Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

صلح حدیبیہ

 
   
 
جنگ بدر ہجرت کے دوسرے سال ہوئی تھی۔ ہجرت کے چھٹے سال ذوالقعدہ کے مہینے میں (مارچ 628) حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی زیارت کا ارادہ فرمایا، چودہ سو حق پرست آپ کے ہمرکاب تھے۔ اس مہینے میں عربوں کے قدیم دستور کے مطابق سب کو مکہ شریف جانے کی عام اجازت ہوتی تھی اور لڑائیاں بالکل بند کردی جاتی تھی۔ مگر قریش مسلمانوں کی آمد کو برداشت نہ کرسکے اور مقابلے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف سے تھوڑے فاصلے پر حدیبیہ کے مقام پر ڈیرے ڈال دئیے اور کوشش کی کہ صلح سے معاملہ طے ہوجائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بات چیت کے لیے قریش کے پاس بھیجا۔ تھوڑی دیر میں افواہ پھیل گئی کہ قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا ہے۔ یہ گویا جنگ کا اعلانتھا۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر چودہ سو ساتھیوں سے بیعت لی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ افواہ غلط تھی۔
قریش کو مسلمانوں کے ارادہ جنگ کی خبر ملی تو ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور انہوں نے صلح کی بات چیت شروع کردی۔ غرض دس سال کے لیے صلح ہوگئی۔ جو شرطیں طے ہوئیں ان میں بظاہر مسلمانوں کا پہلو دبا ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ وہ اس سال واپس چلے جائیں اور اگلے سال آئیں تو کعبے کی زیارت کا موقع دے دیا جائے گا۔ ہتھیار لگا کر نہ آئیں اور تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔ مکے سے کوئی شخص پناہ کی غرض سے مدینہ جائے گا تو وہ واپس بھیج دیا جائے گا۔ لیکن کوئی شخص پناہ کی غرض سے مدینے سے مکے آئے گا تو وہ واپس نہ کیا جائے گا۔
اس شرطوں پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا لیکن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرائط منظور فرمالیں۔ قرآن مجید نے اس صلح کو کھلی ہوئی فتح قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک اور قریبی فتح کی خوشخبری دے دی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close