میرا صفحہ > مضامین > دہلی Bookmark and Share
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  
sadeen khan
sadeen khan
دہلی
تاریخِ تخلیق Oct 8th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  722
پسند کیا

Rank 1 Out of 10
جب بات ذائقے دار نہاری، قورمہ اور خوشبو دار بریانی کی ہو تو دہلی کا نام خودبخود ذہن میں آجاتا ہے۔ جی ہاں بھارت کا دارالحکومت جو کہ دریائے جمنا کے کنارے آباد ہے، قدیم شہروں میں سے ایک ہے۔ دیگر قدیم شہروں کی طرح اس شہر کے گرد بھی چار دیواری بنی ہوئی ہے، قدیم وقتوں مین یہ شہر اندر پرستھ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہاں 1192ءمیں باقاعدہ اسلامی حکومت کا آغاز محمد غوری کے ہاتھوں ہوا جس نے راجا پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر صحیح معنوںمیں یہاں مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ 1526ءمیں مغل شہنشاہ بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کر یہاں مغلیہ حکومت قائم کی۔ آخر میں 1803ءمیں انگریزوں کی حکومت یہاں قائم ہوئی۔ یہی وہ شہر ہے جس کی خاک سے غالب، مومن خان مون اور ذوق جیسے بڑے بڑے شعراءپیدا ہوئے۔ اردو ادب کی ترقی میں اس شہر کو خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے۔
دہلی صدیوں تک اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز رہا۔ اسلامی دور کی شان و شوکت کی یادگاریں تاحال یہاںموجود ہیں، لال قلعہ، جامع مسجد، ہمایوںکامقبرہ، قطب مینار اور دیگر تاریخی عمارتیں سیاحوں کی دلچسپی کے مراکز ہیں۔ 1739ءمیں یہاں مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا مگر اس کے باوجود آج بھی یہاں اسلام کے شیدائی کثیر تعداد میں موجود ہیں اور اسلام کی سربلندی اور ابلاغ کے لیے کوشاں ہیں۔
  << پچھلا مضمون  |  اگلا مضمون >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems