کے عیش کے یہ دن جلد ہی رخصت ہوجاتے ہیں اور وہ کام میں جٹ جاتا ہے کم و بیش دو سال کے عرصے میں یہ مکمل جوان اور تندرست و توانا گدھا بن جاتا ہے، فطرت کے عین مطابق وہ بھی جوانی میں اکھڑ اور بڑا جوشیلا ہوتا ہے اور بات بات پر دو لتیاں جھاڑنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر وقت اپنے منہ سے ڈھینچوں ڈھینچوں کی بے سر، بے تال آوازیں نکالتا رہتا ہے عام انسانوں کو اس وقت اس سے دور ہی رہنا چاہیے۔ ویسے ہم آپ کی معلومات کے لیے بتاتے چلیں کہ گدھے کی عمر تقریباً 10 سال ہوتی ہے دس سال تک پہنچ کر گدھے کی صحت ڈھلنا شروع ہوجاتی ہے۔ محنت و مشقت اور کچھ عمر کے تقاضے کی وجہ سے وہ سوکھ کر ڈھانچہ بن جاتا ہے اس وقت اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جیسا کہ ایک کہاوت ہے کہ مصیبت کے وقت انسان کا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح عمر کی اس منزل پر پہنچتے ہی گدھے کا مالک بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے جبکہ گدھا اس کا ساتھ سخت سے سخت مصیبت میں بھی نہیں چھوڑتا اور زیادہ سے زیادہ محنت کرکے اپنے مالک کے لیے خوشیاں خریدتا ہے۔ اور یہ مالک۔۔۔۔۔۔۔ اوہو، میں بھی جذباتی ہوگئی، ہاں تو، میرا خیال ہے کہ ایسے گدھوں کے لیے گرین لینڈ نام کا ایک ادارہ ہونا چاہیے جہاں انہیں چرنے کے سوا کوئی کام نہ ہو اور وہ اپنی باقی ماندہ زندگی آرام و سکون سے گزار سکیں۔
علاوہ اس کے گدھے سے سب سے زیادہ بار برداری کا کام لیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی چھکڑا نما گاڑی میں گدھے کو جوت دو، پھر اس سے جو چاہے کام کرائو، اسے گدھا گاڑی کہتے ہیں اس میں ایک پخ بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ کوئی عجوبہ نہیں بلکہ اپنے گدھے میاں ہی ہوتے ہیں۔
اس کے لغوی معنی فالتو یا بیکار چیز کے ہیں، یہ اس لیے گدھا گاڑی میں موجود ہوتی ہے کہ اصل گدھے کا دل بہلارہے اور وہ دلجمعی سے کام کرے، ویسے ہم آپ کو اصل بات بتاتے ہیں کہ یہ اس کے لیے موجود ہوتی ہے کہ گدھا گاڑی کو سہارا رہے یعنی ایک سے دو بھلے، اور وہ زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھاسکے اور جہاں پہلے والے گدھے صاحب ٹیں ہوں تو یہ اسے سہارا اور تسلی وغیرہ دے سکیں، دیہاتوں میں اکثر گدھا گاڑیوں کی ریس بھی منعقد ہوتی ہے۔ یہ گاڑی عام گدھا گاڑیوں سے قدرے چھوٹی ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا مضمون میں ہم نے کوزے کو دریا میں، اوہ معاف کیجئے گا، دیار کو کوزے میں بند کیا ہے، ویسے آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دریا کو کیوں کوزے میں بند کیا ہے، گدھے کو کیوں نہیں، آپ کا سوچنا بھی بجا، لیکن کیا کریں محاوہ ہی یہی ہے اور گدھے کے بارے میں فی الحال ہمیں کوئی محاورہ یاد نہیں آرہا ہے۔

  << پچھلا مضمون  |   

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems