Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > جدید دور
ہیروشیما پر...
جرمنی کی شکست
پرل ہاربر کی...
ہٹلر کا...
نہر سویز کی...
نہر پامانہ کا...
انقلاب روس
جنگ عظیم اول...
گھوڑے کے بغیر...
سمندر کی...
انقلاب فرانس
امریکا میں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہٹلر کا پولینڈ پر حملہ

 
   
 
یکم سمتبر 1939ء کو ہٹلر نے اپنی امن جوئی کے سارے دعوے بالائے طاق رکھ دئیے اور پولینڈ پر وہ خوفناک یورش شروع کردی جسے بلٹز کریگ کا نام دیا گیا یعنی ایسا حملہ جس میں بجلی کی سی تیزی اور شدت ہو اور سمجھا جائے کہ دوسرے پر پے در پے بجلیاں گرائی جارہی ہیں۔ اس یورش نے پولینڈ کی فوجیں تباہ کردیں۔ ملک کے بچائو کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہا۔
پولینڈ کے لیے وہی ایک راستہ تھا جس پر وہ گامزن ہوا۔ پہلی عالمگیر جنگ کے بعد اس کے لیے ایک گزرگاہ تجویز کی گئی تھی جو جرمنی کے سابقہ مقبوضات میں سے گزرتی تھی۔ پولینڈ کو ساحل بحر تک پہنچانے کی اور کوئی تدبیر نہ تھی۔ ہٹلر نے اسے گزر گاہ کی واپسی کا مطالبہ کیا، اس بارے میں سیاسی گفت و شنید برائے نام ہی ہوئی تھی کہ نازیوں کے ہوائی جہاز، ٹینک، مسلح دستے اور اعلیٰ تربیت پائی ہوئی پیادہ فوجیں طوفان کی طرح اٹھیں اور پرانی وضع کے پولسانی رسالوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ ہٹلر ان اسلحہ کو ہسپانوی خانہ جنگی کی تجربہ گاہ میں خوب آزما چکا تھا، 1932 مارچ 1939ء یہ سب کچھ اس تیزی سے عمل میں آیا کہ برطانیہ اور فرانس بہ مشکل اعلان جنگ کرسکے اور ادھر روس نے دوسری جانب سے پولینڈ پر ہلہ بول دیا۔
اپریل1940ء کے اوائل میں تیز نقل و حرکت کی نئی جنگ کے مہلک ممکنات آشکارا ہوئے۔ جرمنوں نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کردیا۔ برطانیہ کی بحری قوت نے ناروے میں دفاع کا حق ادا کردیا، لیکن اس کی کوششیں بے سود ہیں، مئی میں جرمنی فوجیں لکسمبرگ، ہالینڈ اور بیلجیم کو پامال کرتی ہوئی حیرت انگیز سرعت کے ساتھ میجنولائن کے ایک طرف سے چکر کاٹ کر آگے بڑھیں اور رودبار انگلستان کے ساحل پر پہنچ گئیں۔
22 جون 1941ء کو ہٹلر نے نپولین کی غلطی دہرائی اور روس پر حملہ کردیا۔ نتیجہ وہی نکلا جو نپولین کو پیش آیا تھا، ابتدا میں ہٹلر کو زبردست کامیابیاں حاصل ہوئیں، جرمن پسپا ہوتی ہوئی روسی فوجوں کا تعاقب کرتے رہے۔ پھر لینن گراڈ جیسے محاصروں کی کھینچ تان شروع ہوئی۔ انجام کار روسیوں نے بے پناہ جوابی حملوں کا سلسلہ شروع کردیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close