Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

معرکہءبدر

 
   
 
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت شروع کی اور لوگ اندھیرے سے روشنی کی طرف آنے لگے تو قریش نے جنہیں مکہ ہی میں نہیں، پورے عرب میں سرداری اور عزت کا مرتبہ حاصل تھا اس پیغام حق کی مخالفت شروع کردی، وہ زور و قوت سے کام لے کر غریب و مسکین مسلمانوں کو ظلم و جور کا نشانہ بنانے لگے۔ کسی کو دوپہر کی تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر اس کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتے، کسی کے گلے میں رسا باندھ کر بازاروںمیں کھینچتے۔ کسی کو دہکتے ہوئے انگاروں کے فرش پر لیٹ جانے کے لیے مجبور کرتے۔ تیرہ سال تک مسلمانوں نے ہر قسم کی سختیاں صبر کے ساتھ برداشت کرلیں مگر قریش کے طور طریقے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندار کو تین سال تک ایک گھاٹی میں بند رہنا پڑا۔ طائف میں آپ پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ مجبور ہو کر آپ نے ساتھیوں کو مکہ سے مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔ جہاں کے باشندے مسلمانوں کی مہمانداری کے لیے تیار تھے، بعد میں آپ بھی وہیں تشیرف لے گئے۔
بدر کے مقام پر مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک زبردست لڑائی ہوئی جسے قرآن مجید میں فیصلے کا دن کہا گیا ہے، اس لیے کہ اس دن حق اور باطل، نیکی اور بدی، راستی اور گمراہی، سچی اور جھوٹ کے درمیان قطعی فیصلہ ہوگیا، مسلمان تین سو سے کچھ زیادہ تھے اور قریش ایک ہزار سے کم نہ تھے۔
پھر مسلمانوں کے پاس جنگ کا ساز و سامان بھی بہت کم تھا۔ ادھر قریش کے پاس نہ دولت کی کمی تھی نہ ساز و سامان کی۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مسلمان لڑنا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے لڑائی کے لیے پہل ہرگز نہ کی تھی، البتہ قریش کی دراز دستیوں کا جواب دینے کے لیے ضرور تیار ہوئے۔بدر کی جنگ بھی اس وجہ سے ہوئی کہ قریش نے تجارت میں گراں قدر رقم فراہم کرکے مسلمانوں کے خلاف جنگی تیاریوں کا فیصلہ کرلیا تھا،چنانچہ انہوں نے بہت بڑا تجارت قافلہ شام بھجا۔ مسلمانوں کو اس پر چھاپہ مارنے میں بالکل حق بجانب تھے۔ ابھی دیکھ بھال ہی جاری تھی کہ قافلہ قریش کے سردار نے قاصد کے ذریعے مکہ پیغام بھیج دیا اور قریش کو بلالیا، وہ خوب تیار ہو کر بڑے کروفر کے ساتھ دو سو میل کا فاصلہ طے کرکے بدر پہنچ گئے۔ اگرچہ اس وقت تک قافلہ بچ کر بدر سے آگے نکل گیا تھا اور حملے کا کوئی خطرہ باقی نہ رہا تھا مگر قریش نے فیصلہ کرلیا کہ لڑے بغیر نہ جائیں گے۔ اس طرح جنگ ہوئی تو قریش نے شکست فاش کھائی اور ان کے بڑے بڑے سرداری مارے گئے یا قید ہوگئے۔
بدر کا یہ موقع جو اپنے نتائج کے اعتبار سے بڑی سے بڑی جنگ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے بروز جمعہ، 17 رمضان، 2 ہجری مطابق مارچ 624ء پیش آیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close