Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

جامعہ ازہر کا قیام

 
   
 
358ھ/969ء میں فاطمیوں کے ایک سپہ سالار جوہر صقلی نے جسے جوہر رومی بھی کہتے ہیں، مصر کو فتح کرلیا اور فسطاط کے پاس جو ابتدا سے عربی سلطنت کا مرکز چلا آتا تھا، ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، جس کا نام قاہرہ تجویز ہوا۔ یہ شہر ایک ہزار سال سے مصر کا پایہ تخت چلا آتا ہے۔ فاطمیوں ایوبیوں، مملوکوں، ترکوں اور خدیووں کے عہد میں اس کی عظمت درجہ کمال پر پہنچ گئی اور آج بھی شرق اوسط میں تاریخ آثار کا نہایت بیش قیمت خزانہ اسی شہر میں محفوظ ہے۔
لیکن قاہرہ کی ساری عظمت مادی تھی۔ وہاں جوہر رومی نے ایک ایسی عمارت بھی بنائی جو ایک ہزار سال سے مشرقی اور اسلامی علوم و فنون کا سب سے بڑا سر چشمہ چلی آتی ہے۔ یہ سب سے بڑی علمی میراث ہے جو عالم اسلام کو ملی ہے۔
جوہر نے ایک عالی شان مسجد تعمیر کرائی اور اس کا نام "الازہر" رکھا۔ پانچویں فاطمی خلیفہ العزیز نے اس میں دینی علوم کی تدریش شروع کرکے اس کے لیے اوقاف کا انتظام کردیا۔ اس کے اساتذہ کی تنخواہوں اور طالبعلموں کے وظیفوں کے مصارف ادا ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ جامعہ سارے عالم اسلام کے لیے ایک مرکزی درس گاہ بن گئی، جس کی سند مشرق و مغرب میں سب سے زیادہ عزت و احترام کا وثیقہ سمجھی جاتی ہے اور الازہر کا نام بچے بچے کی زبان پر چڑھ گیا۔
الازہر کا چشمہ فیض ایک ہزار سال سے برابر جاری ہے۔ حکومت مصر نے مغربی علوم اور مغربی زبانوں کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قدیمی تعلیم کے علاوہ علوم جدید کی تعلیم کا بھی انتظام کردیا ہے۔بیرونی طلبہ کےلیے اقامت خانے ہیں۔ لباس و طعام اور کتابوں کے اخراجات کے لیے بھی جامعہ کی طرف سے وظائف دئیے جاتے ہیں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close