Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > جدید دور
ہیروشیما پر...
جرمنی کی شکست
پرل ہاربر کی...
ہٹلر کا...
نہر سویز کی...
نہر پامانہ کا...
انقلاب روس
جنگ عظیم اول...
گھوڑے کے بغیر...
سمندر کی...
انقلاب فرانس
امریکا میں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

انقلاب روس

 
   
 
7 نومبر 1917ء کوبالشویک پارٹی کے لوگ لینن کی قیادت میں اٹھے اور حکومت پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت بالشویکوں کی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا۔ لینن کو بھی جلا وطن کردیا گیا تھا۔
طوفانی دور کے اس انقلاب کا مرکز زیادہ تر وہ شہر تھا جسے روس میں دوسرا درجہ حاصل تھا۔ اس کا نام 1914ء تک سینٹ پیٹرز برگ تھا۔ 1914 سے 1924 تک پیٹروگراڈ رہا۔ لینن کی وفات پر اسے لینن گراڈ کا نام دیا گیا۔ اس شہر کی بنیاد 1703ء میں اس زار نے رکھی تھی جو تاریخ میں پیٹر اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اسے مغربی یورپ کے طرز پر تعمیر کیا گیا۔ پیٹر کے نزدیک یہ ایک کھڑکی تھی جو یورپ پر کھلتی تھی۔
بالشویزم اور سوویت روس کا بانی لینن نہ اس شہر میں پیدا ہوا تھا اور نہ اس کا اصل نام لینن تھا۔ اس کی ولادت سن بوسک میں ہوئی، جسے آج کل لینن کے اعزاز میں الیانوسک کہتے ہیں، اس لیے کہ لینن کا اصل نام ولاڈیمیرالیئچ الیانوسک تھا۔ وہ ایک معلم کا بیٹھا تھا۔ ابتدا ہی سے اسے انقلابی خیالات پسند تھے۔ اس کے بھائی نے زار الیگزاینڈر سوم کے خلاف سازش میں حصہ لیا اور موت کی سزا پائی۔ غالباً اس وقت سے انقلاب لینن کی زندگی کا واحد نصب العین بن گیا۔
وہ قانون کی تعلیم پارہا تھا، لیکن انقلابی سرگرمیوں کے باعث اسے جلا وطن ہونا پڑا۔ سائبیریا بھی بھیجا گیا پھر وہ روس کے باہر مختلف ملکوں میں انقلابی کام کرتا رہا۔ 1903 میں لندن گیا، جہاں روس کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا اجلاس ہوا اور یہ پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک کا نام بالشویک رکھا گیا، دوسری کا منشویک بالشویکوں کی قیادت لینن نے سنبھال لی۔ 1905 میں ہنگامہ بپا ہوا تو لینن نے روس پہنچ کر دوسرے بالشویک لیڈروں کو اپنا ہم نوا بنالیا، لیکن پھر اسے وطن چھوڑنا پڑا۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت وہ سوئٹزر لینڈ میں مقیم تھا۔
فروری 1917ء میں انقلاب بپا ہوا تو جرمنوں نے اسے اجازت دے دی کہ بند گاڑی میں جرمنی سے گزرتا ہوا روس پہنچ جائے۔
نومبر 1917ء میں کرنسکی کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور عوام کی آمریت قائم ہوگئی، بالشویکوں کی مجلس نمائندگان عوام کو اختیارات مل گئے۔ اس مجلس نے لینن کو اپنا صدر منتخب کرلیا۔ ٹراٹسکی، اسٹالین، رانی کوف مجلس کے ممبر تھے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close