میرا صفحہ > مضامین > مجھ سے Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
Islam Learner
Islam Learner
NIL
مجھ سے ملئے !!!
تاریخِ تخلیق Apr 12th 2011
تمام تبصرے : 2
دیکھے گئے :  612
3 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
السلامُ علیکم
میں آپکی دوست ہوں، سہیلی ہوں، کرن ہوں اُجالے کی۔ میری کئی نام ہیں آس، آرزو، خواہش، اُمید، تمنا۔ آپ جس نام سے چاہیں مجھے پُکارسکتے ہیں۔ میں آپکے، آپ سب کے دلوں میں براجمان ہوں کہیں خواہش کے رُوپ میں تو کہیں ڈر و خوف کی صورت میں۔ کہیں فتح کی مانند تو کہیں ہارے ہوئے جواری کی طرح خاموش جو اپنا سب کچھ ہار کے چُپ ہو بیٹھا ہے۔ لیکن میں اُجالے کی طرح وہیں آپکے دل کو گرماتی ہوں اِک نیا عزم و حوصلہ دیتی ہوں، آپکوآپکے اللہ سے ملواتی ہوں جوہمیشہ سے ہی کہتا ہے کہ، "اورمیری رحمت سے تو بس کافرہی مایوس ہواکرتے ہیں"۔ تو ایسا ممکن نہیں کہ میں بذات آپکی دوست، آپکی سہیلی آپکے دل میں جلتے ہوئے عزم واُمید کے شعلوں کوٹھنڈا کروں اورآپکو اللہ کی رحمت سے مایوس کروں، نہیں کبھی نہیں البتہ میری حریف، مایوسی جسکو نااُمیدی بھی کہتے ہیں کبھی کبھارآپکے دل کے تخت پر فخرسے اُس وقت براجمان ہو جاتی ہے جب آپ مجھ پربھروسہ نہیں کرتے کیونکہ دوستی کی پہلی شرط اعتماد وبھروسہ ہی تو ہے۔
ہم دونوں ایک ہی جگہ وجودپاتی ہیں مگرساتھ نہیں رہتی کیونکہ جب نااُمیدی غلبہ پاتی ہے توآپ مجھے وہاں سے ہٹا دیتے ہیں اورآپکا مجھے وہاں ہٹانا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپکوتپتے صحرا میں چھوڑ دینا۔ لیکن میں وہیں کسی کونے میں دبک کر بیٹھ جاتی ہوں کیونکہ مایوس سے مایوس تو آپ ہوئے ہیں میں نہیں، نہ آپ سے نہ خود سے اورنہ اللہ کی ذات سے۔ نااُمیدی آپکی سوچنے سمجھنے کی طاقت سلب کر لیتی ہے۔ آپکو بدظن کرتی ہے خود سے، مجھ سے اوراُن حالات سے جو اللہ نے کسی مصلحت کے تحت آپکے لئے پیدا کئے ہوتے ہیں لیکن آپ سوچ ہی کب سکتے ہیں کیونکہ دل کیساتھ ساتھ آپ اُسکواپنے دماغ پر بھی قابض کرچُکے ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ اللہ کی رحمت سے نااُمیدہو جاتے ہیں توخود کو مایوسی کے سُپردکردیتے ہیں اوریہ سپُردگی اُس وقت عمل میں آتی ہے جب خودکو اللہ کی پناہ سے چھڑوانے کی سعی کرتے ہیں سوچے بنا کہ چھوڑتے آپ ہیں اللہ نہیںبلکہ وہ توخاموش ہوکردیکھتے ہیں کہ میرابندہ کب تک ایساکرتا ہے۔
اورپھروہ وقت آتا ہے جب اِنسان دوراستوں میں سے ایک راستہ اِختیارکرتاہے۔ پہلا راستہ واپسی کامثبت راستہ، دُوسراراستہ آگے بڑھنے کامنفی راستہ۔
پہلا راستہ: واپسی کا راستہ ظاہرکرتا ہے کہ بندے نے اللہ پر کامل یقین رکھ کرخود کو، اپنی سوچ کونااُمیدی سے آزادکروالیا ہے اورسب اللہ پر چھوڑدیا ہے۔ اُس وقت وہ مایوسی کودھکے مار کر نہیں نکالتا جیسے مجھے نکالاتھا بلکہ مجھے اِختیارسونپ دیتا ہے کہ میں اُسکووہاں سے رُخصت کروں۔ اورمیرے وہاں جاتے ہی وہ خودبخوداپنا سا منہ لیکروہاں سے چلتی بنتی ہے۔ پھروہ اللہ کاشُکربجا لاتاہے کہ وہ صبح کا بھولا شام کو ہی واپس آگیا۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہے، “جسکوشکر کرنے کی توفیق ملتی ہے اُسے برکت بھی ملتی ہے“۔۔
واپس آکر، اللہ کا شُکربجا لانے پرآپکوکہا جاتا ہے، “مُبارک ہوں یہاں آپ نے اللہ کو پالیا ہے“۔ اورجس نے اللہ کو پالیااُسکے کام خودبخود بن جاتے ہیں۔
دُوسراراستہ: اس راستے پربندہ اُس وقت چلتا ہے جب نااُمیدی اُس کے دل کے سنگھاسن پراُسی طرح براجمان اوراُسکے دل و دماغ پرقابض رہے۔ یہاں نہ اُسکو خود پریقین ہوتا ہے نہ کسی پر۔ اپنوں کی تسلی، اللہ کی بات کہ مایوس نہ ہو، اُس کا شکر بجا لاو، سب اُس کے دماغ میں فلم کی طرح چلتی ہے لیکن میری حریف اُسکواُس پرعمل کرنے کی مہلت ہی نہیں دیتی اوردیمک کی طرح اُسکوچاٹتی رہتی ہے چاٹتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ واپس نہ ہوکرآگے بڑھتا ہے اورآپ جانتے ہیں کہ آگے کا راستہ بغیرکسی اُمید، آس اوریقین کے دیرپا کب رہتا ہے؟ کب اُسکی کوئی منزل ہوتی ہے۔ لیکن خود کومطمئن کرنے کیلئے وہ چلتا رہتا ہے چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ خود کو برباد کر لیتاہے اوراگرواپس آتا بھی ہے تو خالی ہاتھ، تہی داماں، جسکے پاس سوائے ندامت کے آنسووں کے اورکچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ پھربھی اُسکواپناتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
سورۃ ابراہیم میں ہے، “اوریادرکھو، تمہارے رب نے خبردارکردیا تھا کہ اگر تم شکرگزاربنوگے تو میں تمکو اورذیادہ نواز دوں گا اوراگرکفرانِ نعمت کروگے تو میری سزابہت سخت ہے۔“۔۔
والسلام
زارا
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 2
Urooj بہت اچھا ہے......:-) Urooj
Feb 5th 2012
 
 
Bint waseem بہت اچھا ہے Bint Waseem
Sep 23rd 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems