Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > جدید دور
ہیروشیما پر...
جرمنی کی شکست
پرل ہاربر کی...
ہٹلر کا...
نہر سویز کی...
نہر پامانہ کا...
انقلاب روس
جنگ عظیم اول...
گھوڑے کے بغیر...
سمندر کی...
انقلاب فرانس
امریکا میں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پرل ہاربر کی تباہی

 
   
 
جاپان نے 7 دسمبر 1941ء کو امریکا کے مشہور بحری مرکز پرل ہاربر (جزیرہ ہوائی) پر جو حملہ کیا تھا، وہ بھی اسی قسم کا تھا اور اس میں جاپان کو جس بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی، وہ کسی کے خواب و خیال میں بھجی نہ تھی۔ اتوار کا دن حملے کے لیے یقیناً اس خیال سے تجویز کیا گیا تھا کہ بحری مرکز کے اکثر افسر اور ملاح معمول کے مطابق چھٹی منارہے ہوں گے اور بیڑا مزاحمت کرنا بھی چاہے گا تو نہ کرسکے گا۔
بے شک امریکا کے لیےیہ بڑی پریشانی کا وقت تھا۔ اگر زیادہ سے زیادہ تیزی کے ساتھ بھی فوجی تیاریاں شروع کردی جاتیں تو ایک بڑی مصیبت یہ بھی کہ پہلے زیادہ سے زیادہ سامان اور فوجیوں ہٹلر کے مقابلے پر بھیجنی ضروری تھیں جو جاپان کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ خطرناک تھا اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے انتظامات مکمل کیے بغیر جاپان پر پوری توجہ نہ کی جاسکتی تھی۔ لہٰذا جاپان کو جوابی حملہ کا زیادہ اندیشہ نہ تھا۔ تاہم خود جاپان پر بہت جلد واضح ہوگیا کہ وہ اتنے علاقے ہتیا چکا ہے، جنہیں ہضم کرلینا بہت مشکل تھا۔
اچانک امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ جن سے بے شمار غیر مصافی آبادی موت کے گھاٹ اترگئی اور جاپان مزید لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔ اس طرح لاکھوں امریکی سپاہیوں کے لیے خلاف توقع بہت جلد وطن واپس جانے کی صورت نکل آئی۔ لہٰذا بہت کم سپاہیوں کو اس غیر مصافی جاپانی آبادی سے ہمدردی کا خیال پیدا ہوسکا جو ایٹم بم کا ہدف بنی تھی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close