میرا صفحہ > کہانیاں > آٹو گراف Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
Fahad Ahmed
Fahad Ahmed
The City Scool
آٹو گراف پلیز
تاریخِ تخلیق Jan 14th 2010
تمام تبصرے : 0
دیکھے گئے :  655
پسند کیا

Rank 25 Out of 10
لکھوں تو کیا لکھوں، لکھنے کے لیے کچھ نہیں بچا، لے دے کر صرف کہانیاں بچی ہیں، لکھنے کے لیے جو میں لکھنا نہیں چاہتا کیوں کہ کہانیاں لکھ کر میں ادیب کہلائوں گا جو کہ میں کہلانا نہیں چاہتا۔ ویسے لکھنے کے لیے تو کچھ نیہں بچا لیکن پھر بھی میں وکالت جیسا معزز پیشہ اپنانا چاہتا تھا، لیکن اس میں بھی ایک خامی ہے کہ وکیل بن کر بحث کرتے رہو جو کہ میں کرنا نہیں چاہتا۔ ویسے لکھنے کے لیے تو کچھ بھی نہیں بچا، لیکن مجھے ڈاکٹر بننے کا بھی شوق ہے لیکن ایسے ڈاکٹر دوسروں کا کیا علاج کریں گے جو خود بیمار رہتے ہیں، ویسے تو یہ صفحہ بھرنے کے لیے کچھ نہیں بچا، لیکن، سچ پوچھو تو مجھے اسکول ٹیچر بننے کا بھی بہت شوق ہے لیکن اس میں بھی ایک اندیشہ ہے وہ یہ کہ اگر امتحان کے قریب پیپر آئوٹ کرتے ہوئے پکڑا گیا تو۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو اب لکھنے کے لیے واقعی کچھ نہیں بچا لیکن اس کے باوجود میں رکشہ ڈرائیور ضرور بنتا لیکن رکشے کے پیچھے جو فقرے لکھے ہوتے ہیں ان سے مجھے چڑ ہے اور بنا لکھے میں رشکہ ڈرائیور بننا نہیں چاہتا۔ جی باجی کہاں چلی، سڑکوں کا شہزادہ، تو چل میں آیا، رکشہ میں بیٹھنے والے تجھ کو سلام میرا، موت کے منہ میں بیٹھ کر خوشیاں منانے والو، خدا حافظ تمہارا رشکہ چلانے والو اور دیکھ مگر پیار سے وغیرہ۔
دیکھ مگر پیار سے پر ایک واقعہ یاد آیا، ہوا یہ کہ ایک ہم چند دوست تفریح کی غرض سے گھروں سے نکلے دو دن پہلے ہی بڑے زوروں کی بارش ہوئی تھی لہٰذا موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن اس شہر عروس البلاد کی سڑکوں پر دو دن بعد بھی کیچڑ اور گندے پانی کے تالاب کسی غلظ جھیل کا نظارہ پیش کررہے تھے، ہم بھی اس وقت ایک ایسی ہی شاہراہ سے گزر رہے تھے۔ ہم سے چند قدم آگے ایک صاحب اپنی دھن میں مست چلے جارہے تھے، جو مشکل سے تو چلتی کے نظر آرہے تھے لیکن اردو کا کوئی نغمہ، دھیمی آواز میں گنگنارہے تھے، اچانک پیچھے سے ایک رکشہ تیز رفتاری کے تمام پچھلے ریکارڈ کانچ کے برتنوں کی طرح توڑتا ہوا آیا ہم تو رکشے کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ایک جانب ہوگئے تاکہ اپنے قیمتی سوٹ )ٹی شرٹ، دھوتی اور سر پر ترکی ٹوپی) کو کیچڑ کے حملےسے محفوظ رکھ سکیں۔۔۔۔۔ لیکن ملک چلتی کے وہ شیخ چلی اسی طرح اطمینان سے گنگناتے ہوئے چلنے میں مصروف رہے۔ شاید وہ اپنی شامت اعمال کو دعوت دے رہے تھے۔ نتیجے میں رکشہ جب ان کے نزدیک سے گزارا تو گندے پانی اور کیچڑ کی جیسے اس پر یلغار ہوگئی ہو، پہلے تو ان کی سمجھ میں نہیں آیا اور جب آیا تو وہ بھاگے رکشے کے پیچھے، مارے غصے کے ان کے جبڑے بھینچے ہوئے تھے، اگرچہ جبڑے کیچڑ میں چھپ چکے تھے اور پہچاننے میں نہیں آرہے تھے۔ بھاگتے بھاگتے ایک دم انہیں بریک لگ گئی۔ جیسے چابی ختم ہونے پر کھلونا رک جاا ہے۔ ہماری سمجھ میں ان کا یکایک رکنا نہیں آیا، لیکن جب جاتے ہوئے رکشے کو دیکھا تو اس پر جلی حروف میں لکھا تھا۔ دیکھ مگر پیار سے۔
بات کہاں سے کہاں جا نکلی حالاں کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ لکھنے کے لیے کچھ نہیں بچا لیکن اگر سچ بتائوں تو مجھے بس کنڈیکٹر بننے کا بھی بہت شوق ہے لیکن اس میں بھی ایک خامی ہے کہ کنڈیکٹر صاحبان بس چلانے کے لیے جس انداز میں دہاڑ کر ڈبل ہے کہتے ہیں اس طرح کہنا پسند نہیں کرتا۔ سط سچ بتائو تو اب تو رونے کے لیے نلکے میں آنسو بھی نہیں بچے اور نہ ہی ناک پونچھنے کے لیے کوئی ٹائی ہے۔ اب الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے لیکن معاف کیجئے گا اجازت مانگنے سے پہلے میں اپنی ایک اور خواہش آپ کے گوش گزار کردوں، ممکن ہے، آپ کو میری اس خواہش کا علم ہو یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے اگر نہ سمجھے ہوں تو میں سمجھائے دیتا ہوں، لائیے کان، کسی کو بتائیے گا نہیں، اچھا سمجھ گئے ناں میرا اشارہ ٹریفک پولیس کی طرف ہے، لیکن ٹریفک پولیس بننے میں بھی ایک قباحت ہے وہ یہ کہ وہ آٹو گراف دینا نیہں جانتے اور میں نہیںچاہتا کہ اتنی بڑی شخصیت جس کے ایک اشارے سے ہزاروں گاڑیاں رک جاتی ہوں اور پرچی کاٹنے کی دھمکی پر بڑوں، بڑوں کے ہاتھ بے اختیار جیب میں رینگ جاتے ہوں، وہ آٹو گرام سے نابلد ہو، اس آٹوگراف کا قصہ بھی خوب ہے۔
پچھلے برس کا واقعہ ہے ہم چند دوست ایک مقامی رسالے کی تقریب سے واپس بس اسٹاپ کی جانب رواں دواں تھے، سارے دوست خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک میری نظر ایک ٹریفک کانسٹیبل پر پڑی، جو غالباً سستانے کی غرض سے بجلی کے کھمبے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی ٹریفک کنٹرول کررہا تھا، میں نے جلدی سے جیب سے آٹو گراف بک اور قلم نکالا۔ اس نے جب ہم سب کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا تو ایک دم سیدھا ہوگیا وہ سمجھا کہ شاید ہم ان سے کسی بس وغیرہ کا معلوم کرنے آئے ہیں۔ لیکن ہم نے اس کی طرف آٹو گراف بک اور قلم بڑھاتے ہوئے مخصوص انداز میں کہا۔ آٹو گراف پلیز۔
خبردار وہیں کھڑے رہو، میرے قریب مت آنا، وہ جانے کیا سمجھ کر چلایا۔
دیکھئے ہم تو آپ سے آٹو گراف لینے آئے ہیں۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا، ٹریفک کانسٹیبل مزید گھبراگیا اور کہنے لگا۔ خدا کی قسم میرے پاس آٹو گراف نہیں ہے۔گھر جانے کے لیے موٹر سائیکل تو ہے نہیں، تو آٹو گراف کہاں سے رکھوں گا، شاید وہ آٹوگراف کو آٹو رشکہ کے قبیل کی کوئی سواری سمجھ رہا تھا، بہرکیف اتنے میں ہماری مطلوبہ بس آگئی اور ہم سب ہنستے ہوئے بس میں سوار ہوگئے۔ لیکن جاتے جاتے ٹریفک کانسٹیبل کو آٹو گراف کا مطلب سمجھانا نہیں بھولے، لکھنے کے لیے تو کچھ باقی نہیں بچا۔۔۔۔ لکھیں تا کیا۔

  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 0

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems