Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

میسور کی لڑائی

 
   
 
ٹیپو سلطان(1163-1213ھ -1752-1799ء) کے والد حیدر علی نے بارھویں صدی ہجری کے اواخر اٹھارھویں صدی عیسوی کے اوائل میں جنوبی ہند میں ایک بڑی سلطنت قائم کرلی تھی، جن کا صدرمقام سرنگاپٹم تھا اور سلطنت میسور کے نام سے مشہور تھی۔ حیدر علی پہلا شخص تھا جس نے بھانپ لیا تھا کہ جو فرنگی، تاجروں کے بھیس میں ہندوستان آئے ہیں اور انہوں نے ملکی معاملات میں دخل دینا شروع کردیا ہے، اگر انہیں قدم جمالینے کا پورا موقع مل گیا تو پورے ملک کے لیے ایک خطرناک خطرہ بن جائیں گے۔ حیدر علی فرنگیوں کے خطر کو مٹادینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ وہ لڑرہا تھا کہ خدا کی طرف سے بلاوا آگیا اور وہ اپنے جگر بند کے لیے دو ورثے چھوڑ کر رخصت ہوگیا۔ ایک تاج و تخت اور دوسرا فرنگیوں کے خطرے کا انسداد۔ ٹیپو سلطان نے دونوں ورثے جواں مردی سے سنبھالے۔ تاج و تخت کی حفاظت اور فرنگیوں کی شکست وریخت میں کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی قیمتی جان بھی اس بازی میں لگادی۔
فرنگیوں سے اسے دو زبردست لڑائیں پیش آئیں۔ اگر انہیں مرہٹوں اور نظام کی امداد نہ ملتی تو سلطان یقیناً ان کے اقتدار کا کاتا روپود بکھیر کر رکھ دیتا، لیکن دونوں مرتبہ مرہٹوں اور نظام نے نہ صرف سلطان سے، بلکہ ملک کے بہترین مقاصد سے غداری کی۔ آخری لڑائی میں فرنگیوں، مرہٹوں اور نظام نے سلطان کے مرکز حکومت کا محاصرہ کرلیا۔ 4 مئی 1799ء کو شیر دل مجاہد نے میسور کی سلطنت اور ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ مرہٹوں اور نظام نے جن فرنگیوں کو مدد دے کر ٹیپو سلطان کو شہید کرایا تھا،انہیں کے ہاتھوںوہ خود بھی برباد ہوئے اور قدرت نے بدلے کا جو قانون مقرر کررکھا ہے وہ پورا ہوکر رہا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close