میرا صفحہ > کہانیاں > جسے ہم Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Sumayya Mansoor
Sumayya Mansoor
Student
جسے ہم بھول گئے
تاریخِ تخلیق Feb 13th 2013
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  671
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10

 وہ آج معمول سے زیادہ تکلیف میں تھے۔ میں جب سے ہوش میں آئی ہوں انہیں تکلیف میں ہی دیکھا ہے، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے وہ حد سے زیادہ تکلیف میں اور زخم زخم تھے، اور آج تکلیف سے چیخ رہے تھے۔ پتا نہیں کیوں وہ اپنے زخموں کا علاج نہیں کرتے تھے! وہ چیخ رہے تھے، پَر لوگ ان کے پاس سے ایسے گزر رہے تھے جیسے انہیں نہ کچھ سنائی دے رہا ہو اور نہ کچھ دکھائی دے رہا ہو۔ آخرکار مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آخر کیوں آپ کا یہ حال ہے؟ آپ اپنا علاج کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ کا اس دنیا میں کوئی نہیں؟ آپ کا ایک بازو کیوں نہیں اور کس حادثے میں ضائع ہوا؟
انہوں نے نظر اٹھاکر میری طرف دیکھا اور کہا ’’سننا چاہو گی کہ کیا بیتی ہے مجھ پر؟ تو سنو! میرے ایک، دو نہیں بہت سے رشتہ دار اور بیٹے ہیں، بہت سے لختِ جگر ہیں میرے۔ اور میرے اس حال کی وجہ بھی وہ ہی ہیں۔
میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا ’’کیا مطلب؟
انہوں نے کہا ’’آج 16دسمبر ہے اور آج سے 41 سال پہلے آج ہی کے دن میرے ہی بھائیوں، میرے ہی بیٹوں نے مجھ سے میرا بازو جدا کردیا، اور آج بھی وہ میرے جسم کے ہر حصے پر زخم لگاتے ہیں۔ وہ میری آنکھوں، میرے پیروں، حتیٰ کہ میری شہہ رگ کو بھی کاٹ دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا ’’آخر وہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
انہوں نے کہا: ’’اس لیے کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ میری ہی وجہ سے آرام و سکون میں ہیں، میری ہی وجہ سے آزاد ہیں۔ میں ہی ہوں جس کی وجہ سے اُن کی شناخت ہے، اور جتنا کچھ اُن کے پاس ہے صرف میری وجہ سے اور میرے نام کی وجہ سے ہے۔
میں نے ان کی بات سن کر سوال کیا ’’آپ کا نام کیا ہے؟
انہوں نے جواب دیا: ’’پاکستان
ان کے جواب سے میں ششدر رہ گئی اور شرمندہ ہوگئی۔
جی ہاں یہ ہمارا پاکستان ہی ہے جو لہولہو ہے۔ جس کا دایاں بازو اس سے آج ہی کے دن جدا کردیا گیا، اور آج ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم بھی نہیں۔ اور اب اس کا دشمن چاہتا ہے کہ اس کے وجود کو ہی مٹادیا جائے۔ یہ روز روز کے بم دھماکے، بلوچستان کے خراب حالات اور کشمیر پر بھارت کا قبضہ… یہ سب اسی بات کی کڑی ہے۔ یہ سب پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اور ایسے بہت سے لوگ ہمارے درمیان ہیں جو لگتے تو اپنے ہیں مگر وہ بھی دشمن کی اس سازش کا حصہ ہیں، اور وہ بھی ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ دشمن سے زیادہ وہ اس ملک کو نقصان سے دوچار کررہے ہیں۔ پس ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے اندر جو دشمن موجود ہیں انہیں پہچانیں، کیونکہ ہم اپنے بیرونی دشمن کو تو جانتے ہیں لیکن اندرونی دشمن ابھی بھی ہم سے پوشیدہ ہے۔
کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا
شیر تھا میں بھی اِک ارضِ بنگال کا
مشرق سے مغرب تک میری پرواز تھی
ایک شاہیں تھا میں ذہنِ اقبال کا
ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل
دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems