Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مشرق اور مغرب کی کشمکش

 
   
 
سلطان اور خاں(1326-1359ء) کے زمانے میں عثمانی ترک یورپ پہنچ گئے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے۔ اہل یورپ نے دو تین مرتبہ بڑی فوج جمع کرکے مقابلہ کیا۔ پہلا زبردست معرکہ معرکہ سلطان مراد اول کے ساتھ کسوا کے میدان میں پیش آیا۔ یورپ والوں نے شکست فاش کھائی۔ اس کے بعد دس سال اطمینان سے گزر گئے۔ سلطان بایزید یلدرم کے زمانے میں یورپ کے اندر پھر جوش و خروش کی لہر اٹھی۔ انگلستان، فرانس، جرمنی، پولینڈ، آسٹریا، ہنگری اور بلقانی علاقوں کے بڑے بڑے رئیسوں، بہادروں اور شہزادوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سب مل کر ترکوں کو یورپ سے باہر نکال دیں گے۔ چنانچہ شاہ ہنری کی سرکردگی میں ایک بہت بڑی فوج تیار ہوگئی۔
بایزید کو اہل یورپ کے بھائی جتھے کی اطلاع ملی تو بجلی کی طرح تڑپ اٹھا اور طوفان کی تیزی سے اپنے یورپی دارالحکومت ایڈریانوپل پہنچ گیا۔ اس اثناء میں نکوپولس کے ترک حاکم نے اہل یورپ کا زبردست مقابلہ کرکے بایزید کے لیے فوج تیار کرلینے کی مہلت مہیا کردی۔ اس نے کچھ فوج آگے بھیج دی اور خود پیچھے پیچھے روانہ ہوا۔
 25ستمبر 1396ء کو نکوپولس سے چار میل جنوب میں لڑائی ہوئی۔ جیسا کہ شاہ ہنگری کا خیال تھا، یورپی بہادر اپنا سارا جوش بے قاعدہ ترک دستوں کے مقابلے میں صرف کرچکے تھے، بے قاعدہ دستے مقررہ منصوبے کے مطابق ادھر ادھر بکھر گئے تو یورپی جیش آگے بڑھے۔ سامنے سلطان باقاعدہ فوج کی صف بندی کے لیے کھڑا تھا، ادھر سلطان سے لڑائی شروع ہوئی، ادھر بے قاعدہ دستوں نے از سر نو جمع ہو کر اہل یورپ کے عقب سے حملہ کردیا۔ اس طرح چکی کے دو پاٹوں میں بڑے بڑے دلیر اور جواں مرد چنوں کی طرح پس گئے۔ ہزاروں کھیت رہے باقی گرفتار ہوگئے جن میں پچیس کے قریب شہزادے تھے۔
ان لوگوں میں سے کوئی بایزید کے مقابلے پر پھر نہ آیا۔ نکوپولس کی لڑائی اس وجہ سے حد درجہ اہم ہے کہ اگرچہ اس کے بعد سلطنت عثمانیہ پچاس سال تک مصیبتوں میں پھنسی رہی لیکن اہل یورپ کو اس اثنا میں ترکوں سے جنگ کی ہمت نہ ہوئی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close