Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہندوستان میں اسلامی سلطنت کا آغاز

 
   
 
دہلی اور اجمیر کی ہندو ریاستیں مل کر ایک طاقت ور حکومت بن گئی تھی۔ اس کے فرمانروا پرتھوی راج نے غزنوی سلطنت کے کچھ سرحدی علاقے لے لیے تھے۔ محمد غوری نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو پرتھوی راج سے لڑائی چھڑگئی۔
پہلی لڑائی 1191ء میں ہوئی۔ محمد غوری کے پاس فوج کم تھی۔ پرتھوراج کے ساتھ دو لاکھ سپاہی اور تین ہزار جنگی ہاتھی تھے۔ ایک حادثہ یہ پیش آیاکہ سلطان سخت زخمی ہوگیا اور بے ہوش ہو کر گھوڑے سے گرنے ہی والا تھا کہ ایک وفادار خادم نے اسے سنبھالا اور میدان سے باہر لے گیا۔ سلطان کا گھوڑا فوج کی نظر نہ آیا تو وہ بھی میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی۔
اس اتفاقی شکست سے غوری کے دل کو اتنی ٹھیس لگائی کہ اس نے اپنے اوپر ہر آسائش حرام کرلی۔ سال بھر تک نہ لباس بدلا اور نہ پلنگ پر سویا۔ ہر وقت یہی خیال رہتا تھا کہ جلد سے جلد تیاری کرکے شکست کا بدلہ لے۔ چنانچہ دوبارہ تجربہ کار فوج لے کر ہندوستان آیا۔ 1192ء میں اسی مقام پر پرتھوی راج سے دوبارہ جنگ کی، جہاں پہلے شکست کھاچکا تھا۔ پرتھوی راج اب کے تین لاکھ سپاہ لایا تھا، نیز تین ہزار جنگی ہاتھیوں کے علاوہ اس کے ساتھ ڈیڑھ دو سو راجے اور رئیس بھی تھے۔
محمد غوری نے اپنی فوج کے پانچ حصے کیے، خود بارہ ہزار جانباز ساتھی لے کر ایک اونچے مقا پر بیٹھ گیا جہاں سے پورا میدان جنگ نظر آرہا تھا۔ باقی چار لشکروں کو حکم دیا کہ بار باری لڑیں۔ ایک لشکر تھک جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا جب اس نے اندازہ کرلیا کہ دشمن میں ٹڈی دل فوج تھک گئی ہے تو خود بجلی کی طرح اس پر جاپڑا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے تتر بتر کردیا۔ ہزاروں مارے گئے جن میں خود پرتھوی راج بھی تھا۔ دہلی اور اجمیر غوری کے قبضے میں آگئے۔ تھوڑی ہی مدت میں اس کے سالار بنگال تک جاپہنچے اور شمالی ہند میں مسلمانوں کی وہ سلطنت قائم ہوئی جو 1192ء سے 1857ء تک باقی رہی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close