میرا صفحہ > مضامین > آم۔ پھلوں Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
Yousuf Elahi
Yousuf Elahi
Daffodils
آم۔ پھلوں کا بادشاہ
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 1
دیکھے گئے :  1057
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
آم کو جنت کا میوہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گرمیوں کا خاص تحفہ ہے اور چھوٹے بڑے، امیر غریب سب کی پسند ہے۔ سب سے اعلیٰ اور نفیس آم پاکستان اور بھارت میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آم کے آبائی وطن ہیں۔
پرانے زمانے کے بادشاہ، امیر، نواب، پھلوں کے خاص طور پر شوقین تھے۔ اپنے اس شوق کی خاطر انہوں نے بہت سے باغات لگواے۔ اکبر بادشاہ نے بھی ہندوستان کے صوبے بہار میں "در بھنگہ" شہر میں نفیس اور عمدہ آموں کا باغ لگوایا تھا۔ جس میں آموں کے ایک ہزار درخت لگائے تھے تھے، اسی لیے یہ آج بھی "ہزاری باغ" کہلاتا ہے۔
آم کی دو قسمیں ہیں۔ تخمی اور قلمی (پیوندی) تخمی آم چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا موٹا اور گٹھلی بڑی ہوتی ہے۔ اس کا درخت بہت اونچا ہوتا ہے۔ یہ آم زیادہ رسیلا ہونے کی وجہ سے چوس کر کھایا جاتا ہے، اس کی گٹھلی پر ریشے ہوتے ہیں۔ قلمی آم تخمی آم سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا پتلا اور گٹھلی چھوٹی ہوتی ہے۔ جس پر ریشے نہیں ہوتے۔ اس کا درخت تخمی آم کے درخت سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اسے کاٹ کر کھایا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں گودا زیادہ ہوتا ہے۔ آم حیاتین الف (اے)ج اور حیاتین ج (سی) کا خزانہ ہے۔ آم میں لحمی مواد، (پروٹین)، چکنائی، نشاستہ، چونا، فاسفورس اور فولاد خوب پائے جاتے ہیں۔ ایک پائو آم میں ایک سو بارہ حرارے (کیلوریز) ہوتے ہیں۔ طبی لحاظ سے آم کا مزاج بہت گرم ہے۔ کھانسی اور دمے میں یہ مفید ہے۔ دل، دماغ، جگر آنتوں اور گردوں کو طاقت ور بناتا ہے۔ منہ کی بدبو دور کرتا ہے۔ خون کی کمی کو دور کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ جسم کو طاقت دیتا ہے۔ قبض ختم کرتا ہے۔ اس سے رنگ بھی نکھرتی ہے۔ آم چوں کہ گرم ہوتا ہے، اس لیے اسے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ ایک آدمی ایک وقت میں آدھا کلو آم کھاسکتا ہے۔ اگر حد سے زیادہ کھالیا جائے تو جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔ اس تکلیف سے بچے کے لیے آم کھا کر دودھ پی لینا چاہیے یا جامن کھانا چاہیے، جو اسی موسم میں ہوتے ہیں۔
الفانسو، انور رٹول، سندھڑی، دسہری، ثمر بہشت، چونسہ، لنگڑا، بیگن پلی، فجری اور مالدہ آم کی وہ مشہور قسمیں ہیں جو پاکستان میں ہوتی ہیں، کچے آم (کیری) کا اچار ڈالا جاتا ہے اور مربے بنائے جاتے ہیں۔ گویا آم لذت کا بھی بادشاہ ہے اور اس کے فائدے بھی بے شمار ہیں۔

  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 1
طارق راحیل
اتنا مزیدار مضمون پڑھ کر اب تو کھانے کو بھی دل کر رہا ہے
طارق راحیل
Jul 14th 2010
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems