Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

الفانسو کی شکست

 
   
 
معتمد کے مشورے سے تمام عرب ریاستوں نے مرابطی خاندان کے حکمران یوسف بن تاشفین کو اپنی امداد کے لیے افریقا سے ہسپانیہ بلایا۔ وہ فوج لے کر پہنچا تو الفانسو نے اسے لمبا چوڑا خط لکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ کیوں مرنے کے لیے ہسپانیہ آئے ہو۔بہتر ہے چپ چاپ واپس چلے جائو۔ میں مراکش میں آکر تمہارا شوق جنگ پورا کردوں گا۔ یوسف نے اس خط کی پشت پر صرف تین لفظ لکھے اور اسے واپس کردیا۔ ان لفظوں کا مفہوم یہ تھا کہ جو کچھ ہونا ہے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔
غرض فوج لے کر یوسف آگے بڑھا۔ عرب ریاستوں کے جنگجو بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ صوبہ بطلیوس کے ایک میدان زلاقہ میں الفانسو سے مقابلہ ہوا۔ یوسف بن تاشفین اور عرب ریاستوں کی فوج بیس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ الفانسو کے جھنڈے تلے کم از کم ساٹھ ہزا آدمی تھے۔ ان میں دور دور کے علاقوں کے فوجی دستے شامل ہوگئے تھے۔ اس لیے کہ عوام نے اسے قومی جنگ کی حیثیت دے دی تھی۔
الفانسو نے یوسف کو پیغام بھیجا کہ جمعہ مسلمانوں کے نزدیک مقدس دن ہے۔ مسیحی بھی اتوار کو مقدس مانتے ہیں، لہٰذا دو دن تو کوئی لڑائی نہ ہونی چاہیے۔ البتہ ہفتے کا دن مقرر کرلیا جائے تو مناسب ہے۔ یوسف نے یہ تجویز منظور کرلی۔ دراصل یہ ایک فریب تھا۔ الفانسو چاہتا تھا کہ اسے بے خبری میں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑنے کا موقع مل جائے۔ چنانچہ مسلمان جمعہ کی نماز ادا کررہے تھے کہ اچانک الفانسو نے حملہ کردیا اور لڑائی شروع ہوگئی۔ یوسف اپنی فوج کو لے کر ایک الگ مقام پر جا کھڑا ہوا اور عرب ریاستوں کی فوجیں الفانسو کے تیز و خونریز حملوں کا نشانہ بنی رہیں۔ جب یوسف نے دیکھا کہ الفانسو کی فوج خاصی تھک گئی ہے تو پہاڑ کے عقب میں سے ہوتا ہوا الفانسو کے پیچھے سے حملہ آور ہوا۔ یہ حملہ ایسا سخت تھا کہ الفانسو کے چھکے چھوٹ گئے۔ ساتھ ہی اس کے کیمپ کو آگ لگادی گئی۔ الفانسو نے شکست فاش کھائی۔ اس کی فوج میں کم از کم بیس ہزار آدمی کھیت رہے۔ اس ایک فتح نے مسلمانوں کے لیے ہسپانیہ پر مزید چار سو سال کے لیے حکمرانی کی صورت پیدا کردی۔ یہ لڑائی جو دنیا کی چند فیصلہ کن لڑائیوں میں شمار ہوتی ہے، 23 اکتوبر 1086ء کو ہوئی تھی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close