میرا صفحہ > کہانیاں > چالاک بندر Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Fahad Ahmed
Fahad Ahmed
The City Scool
چالاک بندر
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  985
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
دریا کے نزدیک ایک درخت پر ایک بندر ٹنگو رہتا تھا۔ وہاں چاروں طرف پھل دار درخت تھے۔ ٹنگو کے پاس دوسرے جانوروں میں تقسیم کرنے کے لئے کافی پھل تھے۔ ایسا ہوا کہ ایک دن مگرمچھ تیرتا ہوا درخت کی طرف آیا جہاں ٹنگو رہتا تھا، مگرمچھ خوراک تلاش کررہا تھا وہ دریا سے کوئی چیز پکڑنے کے قابل نہ تھا، وہ کمزور اور تھکا ہوا محسوس ہوا۔ مگرمچھ رینگتا ہوا دریا کے باہر گیا اور درخت کے نیچے لیٹ گیا، ٹنگو کو مگرمچھ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر افسوس ہوا، اس نے درخت کی نچلی شاخ پر چھلانگ لگائی اور کہا ”آپ اس جنگل کے اس حصے میں اجنبی دکھائی دیتے ہیں؟ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا میں کسی بھی طرح آپ کی مدد کرسکتا ہوں؟“
مگرمچھ نے جواب دیا ”اے دوست! میں بہت بھوکا ہوں اور کھانے کے لئے کچھ تلاش کرنے کے لئے ایک دور دراز جگہ سے آیا ہوں لیکن مجھے کچھ نہیں ملا، اب میں اتنا کمزور اور تھکا ہوا ہوں کہ میں مشکل سے سانس لے سکتا ہوں۔ میری بیوی میرا انتظار کررہی ہوگی وہ لازماً بہت بھوکی بھی ہوگی۔ یہ کہتے ہوئے مگرمچھ نے اپنا سر درخت کے تنے کے ساتھ رکھا۔ بندر مگرمچھ کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہ کرسکا، اس نے درخت سے کچھ پکے ہوئے پھل توڑے اور مگرمچھ کے کھانے کے لئے پھینکے۔ مگرمچھ نے پہلے کبھی اتنے مزیدار رس دار پھل نہیں کھائے تھے، وہ پھل سے لطف اندوز ہوتا رہا، کیونکہ بندر نے پکے ہوئے پھل پھینکنا جاری رکھا، حتیٰ کہ مگرمچھ نے جی بھر کر کھایا۔
مگرمچھ نے کہا ”شکریہ پیارے دوست“ آپ نے میری جان بچائی، کیونکہ میں بھوکوں مررہا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بدلے میں، میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں“۔ بندر نے کہا ”اس کے بدلے میں میرے لئے کچھ کرنے کی زحمت نہ کریں۔ آپ نے مجھے اپنا دوست کہا، یہی میرے لئے کافی ہے“۔
مگرمچھ نے ایک مرتبہ پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور رینگتا ہوا پانی کی طرف گیا۔ ٹنگو نے اسے دوبارہ واپس بلایا اور کہا ”اپنی بیوی کے لئے کچھ پھل گھر لے جاﺅ۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بھی بھوکی ہے“۔ بندر نے کیلوں کا ایک گچھا قریبی درخت سے توڑا اور اسے زمین پر پھینکا، مگرمچھ بہت خوش ہوا اور اس نے ٹنگو کا شکریہ ادا کیا اور کیلوں کا گچھا اپنی بیوی کے لئے لایا اس نے اپنی بیوی کو ٹنگو کے متعلق سب کچھ بتادیا۔ مگرمچھ کی بیوی تحفہ وصول کرکے خوش تھی، اسے بھی پھل بہت پسند آئے اور اس نے اپنے شوہر کو ہر روز پھل لانے کے لئے کہا۔
اس دن سے ٹنگو نے اپنے دوست کی بیوی کے لئے ہر روز پھل بھیجنا جاری رکھا، اس نے خوشی سے پھل کھائے، مگر جب اس نے درختوں پر پھل کے بارے میں سوچا تو وہ ناخوش ہوگئی، وہ جانتی تھی کہ مگرمچھ درختوں پر نہیں چڑھ سکتے اور اپنے لئے پھل نہیں توڑ سکتے۔ اسے بندر سے حسد ہوگئی۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا ”آپ کا دوست روزانہ پھل بھیجتا ہے، ہم نے پانی میں رہنے والی مخلوق کا شکار کیا اور کھایا، اب میں گوشت کھانے کی خواہش کرتی ہوں“۔
مگرمچھ نے کہا ”مگر اب میں تمہارے لئے گوشت کہاں سے لاﺅں“۔
اس کی بیوی نے کہا ”تمہارا دوست ٹنگو جی بھر کر پھل کھاتا ہے، وہ لازماً بہت موٹا ہوگا۔ اس کا گوشت لازماً نرم اور مزیدار ہوگا۔ ٹنگو کے نرم گوشت کے متعلق سوچ کر میرے منہ میں پانی بھر آتا ہے، مگرمچھ اپنے دوست کا احسان مند تھا، وہ بندر کو مارنا نہیں چاہتا تھا، اس نے کہا ”مجھے اپنے دوست کو دھوکہ دینے کے لئے مت کہو، تم جانتی ہو کہ وہ ہمارا محسن ہے“۔
اس کی بیوی نے کہا ”آپ میری ایک چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کرسکتے۔ میں اسے سارا نہیں کھاﺅں گی۔ میں صرف اس کا دل کھانا چاہتی ہوں“۔ مگرمچھ نے اپنی بیوی کو سمجھانے کی پوری کوشش کی، لیکن بے سود، آخرکار مگرمچھ کو ہار ماننا پڑی۔ مگرمچھ دوسرے دن ٹنگو کے پاس گیا تو وہ اس سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا۔ ٹنگو اپنے دوست کو پریشان دیکھ کر فکرمند تھا۔ اس نے کہا میرے دوست کیا آج آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کچھ پریشان دکھائی دیتے ہیں؟ کیا میں آپ کی کچھ مدد کرسکتا ہوں؟“
مگرمچھ نے جواب دیا ”میری بیوی آپ کی شکر گزار ہے، وہ ذاتی طور پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس جنگل کے ٹکڑے کو چھوڑ سکیں اور میرے گھر چل سکیں۔
ٹنگو کو اطمینان محسوس ہوا، اس نے مگرمچھ کو فکرمند نہ ہونے کے لئے کہا، اس نے مگرمچھ کی پیٹھ پر چھلانگ لگائی۔ جب وہ دریا کے وسط میں پہنچے تو مگرمچھ نے سچ بتانے کا فیصلہ کیا، وہ جانتا تھا کہ اب بندر بھاگ نہیں سکتا۔ ٹنگو نے جب سچ سنا تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اسے مگرمچھ کی ناشکری پر صدمہ ہوا۔ اس ایک منصوبہ سوچا اور مگرمچھ سے کہا ”آپ نے مجھے یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا میں آپ کی بیوی کو اپنا دل کھانے کی اجازت دینے پر خوش ہوں گا، لیکن افسوس! میں نے اپنا دل درخت پر چھوڑ دیا ہے، تمہیں واپس مڑنا پڑے گا، تاکہ میں اپنا دل لاسکوں۔
مگرمچھ یہ سن کر خوش ہوا، وہ بندر کو بغیر اس کے دل کے پیش کرکے اپنی بیوی کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ وہ دریا کے کنارے کی طرف واپس تیرتا گیا، جب وہ کنارے کے نزدیک گئے ٹنگو نے چھلانگ لگائی اور درخت پر چڑھ گیا۔ اس نے نیچے مگرمچھ کو دیکھا اور چلایا
”ایک وفادار دوست کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے۔ واپس جاﺅ اور اپنی بدنیت بیوی کو بتاﺅ کہ میرا دل دھوکے سے گرفتار نہیں کیا جاسکتا، یہ صرف دوستی میں دیا جاسکتا ہے“۔
مگرمچھ کو اپنے کئے پر بہت افسوس ہوا اور وہ اپنی بیوی کو کوستا ہوا واپس دریا کی جانب چل دیا۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems