میرا صفحہ > مضامین > کیبل کی آپ Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
Fahad Ahmed
Fahad Ahmed
The City Scool
کیبل کی آپ بیتی
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 1
دیکھے گئے :  628
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
میرا نام کیبل ہے۔ ڈش اینٹینا اور وی سی آر میرے بھائی ہیں۔ میری امی کا نام ٹی وی ہے، جنہیں لوگوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہے، آج کل ان کے بغیر کوئی بھی فیملی نامکمل تصور کی جاتی ہے، گویا وہ ہر فیملی کا حصہ بن چکی ہیں۔
میرے باپ کا نام شیطان ہے۔ میرے بھائی ڈش اینٹین اور وی سی آر نکمے نکلے۔ غریب لوگوں کو قرضے لے کر انہیں حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن پھر بھی میرے بھائی ڈش نے کچھ عرصے پہلے بڑی شہرت کمائی۔ جس گھر کی چھت پر دیکھو، میرا بھائی نظر آتا تھا۔ اس میں ایک خرابی تھی کہ اس نے لوگوں کا اخلاق کم بگاڑا تھا۔ جب میں (کیبل) پیدا ہوئی تو منصوبہ یہ بنایا گیا کہ مجھے سستے سے سستا بنایا جائے۔ تاکہ غریب لوگ بھی مجھے دیکھنے سے محروم نہ ہوجائیں۔ مجھے کسی بھی گھر میں پہنچانے کے لیے صرف ایک تار لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مجھے پیدا ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، لیکن میری شہرت اس قدر زیادہ ہے کہ جسے دیکھو، میری ہی باتیں کرتا نظرآتا ہے۔ دراصل ہمارا مقصد یہی ہے کہ نوجوان نسل کو گمراہ کردیا جائے۔
آپس کی بات بتائوں، میرا باپ شیطان میرے بغیر کچھ نہیں کرسکتا اور میں اس کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی۔ وہ پہلے لوگوں کو مجھے دیکھنے پر اکساتا ہے اور جب لوگ مجھے دیکھنے لگتے ہیں و میرے جال میں ایسے پھنس جاتے ہیں کہ ان کا نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے بڑے کارناموں میں ایوارڈ یافتہ کارنامہ یہ ہے کہ میں نے معاشرے میں اخلاقی برائیوں کو فروغ دیا۔ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں اپنے امی ابو (ٹی وی اور شیطان) کی لاڈلی ہوں، لیکن ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے بھی میرے خاندان والوں کو کچھ لوگوں سے بے انتہا خوف محسوس ہوتا ہے، کیوں کہ وہ ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے خلاف نہ جانے کیا کیا باتیں کرتے ہیں اور ہم سے بچنے کے طریقے بھی لوگوں کو سمجھاتے ہیں۔ ہمیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں لوگوں کی غیرت نہ جاگ جائے۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ معاشہ مکمل تباہی سے بچا ہوا ہے۔ اگر وہ لوگ نہ ہوں تو یہ معاشرہ بہت پہلے تباہ و برباد ہوچکا ہوتا، یعنی ہم اپنے مقصد میں اب تک کامیاب ہوچکے ہوتے۔

  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 1
HAFSA بئھت اچھا لکھا حے HAFSA
Jan 1st 2014
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems