ایک دفعہ محمد بن علی (حضرت امام جعفرصادق) کے زمانے میں مدینہ میں قحط پڑ گیا اورحالات کافی خراب ہوگئے تھے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ جب اس طرح کی صورت حال پیش آتی ہے تولوگ پریشان ہوجاتے ہیں اورپھر غذائی اشیا خرید خرید کر گھروں میں اکٹھا کرنا شروع کردیتے ہیں زیادہ ترلوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اشیاء خوراک زیادہ سے زیادہ جمع کرلیں۔ آپ نے اپنے پیشکار سے پوچھا کہ ہمارے گھرمیں غذائی اشیا کا ذخیرہ ہے یا نہيں؟ اس نے جواب دیا جی ہاں آئندہ ایک سال تک کا ذخیرہ موجود ہے۔ پیشکار شاید یہ سمجھ رہا تھا آپ اس سے یہ کہيں گے کہ چونکہ اس سال قحط پڑگیا ہے لہذا جاؤ کچھ مزید چیزیں ذخیرہ کرلو۔ لیکن اس کی سوچ کے برخلاف آپ نے حکم دیا کہ ہمارے پاس جتنا بھی ذخیرہ ہے اسے لے جاکربازارمیں فروخت کردو۔ پیشکار نے کہا کیا آپ کونہيں معلوم کہ اگرہم نے اپنی خوراک کا ذخیرہ بیچدیا تو پھر ملےگا نہیں۔ امام نے جواب میں فرمایا کہ عام لوگ کیا کررہے ہيں ؟ پیشکار نےکہا کہ لوگ روزانہ بازار سے روٹیاں خرید رہے ہيں اوربازارمیں جو و گندم ملا رہے ہیں۔ لوگ اسی مخلوط جو وگندم کی یا پھر خالی جو کی روٹیاں پکا رہے ہيں۔ آپ نے فرمایا کہ گندم کوفروخت کردو اورکل سے بازارسے ہمارے لئے بھی وہی روٹیاں خرید کرلاؤ جو عام لوگ کھا رہے ہیں کیونکہ ایک ایسے وقت جب عام لوگوں کے پاس نہيں ہے توہم بھی صرف گندم کی روٹیاں نہيں کھاسکتے اورجب عام لوگ گندم کی روٹیاں کھانے کی توانائی نہيں رکھتے توہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی اپنی سطح زندگی انہی کے برابرلےجائيں۔