Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

فتح مکہ

 
   
 
صلح حدیبیہ کو تقریباً دو سال گزر چکے تھے، اس کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو قبیلے چاہیں مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں اور جو چاہیں قریش کے ساتھی بن جائیں، انہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو صلح کرنے والے فریقوں کو حاصل ہیں۔
مکہ معظمہ کے پاس دو قبیلے آباد تھے جن میں باہم لڑائی تھی۔ ان میں سے ایک مسلمانوں سے مل گیا اور دوسرا قریش کا ساتھی بن گیا۔ اچانک قریش کے ساتھی قبیلے نے مسلمانوں کے ساتھی قبیلے پر حملہ کردیا۔ قریش نے بھی اپنے ساتھیوں کو مدد دی، اور مسلمانوں کے ساتھیوں پر سخت ظلم کیا، یہاں تک کہ حرم میں بھی انہیں امان نہ ملی، جہاں کسی پر انگلی تک نہ اٹھائی جاسکتی تھی۔ یہ دردناک خبر مدینہ منور پہنچی تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے فیصلے کی تین صورتیں پیش کیں:
مظلوموں کا جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کردی جائے۔
قریش اپنے ساتھی قبیلے کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیں۔
یہ اعلان کردیا جائے کہ حدیبیہ کا صلح نامہ باق نہیں رہا۔
ایک جلد باز نے کہہ دیا کہ ہمیں تیسری شرط منظور ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف کی تیاری شروع کردی۔ اب دس ہزار جانباز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مکہ شریف سے چند میل کے فاصلے پر پڑائو ڈالا گیا۔ دس ہزار آدمی دور تک پھیل گئے اور رات کو الگ الگ آگ روشن کی تو دیکھنے والوں نے یہ سمجھا کہ فوج کوہ و وادی پر چھائی ہوئی ہے۔
قریش کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور ان کے ایک سردار ابو سفیان نے دربار نبوی میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کے لیے امان چاہی، دوسرے روز آپ نے اعلان فرمادیا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے یا کعبے میں چلا جائے یا ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے، اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ اس طرح مکہ شریف بغیر جنگ اور خونریزی کے فتح ہوگیا۔
آپ نے اہل مکہ کو جمع کیا۔ ان میں وہ سب لوگ شامل تھے، جن کی تلواریں اور برچھیاں اکیس سال تک مسلمانوں پر برستی رہی تھیں۔
اس موقع پر آپ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ کسی فاتح کی زبان سے نہ پہلے سنا گیا اور نہ بعد میں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close