میرا صفحہ > کہانیاں > خرگوش کی Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Muhammad rohaan
Muhammad rohaan
ڈیسٹینیشن گرامر اسکول
خرگوش کی شرارت
تاریخِ تخلیق Jan 18th 2011
تمام تبصرے : 3
دیکھے گئے :  1749
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
بہت دن گزر گئے کچھوے اور خرگوش کی ملاقات نہ ہوئی۔ جس نہر میں کچھوے کا قیام تھا اس کے خشک ہونے پر اسے نقل مکانی کرنی پڑی۔ خرگوش کو بھی اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ دونوں مخالف سمتوں میں دور ہوگئے۔ خرگوش کچھوے سے ملنے کے لیے بے قرار تھا لہٰذا جب اسے معلوم ہوا کہ کچھوا پہاڑوں کے دوسری طرف ایک جھیل میں رہ رہا ہے تو اس سے رہا نہ گیا۔ وہ ایک دن اس سے ملنے کے لیے چل دیا۔ سفر لمبا تھا لیکن خرگوش کو کوئی فکر نہ تھی۔ وہ صبح سویرے روانہ ہوا اسے یقین تھا کہ شام تک واپس آجائے گا۔
موسم اچھا تھا، شکاری جانوروں کا بھی دور دور تک پتا نہ تھا۔ خرگوش مزے سے قلانچیں بھرتا دوڑ رہا تھا۔اچانک ایک خشک پہاڑی نالے میں اس کا سامنا جنگلی بلی سے ہوگیا۔ بلی کو دیکھ کر وہ ڈر گیا لیکن بلی نے اس پر توجہ نہ دی۔ وہ آہستہ تھکی تھکی چلی آرہی تھی، قریب آنے پر خرگوش نے دیکھا کہ وہ بہت کمزور اور بیمار ہے۔ خرگوش کو اسے کوئی خاص خطرہ نہ تھا۔
کہاں جارہے ہو، بلی نے کمزور آواز میں پوچھا۔
اپنے دوست کچھوے سے ملنے جارہا ہوں اور تم کدھر چلیں۔ خرگوش نے پوچھا۔
میری طبعیت ٹھیک نہیں کسی نے بتایا تھا کہ اس علاقے میں ایک خاص بوٹی اگی ہے جس میں نیلے پھول لگتے ہیں وہ ڈھونڈتی پھر رہی ہوں۔ بھائی خرگوش کیا تم میری مدد کرسکتے ہو۔ بلی نے پوچھا۔
خرگوش فوراً سمجھ گیا اسے معلوم تھا کہ نیلے پھول والی بوٹی کہاں اگی ہے وہ اسے پتا سمجھانے لگا لیکن اسے شرارت سوجھی اور اس نے بلی کو جنوب کے بجائے مخالف سمت شمال کی طرف بھیج دیا۔ بلی شکریہ ادا کرتے ہوئے روانہ ہوگئی۔خرگوش مکاری سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
دوپہر تک وہ پہاڑوں کے پار جھیل پر پہنچ گیا۔ جھیل پیالے کی شکل میں تھی۔ اس کا شفاف پانی دھوپ میں چمک رہا تھا،ڈھلوانوں پر گھاس اگی تھی جن پر رنگ برنگے پھولوں کی جھاڑیاں نظر آرہی تھیں، لمبے درخت بھی جھیل پر جھک آئے تھے ان کا عکس پانی میں بہت حسین لگ رہا تھا۔ سفید آبی پرندے بھی پانی پر نظر جمائیں شکار کی تلاش میں ایک ٹانگ پر کھڑے تھے۔
خرگوش کو وہ جگہ بہت پسند آئی لیکن کچھوے کا کچھ پتا نہ تھا۔ خرگوش پانی کے کنارے چلا آیا اور اسے آوازیں دینے لگا۔ کچھوا نہر میں آرام کررہا تھا، اس تک خرگوش کی آواز نہ پہنچی۔ خرگوش انتظار کرتا رہا لیکن کچھوا باہر نہ آیا تو خرگوش نے سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔ ایک درخت کے نیچے ڈھیروں سوکھے پتوں سے ایک نرم بستر سا بن گیا تھا۔خرگوش اس پر لیٹ گیا۔ جھومتے درختوں اور جھیل کے شفاف پانی سے ہو کر آتی خوشگوار ہوا نے جلد ہی اسے سلادیا اور وہ خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔
تھوڑی دیر بعد کچھوے نے پانی سے گردن باہر نکالی اور کنارے پر خرگوش کو سوتا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اسے بہت خوشی ہورہی تھی، وہ باہر چلا آیا۔ خرگوش ابھی تک سویا ہوا تھا۔ اس نے خرگوش کو اٹھانا چاہا لیکن پھر خیال آیا اتنی دور سے چل کر آیا ہے کچھ آرام کرکے خود جاگ جائے گا، چنانچہ وہ ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر ہی گزر رہی تھی کہ کچھوے نے محسوس کیا کہ جھیل کا پانی کناروں سے باہر آرہا ہے، دراصل پہاڑوں پر بارشیں شروع ہوگئیں تھیں جس کی وجہ سے اکثر پانی کے ریلے جھیل میں آگرتے تھے۔ کچھوا خرگوش کو ہوشار کرنے بڑھ ہی رہا تھا کہ پانی کا زبردست چھال آئی اور پانی اس تک آپہنچا۔ وہ پانی میں تیرے لگا لیکن یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوگیا کہ خرگوش بھی پانی کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ دراصل خرگوش جن پتوں پر سویا ہا تھا ان کے نیچے ایک ٹوکرا دبا تھا جو اب کشتی کی طرح تیر رہا تھا۔ لہریں ٹوکرے کو گہرے پانی کی طرف لے جارہی تھیِں، حیرت انگیز طور پر خرگوش ابھی تک سویا ہو اتھا۔ کچھوا گھبرا گیا۔ وہ جانتا تھا کہ خرگوش تیرنا نہیں جانتا۔ وہ ٹوکرے کے ساتھ ساتھ تیرنے لگا۔ ساتھ ہی دعا بھی کررہا تھا کہ ٹوکرے کا توازن برقرار رہے اسے جھیل میں موجود مگرمچھوں سے بھی خطرہ تھا۔
جلد ہی خرگوش جاگ گیا اور خود کو پانی میں بہتا دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا۔ کچھوے نے اسے تسلی دی اور ہلنے جلنے سے منع کیا۔ خرگوش کی بری حالت تھی۔ ٹوکرا پانی کے ساتھ بہہ جارہا تھا۔ا کچھوے میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اسے کھینچ کر کنارے تک لے آئے لیکن وہ مسلسل ٹوکرے کے ساتھ لگ کر تیر رہا تھا اس کی کوشش تھی کہ ٹوکرا بہنے کے ساتھ ساتھ کنارے کی طرف ہوتا رہے، آہستہ آہستہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہونے لگا۔ ٹوکرے اور کنارے کا فاصلہ کم ہوتا گیا۔ آخر ٹوکرا کنارے سے آلگا۔ خرگوش نے جلدی سے خشکی پر چھلانگ لگائی اور ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ہانپتے ہوئے بولا۔ میری قسمت ہی خراب ہے، میرے ساتھ کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ وہ بہت جھنجھلایا ہوا تھا۔
کچھوا بولا۔ دکھ تکلیف ہر جاندار پر آتے ہیں ہمیں بہادری سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ لیکن میرے ساتھ یہ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ خرگوش رونی صورت بنا کر بولا۔
یہ محض اتفاق ہے بہرحال ہمیں اپنے افعال پر نظر رکھنی چاہیے کہیں ہم دانستہ یا نادانستہ اللہ کی مخلوق کو تکلیف تو نہیں پہنچا رہے۔ کچھوا بولا۔
خرگوش کو صبح والی حرکت یاد آگئی وہ شرمندہ ہوگیا۔ ندامت سے اس کی گردن جھک گئی تھی۔
چلوچھوڑو کچھ اور بات کرو۔ تمہارے علاقے میں کیا حالات ہیحں۔ کچھوا اس کے چہرے پر پڑھتے ہوئے بولا۔
ہمیں دو مرتبہ علاقہ چھوڑنا پڑا،انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی جنگل کا صفایا کررہی ہے۔ خرگوش نے کہا۔
ہاں، جنگلی حیات پر بہت برا وقت آگیا ہے۔ کچھوا فکر مندی سے بولا۔ دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر خرگوش نے اجازت چاہی، شام کے سائے گہرے ہورہے تھے، کچھوا اسے کچھ دور تک چھوڑنے گیا۔ خرگوش اس سے گلے ملا اور دوبارہ جلد ملاقات کا وعدہ کرکے روانہ ہوگیا۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 3
Shabana اچھی کوشش Shabana
Dec 8th 2013
 
 
Shabana اچھی کوشش Shabana
Dec 8th 2013
 
 
Midhat بے حد عمدہ Midhat
Jan 11th 2012
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems