میرا صفحہ > کہانیاں > شوربے کا Bookmark and Share
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  
aisha khan
aisha khan
شوربے کا پتھر
تاریخِ تخلیق Oct 5th 2010
تمام تبصرے : 2
دیکھے گئے :  1041
2 افراد اس صفحہ کو پسند کرتے ہیں!

پسند کیا

Rank 1 Out of 10
ایک روز ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جارہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاﺅں کے قریب سے گزرا۔ ٹھنڈہ ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ سپاہی بھوکا تھا۔ وہ گاﺅں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھروالوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ سپاہی آگے بڑھ گیا۔
وہ دوسرے گھر پر ٹھہرا اور وہی سوال کیا۔ یہاں بھی گھر والوں نے وہی جواب دیا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ذرا ٹھہر کر آﺅ تو شاید کچھ انتظام ہوجائے۔ تب سپاہی نے سوال کیا ۔ تمہارے پاس ہنڈیا تو ضرور ہوگی۔
گھر والوں نے کہا۔ بے شک ہمارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے۔
پھر اس نے معلوم کیا: تمہارے پاس پانی بھی ہوگا۔
ہاں پانی جتنا چاہے لے لو۔اسے جواب ملا۔
سپاہی بولا: ہنڈیا کو پانی سے بھرو اور چولہے پر چڑھا دو۔ ہمارے پاس شوربہ تیار کرنے کا پتھر موجود ہے، ابھی کام بن جائے گا۔
کیا کہا۔ ان میں سے ایک شخص نے تعجب سے پوچھا۔ شوبہ بنانے کا پتھر، وہ کیا چیز ہے۔
بس ایک خاص قسم کا پتھر ہے، جسے پانی میں ابالنے سے مزے دار شوبہ تیار ہوجاتا ہے۔
وہ سب لوگ اس عجیب چیز کو دیکھنے کے لیے جمع ہوگئے، گھر کی مالکہ نے ایک بڑی ہنڈیا کو پانی سے بھرا، آگ سلگائی اور دیگچی چولہے پر چڑھادی۔ سپاہی نے اپنے تھیلے میں سے ایک پتھر نکالا۔ وہ معمولی قسم کا پتھر تھا، جیسے اکثر سڑکوں پر ادھر ادھر لڑھکتے نظر آتے ہیں۔ وہ پتھر اس نے ہنڈیا میں ڈال دیا اور کہا بس اب سے ابلنے دو۔ پھر دیکھو کہ کیا بنتا ہے، لہٰذا وہ سب چولہے کے آس پاس بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ کب پانی گرم ہو کر ابلنے لگتا ہے۔
سپاہی نے دریافت کیا کہ تمہارے پاس نمک تو ضرور ہوگا۔ مٹھی بھر نمک اس میں ڈال دو۔ عورت نے کہا۔ بہت اچھا، اور یہ کہہ کر وہ نمک کا ڈبہ اٹھا لائی۔ سپاہی نے خود ہی ایک مٹھی بھر کر نمک پانی میں ڈال دیا۔ پھر سب لوگ انتظار کرنے لگے۔ پھر سپاہی نے کہا۔ اگر چند گاجریںن ہوں تو شوربے کا ذائقہ اچھا ہوجائے گا۔
ہاں، عورت بولی۔ گاجریں تو ہمارے کھیت میں اگتی ہیں۔اور کہہ کر اس نے چند گاجرریں ٹوکری میں سے نکال لیں۔ سپاہی نے ترکاریوں سے بھری ہوئی ٹوکری دیکھ لی تھی، پانی میں گاجریں ڈال دینے کے بعد سپاہی نے اپنے بہادری کے قصے بیان کرنے شروع کیے اور یکدم رک کر پوچھا۔ تمہارے پاس آلو بھی تو ہوں گے۔
گھر کی مالکہ بولیا۔ ہاں آلو بھی ہیں۔
توپھر اس میں ڈال دو۔ شوربہ ذرا گاڑھا ہوجائے گا۔
بوڑھی عورت نے آلو بھی ہنڈیا میں ڈال دئیے۔ سپاہی نے کہا۔ اگر ذائقے کو زیادہ لطیف بنانا چاہو تو پیا بھی کتر کر ملادو۔
کسان نے اپنے چھوٹے لڑکے سے کہا۔ منے ذرا پڑوسی سے گھر جاﺅ اور تھوڑی سی پیاز مانگ لو۔ وہ بھی کبھی کبھی ہمارے گھر سے لے لیتے ہیں۔
بچہ بھاگ کر پڑوسی کے گھر گیا اور پیاز مانگ لایا۔ بس انہوں نے پیاز بھی کتر کر پانی میں ڈال دی۔
پھر کچھ لطیفے سنائے گئے اور انتظار کا وقت گزرتا محسوس نہیں ہوا۔ سپاہی نے بڑی حسرت سے کہا۔ لڑائی کے میدان میں کرم کلا نہیں ملتا۔ اپنے وطن سے روازنہ ہونے کے بعد سے اب تک میں نے کرم کلے کی شکل بھی نہیں دیکھی ہے۔
ارے منے، گھر کی مالکہ نے اپنے لڑکے سے کہا ۔ بھاگ کر کھیت میں جاﺅ ، دو چار ابھی باقی ہیں، ایک کرم کلا لے آﺅ۔
بس اب زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ سپاہی نے اطمینان دلایا اور واقعی ہنڈیا میں سے خوب بھاپ اٹھنے لگی تھی۔
عین اس وقت کسان کا بڑا بیٹا شکار سے واپس آیا، وہ ایک خرگوش مار کر ساتھ لایا تھا۔ سپاہی نے خوش ہو کر کہا۔ واہ کیا کہنے، یہ تو سونے پر سہاگے کا کام دے گا۔ بہت اچھے موقع پر آیا ہے۔
نوجوان شکاری نے ہنڈی کی طرف دیکھ کر ناک کو حرکت دی اور سر کھجا کر کہا۔ معلوم ہووتا ہے کہ مزیدار شوربہ تیار ہورہا ہے۔
ہاں۔ اس کی ماں نے فوراً اسے آگاہ کیا۔ اس سپاہی کے پاس ایک عجیب و غریب پتھر تھا۔ ہم اسے ابال کر شوربہ بنارہے ہیں، تم اچھے موقع پر آئے، ایک پیالہ تم بھی پی لو گے۔
اس دوران میں جلدی جلدی خرگوش کی کھال اتار کر اور اس کے ٹکڑے کرکے ہنڈیا میں اسے بھی ڈال دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہنڈیس سنسنانے لگی اور پھر تیزی سے بھاپ نکلنے لگی اور جب شکاری لڑکا اپنے کپڑے بدل کر اور ہاتھ منہ دھو کر آیا تو شوربہ تیار ہوگیا تھا۔ سارے گھر میں اس کی خوشبو پھیل رہی تھی۔
وہ سب گھروالوں کے لیے کافی تھا کیوں کہ ہنڈیا اوپر تک بھری ہوئی تھی۔ سپاہی، کسان، اس کی بیوی، بڑا لڑکا، بڑی لڑکی، چھوٹا لڑکا اور چھوٹی لڑکی سب پیار بھر کر بیٹھ گئے۔ سب سے پہلے کسان نے شوبے کی چسکی لی، اس نے خوش ہو کر کہا۔ بہت خوب ہے۔ ایسا شوربہ تو ہم نے زندگی بھر نہیں پیا۔
بیوی نے ایک گھونٹ پی کر ہاں میں ہاں ملائی اور کہا۔ یہ عجیب قسم کا پتھر ہے۔ شوربہ کتنا مزیدار ہوگیا ہے۔ ہم اس کا ذائقہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
سپاہی بولا۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ یہ کبھی گھل کر ختم نہیں ہوتا۔ آج والی ترکیب پر جب بھی عمل کیا جائے، اتنا ہی خوش ذائقہ شوربہ تیار ہوسکتا ہے۔
اپنا حصہ ختم کرلینے کے بعد سپاہی نے رخصت چاہی اور خدا حافظ کہتے ہوئے اس نے شوربے کا پتھر گھر کی مالکہ ہی کو تحفہ کے طور پر دے دیا اور کہا کہ یہ تمہاری مہمان نوازی کا صلہ ہے۔ اسے اپنے پاس رکھو، اور جب چاہو اسی ترکیب سے شوربہ تیار کرلو۔
کسان، اس کی بیوی اور سب بچے فراخ دل سپاہی کا شکریہ ادا کرنے لگے۔ وہ مہمان نوازی کا کوئی معاوضہ لینا نہیں چاہتے تھے لیکن سپاہی نے انہیں مجبور کردیا اور انہوں نے ایک نعمت سمجھ کر پتھر کو حفاظت سے رکھ لیا۔ تازہ دم ہو کر سپاہی نے اپنی راہ لی۔ خوش قسمتی سے تھوڑے سے فاصلے پر سڑک پر ویسا ہی ایک اور پتھر پڑا ہوا مل گیا۔ اس نے اٹھا کر اپنی جھولی میں رکھ لیا شاید گھر پہنچنے سے پہلے کسی اور گاﺅں میں وہ کام آجائے اور اس کی بدولت مزیدار شوربہ نصیب ہوجائے۔
  << پچھلی کہانی  |  اگلی کہانی >>  

تبصرے 2
Arooj I dont like Arooj
Sep 26th 2011
 
 
samia بہت اچھی ہے Samia
Jul 19th 2011
 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں
 
 
Close
 
 
Stories Drawings Jokes Articles Poems