میرا صفحہ > کہانیاں > جیسا کرو Bookmark and Share
   |  اگلی کہانی >>  
shahzad sadiq
shahzad sadiq
Lahore Grammer School
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
تاریخِ تخلیق Jan 19th 2016
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  425
پسند کیا

Rank 7 Out of 10
سارس ایک پرندہ ہے۔ اِس کی چونچ اور ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ کا زکر ہے کہ ایک سارس اور لومڑی میں دوستی ہو گئی۔ ایک روز لومڑی نے سوچا کہ سارس کا مذاق اُڑانا چاہیے ۔
اُس نے سارس سے کہا ” بھائی، کل ہمارے ہاں کھانا کھانا۔“
سارس نے کہا ” آپ بڑی اچھی دوست ہیں۔ میں ضُرور آو¿ں گا۔“
جب سارس لومڑی کے ہاں گیا تو دیکھا کہ اُس نے چھوٹی چھوٹی پلیٹوں میں شوربا ڈال رکھا ہے۔
لومڑی کے لیے تو اِن پلیٹوں میں سے شوربا کھانا کچھ بڑی بات نہ تھی۔ وہ لگی چاٹنے۔ مگر بے چارہ سارس کیا کر تا۔ وہ لومڑی کی دیکھا دیکھی شوربے میں ٹھونگیں مارنے لگا مگر کھانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
نِتجہ یہ ہُوا کہ لومڑی تو ساری پلیٹیں چٹ کر گئی، اور سارس بُھوکا ہی رہا۔
جب کھانا ختم ہو گیا تو لومڑی نے کہا۔” کیوں بھائی سارس، تم نے پیٹ بھر کے کھایا یا تکّلُف ہی میں رہے؟ شوربا اچّھا تھا نا؟“
سارس نے جواب دیا۔” آپ نے مجھے کھانا کھلایا بڑی مہربانی کی ۔ آپ کے گُن گاو¿ں گا۔اب کل میرے ہاں کھانا کھایئے گا۔“
اگلے دِن لومڑی سارس کے گھر کھانا کھانے گئی۔ دل میں کہتی تھی کہ کھانا مزے دار ہوگا۔ خُوب کھاو¿ں گی۔
سارس نے بھی کھانے کے لیے شوربا ہی تّیار کیا لیکن اُسے تنگ مُنہہ کے برتنوں میں ڈال رکھا تھا۔ جب دونوں دوست کھانے لگے تو سارس نے برتن میں اپنی لمبی چونچ ڈال کر شوربا پِینا شُروع کر دیا۔
لیکن لومڑی اپنا مُنہہ برتن میں ڈال ہی نہ سکی تھی۔ وہ برتن کی طرف گردن اُٹھاکر دیکھتی اور اپنا سا مُنہہ لے کر رہ جاتی۔
”بُزرگوں نے سچ کہا ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔“
   |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems