Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > جدید دور
ہیروشیما پر...
جرمنی کی شکست
پرل ہاربر کی...
ہٹلر کا...
نہر سویز کی...
نہر پامانہ کا...
انقلاب روس
جنگ عظیم اول...
گھوڑے کے بغیر...
سمندر کی...
انقلاب فرانس
امریکا میں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

گھوڑے کے بغیر گاڑی چلتی ہے

 
   
 
امریکا کی ایک ریاست مساحیوسس میں اسپرنگفیلڈ ایک جگہ ہے، وہاں ستمبر 1893ء میں گھوڑے کے بغیر چلنے والی گاڑی کے کامیاب تجربات کیے گئے جس سے گھوڑا گاڑی کا دور ختم ہوگیا اور دنیا میں ایک نئی عظیم الشان صنعت وجود میں آئی۔
پندرھویں صدی ہی میں اس بات کا احساس پیدا ہوگیا تھا کہ میکانکی آلات کے ذریعے سے نقل و حرکت ہوسکتی ہے۔ لیونارڈود اونچی ایک مشہور اطالوی مصور (جس نے مونا لیزا کی شہرہ آفاق تصویر بنائی) نے بھاپ سے چلنے والی گاڑی کا بھی منصوبہ تیار کیا تھا۔
1896ء میں چارلس دوریانے نئی موٹر گاڑی کا ڈھانچا اس خیال سے تیار کیا کہ اس کا بھائی فرنیک اس کے لیے ایک موزوں انجن تیار کردے گا۔ ستمبر 1893ء تک فرینک نے ئے انجن کی نیکانیکی مشکلات پر قابو پالیا اور صرف ایک امر باقی رہ گیا کہ اس گاڑی کی رفتار بڑھانے گٹھانے یا اسے حسب منشا روکنے کا کیا بندوبست ہو۔ فرینک نے پہلی مرتبہ انجن چلایا تو گاڑی قابو میں نہ رہ سکی اور دیوار سے جاٹکڑائی۔ جس شخص نے اس ایجاد میں سرمایہ لایا تھا، وہ بھی موقع پر موجود تھا۔ گاڑی کا نظارہ دیکھنے کے بعد اسے مزید سرمایہ لگانے میں تامل نہ ہوا۔ غرض دونوں بھائیوں نے آٹو موبائل بنانے کے لیے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی دی۔ پھر ہنری فورڈ چالیس کنگ اور دوسرے لوگ اس صنعت کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ صنعت اوج کمال پر پہنچ گئی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close