Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بیت المقدس پر اسلامی پرچم لہراتا ہے

 
   
 
صلیبی جنگوں میں ایک مرتبہ فلسطین کا کچھ علاقہ مسلمانوں کے ہاتھ سے چھن گیا تھا جس میں بیت المقدس بھی شامل تھا۔ صلیبی سرداروں نے وہاں اپنی بادشاہت قائم کرلی تھی، جن مسلمان بادشاہوں نے چھنے ہوئے علاقوں کو واپس لیا۔ ان میں سلطان نور الدین محمود زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
صلاح الدین نے تیاری مکمل کی اور لڑائی شروع کردی۔ صلیبیوں نے ہر مقام پر شکست کھائی اور انجام کار بیت المقدس میں محصور ہو کر بیٹھ گئے۔ سلطان نے رمضان 583ھ مطابق ستمبر 1187ء کو شہر کا محاصرہ کرلیا۔ مناسب مقامات پر فوجیں مورچے قائم کرکے بیٹھ گئیں۔ پیچھے پہاڑوں پر منجنیقیں لگادی گئیں جو پتھر کے گولے شہر میں پھینکتی تھیں۔ جگہ جگہ سرنگیں لگنے لگیں تاکہ ان میں بارود بھر کر دیواروں کو اڑایا جاسکے۔محصورین کو کامیابی کی کوئی امید نظر نہ آئی چوں کہ نوے سال پیشتر بیت المقدس کو فتح کرکے انہوں نے شہر کی آبادی پر بہت ظلم کیے تھے، اس لیے اپنے پرانے گناہ کی یاد سے ان پر کپکپی طاری تھی۔ جب ان کی تکلیفیں حد سے گزر گئیں تو شہر حوالے کردینے پر مجبور ہوگئے۔ آخر طے پایا کہ تمام لوگ اپنی حیثیت کے مطابق فدیہ ادا کرکے چلے جائیں۔ جو لوگ شہرمیںرہنا چاہتے ہیں ان سے کچھ نہ کہا جائے۔
غرض نوے برس کے بعد بیت المقدس دوبارہ فتح ہوا اور یہ فتح اس وجہ سے تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے کہ جس زمانے میں ظلم و جور عام تھا، مفتوحوں پر ہر قسم کی سختیاں روا رکھی جاتی تھیں، صلاح الدین نے اس زمانے میں نرمی، رحمت اور شفقت کا ایسا برتائو کیا، جس کی مثال اس دور ہی میں نہیں، بلکہ اکثر دوروں میں نہیں ملتی۔


 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close