Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > جدید دور
ہیروشیما پر...
جرمنی کی شکست
پرل ہاربر کی...
ہٹلر کا...
نہر سویز کی...
نہر پامانہ کا...
انقلاب روس
جنگ عظیم اول...
گھوڑے کے بغیر...
سمندر کی...
انقلاب فرانس
امریکا میں...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سمندر کی گہرائیوں میں تار بچھتا ہے

 
   
 
سیموئل مورس نے 1844ء میں تار برقی کے سلسلے کو کامیاب بنادیا تھا۔ دس سال بعد امریکا کے ایک بہت بڑے سرمایہ دار کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ اٹلانٹک میں سے تار گزار کر یورپ اور امریکا کے درمیان برقی خبر رسانی کا سلسلہ قائم کرے۔ اس کا نام سائرس ڈبلیو فیلڈ تھا۔
اس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ تھی کہ ایسے آلے تیار کیے جائیں، جو سمندر میں سے گزرنے والے تا پر اتنے لمبے فاصلے سے برقی اشارے ایک دوسرے تک ٹھیک ٹھیک پہنچاکستے ہوں۔ یہ مشکل یوں حل ہوگئی کہ لارڈ کیلون نے شیشے کا مقناطیسی برقی پیما تیار کیا۔ پھر ہزاروں میل لمبا، مضبوط اور لچک دار تار تیار کرنا ضروری تھا جس پر گٹا پرچاچٹڑھا ہوا ہوتا کہ بجلی کی لہریں اندر محفوظ رہتیں اور گٹے پرچے کے اوپر پیتل کا ایسا خول چڑھا دیا جاتا جس میں کوئی آبی جانور سوراخ نہ کرسکتا۔
1865ء میں ایک بہت بڑا جہاز اس غرض سے استعمال کیا گیا۔ اس میں مسافروں کے لیے جو کمرے بنے ہوئے تھے، وہ سب توڑ دئیے گئے، تاکہ تار کے پیپے رکھنے کی گنجائش نکل آئے۔ دو تہائی تار بچھ چکا تو اچانک ٹوٹ گیا اور اس کا سرا تلاش کے باوجود نہ ملا۔ 1866ء میں تار کا سلسلہ درست ہوا تو 28 جولائی کو مبارکباد کا پیغام ملکہ وکٹوریا کی طرف سے جمہوریہ امریکا کے سدر اینڈریو جانسن کو بھیجا گیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close