میرا صفحہ > کہانیاں > بات Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
angabeen fatimah
angabeen fatimah
تھران
بات سننےوالا چور
تاریخِ تخلیق Aug 8th 2011
تمام تبصرے : 1
دیکھے گئے :  813
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
احمد خضرویہ کے گھر میں ایک چور داخل ہوا اس نے گھرمیں ادھر ادھر بہت ڈھونڈا مگراسے کچھ بھی نہ ملا جس کی وہ چوری کرتا ۔ جب وہ ناکام ہوکر لوٹنے لگا تو اچانک احمد نے اسے آوازدی اورکہا۔
اے جوان یہ بالٹی اورکنویں سے پانی نکال کروضوکر اورنماز پڑھ اس عرصے میں اگرمجھ تک کوئی چیزآگئي تو میں تجھے دے دوں گا میں نہيں چاہتا کہ تو اس گھر سے خالی لوٹے۔
اس جوان نے ایسا ہی کیا اورکنویں سے پانی نکالنے کے بعد وضوکرکے نماز پڑھی ۔ اس وقت تک دن نکل آيا تھا اسی اثناء میں کسی نے احمد کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اورایک سوپچاس دینار احمد خضرویہ کے حوالے کیا اورکہا کہ آپ کی خدمت میں یہ ہدیہ ہے ۔
احمد نے اس چور سے کہا کہ دینار لے لے اورجا؛ یہ اس رات کی جزا اورانعام ہے جس میں تونے نماز پڑھی ہے ۔ یہ سنتے ہی چور کے اندر ایک عجیب سی کیفیت اورتبدیلی رونما ہوئي اوراس کا پورا بدن کانپنے لگا۔ روتا ہوا وہ شیخ خضرویہ کے قریب پہنچا اورکہنے لگا اب تک میں غلط راستے پرچل رہا تھا ایک رات میں نے اللہ کے لئے مخصوص کردی اورنماز پڑھی تو خدا نے مجھے یہ انعام واکرام عطا کیا ہے اورمجھے بے نیاز بنادیا ۔ اس نے کہا کہ آپ مجھے اپنے ہی پاس رکھ لیجئے تا کہ آپ کی خدمت میں رہ کرصحیح راستے پرچل سکوں اس نے یہ کہتے ہوئے دینار کی تھیلی شیخ احمد خضرویہ کوواپس کردی اوران کا مرید ہوگیا ۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 1
Sumayya بھت ءمدہ Sumayya
Dec 22nd 2012
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems