میرا صفحہ > مضامین > ایک جسم Bookmark and Share
   |  اگلا مضمون >>  
Sumayya Mansoor
Sumayya Mansoor
Student
ایک جسم
تاریخِ تخلیق Feb 13th 2013
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  462
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
آہ! میرے سر میں بہت درد ہے اور بخار بھی تیز ہے۔ چلو ڈاکٹر کے پاس چلتی ہوں۔ پر یہ کیا! میرے پیر تو جاہی نہیں رہے بلکہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم کیوں جائیں؟ تمہیں درد ہے ہم کیوں خود کو تھکائیں؟
گیند تیزی سے میری طرف بڑھ رہی ہے، اگر میں نے اپنے ہاتھ سے نہ روکا تو یہ میرے سر پر لگ جائے گی اور زبردست چوٹ لگ جائے گی مجھے۔ ارے پر میرے ہاتھ تو حرکت سے انکاری ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں پکڑ رہے، ہمیں تو نہیں لگے گی گیند پھر ہم کیوں پکڑیں؟
دوستو کیا آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟ نہیں ناں! تو پھر آپ کیوں ایسا کرتے ہیں؟ نہیں سمجھے؟ چلیے میں سمجھاتی ہوں۔ حدیث کا مفہوم ہے: مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں، اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو وہ پورے جسم کو محسوس ہوتی ہے۔
جس طرح سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہماری طرف گیند بڑھ رہی ہو اور ہمارے ہاتھ نہ روکیں، یا ہمیں ڈاکٹر کے ہاں جانا ہو اور ہمارے پیر نہ جائیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان تکلیف میں ہو اور ہم بیٹھ کر دیکھتے رہیں؟ پر ایسا ہوتا ہے۔ ہم تو کسی دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے بھی نہیں کہ شاید مسکراہٹ بھی ہمیں اب خریدنی پڑتی ہے۔ کیا ہم میں سے کسی نے بھی کسی دوسرے کو تکلیف سے نجات دینی چاہی! بلکہ ہم میں سے بہت سے دوست دوسروں کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں۔ کبھی کسی کے گھر کی بیل بجا کر بھاگ گئے، کبھی لوگوں کو فون کرکے تنگ کرکے خوش ہوگئے کہ آج تو ہم نے بہت مزے کرلیے۔ تو کیا ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے؟
ہمارا دین تو ہمیں لوگوں کو آرام دینے اور ان کی تکالیف کو دور کرنے کا درس دیتا ہے۔ پر آج ہم اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اور اگر وہ تکلیف ہماری وجہ سے ملی ہو تو اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اور پھر اگر کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوجائے تو ہم دوسروں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں۔ کیا واقعی ہمیں حق ہے کہ ہم دوسروں سے مدد کے طالب ہوں؟
   |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems