میرا صفحہ > مضامین > کیا ہم Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
Islam Learner
Islam Learner
NIL
کیا ہم قابل رحم قوم ہیں؟
تاریخِ تخلیق Apr 12th 2011
تمام تبصرے : 1
دیکھے گئے :  505
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
السلام علیکم
میں کسی جگہ لبنانی امریکی جبران خلیل جبران کے کہے ہوئے یہ الفاظ پڑھے تھے اورجب دوبارہ ڈائری کھولی تو نے یہ فقرے میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ یوں لگتا ہے اُس نے یہ الفظ آج کی پاکستانی قوم کیلئے کہے تھے۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کپڑا پہنتی ہے جو اس نے بُنا نہیں ۔ اناج کھاتی ہے جو اس نے اُگایا نہیں

قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے افراد کی خوبی ٹانکا لگانے اور نقل کرنے کا فن ہو

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو طیش کو اپنے تخیّل میں بُرا سمجھتی ہو مگر عمل میں اس کی اطاعت کرتی ہو

قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے اعتقادات تو بہت ہوں مگر دِل دین سے خالی ہوں ۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو گروہوں میں بٹی ہو اور ہر گروہ اپنے آپ کو قوم سمجھتا ہو

قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے سیاستدان یا صاحبِ تدبیر فریبی اور مفّکر مداری ہوں ۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنی آواز بلند نہیں کرتی سوائے جب جنازہ کے ساتھ چلے ۔ کسی کی تعریف نہیں کرتی سوائے مرنے کے بعد ۔ اور سرکشی اس وقت تک نہیں کرتی جب تک کہ موت سامنے نہ آ جائے۔

کیا واقعی ہی میں ہم قابل رحم قوم ہیں؟ سوچئے اور خود فیصلہ کیجئے۔

زارا
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 1
Bint waseem زارا آپ بہت اچھا لکھتی ہیں Bint Waseem
Sep 23rd 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems