Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

علم و فنون کا دور

 
   
 
علوم کی سرپرستی میں عباسیوں کا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے، خصوصاً مامون الرشید کا نام و مرتبہ اس سلسلے میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، ترجمے کے لیے ایک خاص محکمہ قائم کیا گیا تھا۔ مامون نے اسے بہت ترقی دی۔ تمام ملکوں میں آدمی بھیج کر اچھی اچھی کتابوں کے نسخے جمع کرائے۔ پھر قیصر کو لکھا کہ علوم و فنون کی جتنی یونانی کتابیں جمع ہوسکیں۔ دارالخلافہ بغداد کو بھیج دی جائیں۔
اگر مسلمان یہ خدمت انجام نہ دیتے تو آج اکثر کے نام بھی کسی کو معلوم نہ ہوسکتے پھر مسلمانوں نے خود مختلف علوم پر ایسی اعلیٰ کتابیں لکھیں کہ اہل یورپ نے ان کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ بو علی سینا کی کتاب قانون کا لاطینی ترجمہ پانچ سو سال تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھایا جاتا رہا۔
بعض اہم کتابوں پر شرحیں لکھیں۔ اکثر قدیم یونانی علماء مشکل زبان میں لکھتے تھے۔ اس وجہ سے خود یونانیوں کو ان حکیموں کا مطلب سمجھنے میں مشکلیں پیش آئیں اور وہ تشریح میں غلطیاں کرتے تھے۔
 مسلمانوں میں ابو نصر فارابی نے افلاطون اور ارسطو کے انداز تحریر پر ایک رسالہ لکھا اور ان تمام مقامات کی تشریح کردی جن میں مختلف علمی طبقوں نے ٹھوکریں کھائی تھیں۔ صرف بغداد یا ایشیا افریقہ کے بڑے بڑے علمی مرکزوں ہی میں نہیں بلکہ ہسپانیہ کی اسلامی حکومت کی سرپرستی میں بھی پرانے علوم کی حفاظت، تشریح اور تجدید انتہائی اہتمام سے ہوئی۔ اگر افلاطون، ارسطو، سقراط، بقراط، جالینوس وغیرہ کے نام بچے بچے کی زبان پر جاری ہیں تو یہ سب انہی مسلمانوں کی علمی خدمات کا کرشمہ ہے۔ ورنہ ان لوگوں کے علوم زمانے کی قدر ناشناسی کے ہاتھوں ان کے ساتھ ہی مرچکے ہوتے اور آج ان کا کہیں سراغ نہ ملتا۔


 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close