میرا صفحہ > مضامین > سر سید Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
Fahad Noman
Fahad Noman
سر سید احمد خان
تاریخِ تخلیق Oct 13th 2010
تمام تبصرے : 2
دیکھے گئے :  830
1 فرد اس صفحہ کو پسند کرتا ہے!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
17 اکتوبر 1817ءکو دہلی میں پیدا ہوئے بچپن سے ہی بڑے ذہین تھے۔ آپ کو مطالعہ کا بے انتہا شوق تھا۔ جب بڑے ہوئے تو اپنی قوم کا حال دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ مسلمان انگریزوں کی غلامی میں آچکے تھے، 1857 تک پورے ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوچکی تھی، ہندوستان میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں کی بھی گردن اڑادی گئی، سرسید روتے تھے لیکن کوئی تدبیر نظر نہ آئی، انہوں نے سوچا اب رونے دھونے سے فائدہ کیا۔ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا، ان کے ذہن میں خیال آیا کہ انگریزوں نے جس علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ہنر کو اپنا کر ہمیں غلام بنایا ہے ہمیں ان کا علم بھی ضرور ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی انگریزوں سے مقابلہ ممکن ہوگا، دھن کے پکے اور عزم کے جوان تھے، بس جم گئے اپنی بات پر، قوم نے مخالفت کی، کوئی کافر کہے، کوئی دیوانہ تو کوئی مجنوں لیکن سر سید رکنے والے کہاں تھے شہر شہر، قریہ قریہ، گاﺅں گاﺅ جاتے، مسلمانوں کو یہی بات بتاتے، فیصلہ کیا کہ وہ پہلے خود علی گڑھ میں ایک کالج کی بنیاد ڈالیں گے۔ مسلمانوں سے چندہ لینے نکلے، مسلمانوں انہیں چندہ بھی نہ دیتے۔ نوابوں، رئیسوں، دوست، احباب سب کی منت سماجت کرتے چندہ نہ ملتا تو کہتے کہ بھیک ہی دے دو۔ ایک ایک پیسہ جوڑا، خود ہی کالج کا نقشہ بنایا۔
سر سید نے ایک نمونہ بنا کر کھڑا کردیا۔ مسلم نوجوان بڑی مشکل سے کالج میں پڑھنے آتے، سر سید احمد خان کی بھی خوشامد کرتے، سر سید کے کالج میں دینی تعلیم بھی تھی اور جدید علم بھی، روزہ، نماز تو سب کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ اگر کوئی نہ کرتا تو اسے کالج سے ہی نکال دیا جاتا، طلباءمیں زبردست ڈسپلن تھا۔
سرسید احمد خان نے کہا کہ بچے ایسی تعلیم حاصل کریں کہ ان کے دائیں ہاتھ میں حکمت و فلسفہ، بائیں ہاتھ میں سائنس کے تکنیکی علوم اور سر پر
لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا تاج ہو۔ کتنا خوبصورت خواب تھا سر سید کا اور کیا نرالا انداز تھا۔
سرسید کے دشمن مات کھاگئے، سر سید جیت گئے، مسلمانوں نے جان لیا کہ اب منہ چرانے، سر چھپانے اور ہائے ہائے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، سر سید ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ علم و ہنر کے ہتھیار چھوڑ دینے کے بعد ہم نہتے ہیں، علی گڑھ کے طلباءپورے ہندوستان میں پھیل گئے، انقلاب آگیا، رویہ اور انداز بدل گئے اور ایک وقت آیا کہ مسلمانوں نے انگریزوں کے چھکے چھڑادئیے۔
سر سید نے اپنے ایک ایک طالب علم کو جو لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا تاج پہنایا تھا، آج پورے ایک ملک،ایک ریاست اور ایک قوم کاتاج بن گیا جس کا نام ہے پاکستان۔
دیکھا آپ نے ساتھیو سر سید کتنے ذہین، کتنے عقلمند اور کتنے در اندیش تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے، ان کی لحد کو نور سے بھردے اور آخرت میں انہیں اس عظیم کارنامے پر اجر عظیم دے۔ آمین
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 2
Engr. زبردست Engr.
Mar 12th 2013
 
 
Bint waseem اچھا ہے Bint Waseem
Sep 23rd 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems