میرا صفحہ > کہانیاں > آنکھوں Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |   
Fariha khan
Fariha khan
OAK
آنکھوں دیکھا حال
تاریخِ تخلیق Jan 1st 2009
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  854
پسند کیا

Rank 25 Out of 10

یہاں اب سے کچھ دیر بعد کڑکٹ کا میچ شروع ہونے والا ہے جو ہم آپ کی خدمت میں براہ راست لکھ ڑہے ہیں، ارے آپ ہمارے "ڑ" لکھنے سے اتنے حیران کیوں ہورہے ہیں۔
یہاں تو آج کل سب کو یہی دورہ پڑا ہوا ہے۔ ہاں تو میچ شروع ہونے والا ہے اور بچے یہ میچ دیکھنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہیں۔ وسیم صاحب بطور ماہر کھڑے ہیں، کھلاڑی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کاشف اور مانی میں لڑائی ہورہی ہے، دونوں عمران اور عبدالقادر بننے پر لڑ رہے ہیں۔ وسیم صاحب! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
جی میرا خیال ہے کہ مانی کو قادر بننا چاہیے کیوں کہ اس کی کمر میں لچک ہے، ابھی پچھلے دنوں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بھائی کی شادی میں کیا زبردست ناچ رہا تھا، کاشف کو عمران بننا چاہیے کیوں کہ اس کے بال کافی بڑے ہیں۔
اور ناظرین، شاہد نے بلا سنبھالا اور کاشف دوڑتے ہوئے بولنگ کرانے آرہے ہیں، ارے یہ کیا کاشف صاحب کے ابو آگئے، انہوں نے کاشف کو کان سے پکڑا اور گھر کے طرف لے گئے۔
خیر، اب ان کی جگہ مانی بولنگ کرائیں گے، انہوں نے اپنی کمر کو لہرایا اور چلتے ہوئے گیند جو کرائی تو شاہد نے بڑے آرام سے کھیلا۔ مانی نے دوبارہ بال کرانے کے لے گیند پھینکی، اب کے شاہد نے بڑے جوش سے یہ بال کھیلی بال ہوا میں اڑتی ہوئی سامنے والوں کی کھڑکی سے ٹکرائی اور زور دار دھماکا ہوا۔ وسیم صاحب، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
جی دھماکے کے بارے میں۔
ارے نہیں وسیم صاحب، میرا مطلب ہے کہ اس چھکے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
دیکھیں، چھکا تو زبردست تھا۔
ارے وسیم صاحب، یہ بچے کہاں گئے۔
اور لڑائی کی آواز ارے، وسیم صاحب بھی غائب ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہمیں بھی اب چھت سے نیچے آجانا چاہئیے۔
ہاں تو ناظرین، یہ میچ بھی بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا۔ اچھا اجازت دیجئے، خدا حافظ۔

  << پچھلی کہانی  |   

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems