میرا صفحہ > کہانیاں > ڈراپ سین Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
jamshed jimmi
jamshed jimmi
ڈراپ سین
تاریخِ تخلیق Oct 28th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  858
3 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
قمر، سلمان، اور شعیب آپس میں چچا زاد بھائی تھے اور جامعہ کراچی میں زیر تعلیم تھے، انہیں کیمپنگ کا بھی تجربہ تھا۔ جب ان کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو انہوں نے ارادہ کیا کہ اس دفعہ وہبھی کیمپنگ کرنے جائیں گے، لیکن ان کے دو ماموں زاد بھائی شاہ زیب اور شاہ رخ جو کالج میں پڑھتے تھے اور جڑواں تھے، وہ بھی جانے کی ضد کرنے لگے، بڑی منت سماجت کے بعد ان کے والدین نے انہیں اس شرط پر جانے کی اجازت دی کہ وہ قمر کی ہر بات مانیں گے کیوں کہ وہ سب سے بڑا تھا۔
اگلے دن سے انہوں نے جانے کی تیاریاں شروع کردیں، پوری طرح تیاری کے بعد انہوں نے جنگل میں جانے کا ارادہ کیا۔ سہیل نے اپنے ابو کی مضبوط جیپ لی اور شام کے وقت نکلے۔ ان چاروں نے باری باری گاڑی چلائی لیکن شاہ زیب اور شاہ رخ کو گاڑی چلانے کی اجازت نہ ملی۔ ایک دن کے بعد وہ لوگ ایک جنگل میں پہنچے اور گھنی جگہ پر اپنا خیمہ کھڑا کیا۔ وہ لوگ شام کے وقت وہاں پہنچے تھے، تو انہوں نے اپنی بندوقیں، دور بین اور کچھ بسکٹ وغیرہ لیے اور گھومنا پھرنا شروع کردیا۔ وہ لوگ کافی دیر تک گھومتے رہے، انہوں نے ایک دو خرگوشوں کا بھی شکار کیا اور سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے وہ لوگ واپس شاہ زیب اور شاہ رخ کے گھر پر بھی فون کردیا اور ادھر وہ دونوں گھومتے رہے، اچانک شیر کی آاواز سنائی دی جس سے شاہ رخ گھبراگیا اور گاڑی کو ایک درخت سے ٹکر ہوگئی اور گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی، ان دونوں نے گاڑی کو دھکا لگایا تو وہ چلی لیکن انہیں اپنا خیمہ کہیں نظر نہیں آیا اور وہ راستہ بھٹک گئے، وہ دونوں بہت پریشان ہوئے ایک گھنی جگہ گاڑی دوبارہ رک گئی، شاہ زیب نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ شعیب بھائی کو موبائل سے فون کردیتے ہیں۔ اگر قمر بھائی کو کیا تب تو ہماری خیر نہیں۔ شاہ رخ نے کہا یہ ٹھیک رہے گا، بڑی امیدوں کے ساتھ جب شاہ رخ نے اپنا موبائل نکالا تو دیکھا کہ سگنل غائب ہیں وہ دونوں اور پریشان ہوئے۔ خیر انہوں نے گاڑی کے شیشے چڑھائے اور کونے میں دبک کر بیٹھ گئے، کبھی شیر کی دھاڑ سنائی دیتی تو کبھی خرگوش پھدکتا ہوا آجاتا تو کبھی لومڑی کی چیخ سنائی دیتی۔ امی، ابو، قمر، سلمان، سہیل، شعیب، شاہ رخ اور شاہ زیب سب پریشان تھے، اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی چڑیوں کی چہچہانے کی آواز آئی اور سورج نکلا تو شاہ زیب اور شاہ رخ نے ڈرتے ڈرتے گاڑی سے اپنا سر نکالا تو پتا کہ وہ اپنے خیمے کے پیچھے ہی کھڑے تھے۔ اب آگے آپ خود ہی سمجھ جائیے۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems