میرا صفحہ > کہانیاں > ٹُنڈ چنا Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
syeda perveen
syeda perveen
ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں
تاریخِ تخلیق Oct 8th 2010
تمام تبصرے : 2
دیکھے گئے :  933
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
ایک لڑکا تھا جب وہ بڑا ہو کر لکھنے پڑھنے کے قابل ہوا تو اس کی ماں نے اسے مکتب پڑھنے بٹھادیا۔ ایک روز اس نے ماں سے شکایت کی کہ مجھے راستے میں بھوک لگتی ہے، کوئی ایسی چیز دو جسے میں راستے میں کھاتا چلا جاﺅں۔
ماں نے کئی مٹھائیوں کے نام گنائے، مگر اسے کوئی مٹھائی پسند نہیں آئی۔ پھر اس نے کہا۔ اچھا میں تجھے چنے بھنا دوں گی۔ تو انہیں چباتا چلا جایا کرنا۔ لڑکا ماں کی یہ تجویز سن کر پھڑک اٹھا اور اسی وقت بازار سے جا کر چنے بھنا لایا۔
اگلے دن وہ مکتب جانے لگا تو جیب میں چنے بھر لیے۔ اب جناب مدرسہ تو آگیا نزدیک اور چنے رہ گئے زیادہ لڑکے نے سوچا۔ انہیں کہیں بیٹھ کر جلدی سے کھالوں۔ یہ سوچ کر ایک درخت کے سوکھے ٹُنڈ پر بیٹھ کر جلدی جلدی پھنکے مارنے لگا۔ اس ٹُنڈ میں ایک سوراخ بھی تھا۔ اتفاق سے ایک چنا اچٹ کر سوراخ میں جا پڑا۔ لڑکے نے گھبرا کر ٹُنڈ سے کہا۔ ٹُنڈ ٹُنڈ! میرا چنا واپس کردو۔ ٹُنڈ نے کہا چل بھاگ، میں نہیں دیتا۔ لڑکے نے راہ گیروں سے شکایت کی۔ لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ بھئی بڑھئی کے پاس جاﺅ وہ ٹُنڈ کو چیر کر چنا نکال دے گا۔ لڑکا سیدھا بڑھئی کے پاس پہنچا اور کہا۔ بڑھئی بڑھئی ٹُنڈ چیرو گے، بڑھئی نا بھائی ٹُنڈ نے میرا کیا بگاڑا ہے جو میں اس کو چیروں۔
لڑکا رونے لا اور چلا کر بولا۔ دیکھو لوگو! بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں، ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لوگوں نے کہا۔ اچھا راجا کے پاس جاﺅ، وہ بڑھئی کو ڈانٹے گا۔ تب کام چلے گا۔
لڑکا راجا کے پاس گیا اور کہا۔
راجا، راجا! بڑھئی کو ڈانٹو گے۔
راجا، بڑھئی نے میرا کیا بگاڑا ہے جو میں اسے ڈانٹوں۔
لڑکا، دیکھو لوگو! راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں، ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لوگوں نے کہا۔ رانی کے پاس جاﺅ وہ اس سے روٹھ جائے، تب کام چلے۔ لڑکا سیدھا رانی کے پاس پہنچا اور اس سے کہا۔
رانی، رانی! راجا سے روٹھو گی۔
رانی، راجا نے میرا کیا بگاڑا ہے جو میں اس سے روٹھوں۔
لڑکا، دیکھو لوگو! رانی راجا روٹھے نہیں، راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں۔ ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لوگوں نے اس سے کہا۔ سانپ کے پاس جاﺅ۔ وہ رانی کو ڈسے گا۔ تب وہ ٹھیک ہوگی۔ لڑکا سانپ کے پاس گیا اور اس سے کہا۔
سانپ! سانپ! رانی ڈسو گے۔
سانپ، کیوں بھائی، اس نے میرا کیا بگاڑا ہے جو میں اسے ڈسوں۔
لڑکا، دیکھو لوگو! سانپ رانی ڈسے نہیں، رانی راجا روٹھے نہیں۔ راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں، ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لوگوں نے کہا۔ اگر تم لاٹھی کے پاس جاﺅ اور وہ سانپ کا سر کچلے تب شاید تمہارا مطلب حل ہو۔
لڑکا لاٹھی کے پاس گیا اور اس سے کہا۔
لاٹھی! لاٹھی! سانپ مارو گی۔
لاٹھی، سانپ نے میرا کیا بگاڑا جو میں اس کو ماروں۔
لڑکا، دیکھو لوگو! لاٹھی سانپ مارے نہیں، سانپ رانی ڈسے نہیں، رانہ راجا روٹھے نہیں، راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں۔ ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لوگوں نے اس سے کہا۔ آگ کے پاس جاﺅ وہ لاٹھی جلائے، تم تمہاری مشکل دور ہو۔
لڑکا سیدھا آگ کے پاس پہنچا اور کہا۔
آگ آگ! لاٹھی جلاﺅ گی۔
آگ، لاٹھی نے میرا کیا بگاڑا جو میں اسے جلاﺅں۔
لڑکا، دیکھو لوگو! آگ لاٹھی جلائے نہیں، لاٹھی سانپ مارے نہیں۔ سانپ رانی ڈسے نہیں، رانی راجا روٹھے نہیں، راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں، ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
لڑکے نے پھر لوگوں نے شکایت کی تو لوگوں نے کہا۔ پانی کے پاس جاﺅ اور اس سے آگ بجھانے کے لیے کہو۔ اگر وہ انکار کرے تو اونٹ کے پاس جا کر کہو کہ وہ سب پانی پی جائے اور اگر اونٹ بھی پانی پینے سے انکار کرے تو پھر چوہے کے جا کر کہو کہ وہ اونٹ کی نکیل کاٹے۔ غرض کہ لڑکا بار باری ہر ایک کے پاس گیا۔ مگر تینوں نے انکار کردیا۔ اب تو لڑکا بہت پریشان ہوا اور اس نے لوگوں سے شکایت کی۔ دیکھو لوگو! چوہا نکیل کاٹے نہیں، اونٹ پانی پیے نہیں، پانی آگ بجھائے نہیں، آگ لاٹھی جلائے نہیں، لاٹھی سانپ مارے نہیں، سانپ رانی ڈسے نہیں، رانی راجا روٹھے نہیں، راجا بڑھئی ڈانٹے نہیں، بڑھئی ٹُنڈ چیرے نہیں، ٹُنڈ چنا لے رہا پر دیتا نہیں۔
اب تو لوگ بھی حیران تھے اور لڑکا بھی سخت عاجز آگیا تھا۔ دنیا میں کوئی کسی کا دشمن تھا ہی نہیں۔ آخر لوگوں کو ایک ترکیب سوجھ گئی، بولے۔
آہا بھئی! بلی خالہ کے پاس جاﺅ۔ اگر وہ بھیا چوں چوں کی گردن مروڑیں۔ تب تمہارا چنا واپس مل جائے گا۔
لڑکا سیدھ بلی کے پاس گیا اور اس سے کہا۔ مانو! چوہا کھاﺅ گی! بی مانی دو دن سے بھوکی بیٹھی تھی۔ غیب سے جو کھانا ملا تو بولیں۔ لپ جھپ!۔
لڑکا خوشی سے اچھل پڑا اور چوہے سے آکر کہا۔ چوہے چوہے! کھائے جاﺅ گے۔
چوہے نے ڈر کر کہا۔ ہم بھی نکیل کاٹیں گے۔
لڑکے نے اونٹ سے جا کر کہا۔ اونٹ اونٹ! نکیل کاٹی جائے گی۔
اونٹ نے بلبلا کر کہا۔ ہم بھی پانی پی لیں گے۔
لڑکا۔ پانی پانی! پیے جاﺅ گی۔
پانی، اچھا بھئی تو ہم بھی آگ بجھائیں گے۔
لڑکا، آگ آگ! بجھائی جاﺅ گی۔
آگ، تو پھر ہم بھی لاٹھی جلائیں گے۔
لڑکا، لاٹھی لاٹھی! جلائی جاﺅ گی۔
لاٹھی، اوہو! ہم بھی سانپ ماریں گے۔
لڑکا، سانپ سانپ! مارے جاﺅ گے۔
سانپ، ارے باپ رے! تو ہم بھی رانی ڈسیں گے۔
لڑکا، رانی رانی! ڈسی جاﺅ گی۔
رانی، ہے ہے! ہم بھی راجا روٹھیں گے۔
لڑکا، راجا راجا! رانی روٹھے گی۔
راجا، ہم بھی بڑھئی ڈانٹیںگے۔
لڑکا، بڑھئی بڑھئی! ڈانٹے جاﺅ گے۔
بڑھئی، میری توبہ! چل بھئی! میں تیرا چنا نکال دوں۔
اب لڑکے کا کام چل نکلا تھا۔ وہ اچھلتا کودتا ٹُنڈ کے پاس پہنچا اور ڈانٹ کر اس سے کہا۔ ٹُنڈ ٹُنڈ! چیرے جاﺅ گے۔
ٹُنڈ ڈر کر بولا۔ تو ہم بھی چنا دے دیں گے بھئی!۔
یہ کہہ کر ٹُنڈ نے چنا اگل دیا اور لڑکا خوشی خوشی اپنا چنا لے کر مکتب کو چلا گیا۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 2
Saba اچھی ہے Saba
Jul 28th 2011
 
 
samia مجھے بہت پسند آیا Samia
Jul 19th 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems