Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

فتح ہسپانیہ

 
   
 

 24جولائی 711ء (3 شوال 92ھ) کو ہسپانیہ میں دریائے برباط کے کنرے جو لڑائی ہوئی اس میں ایک طرف گیارہ بارہ ہزار اسلامی فوجی تھے جس کا سالار طارق بن زیاد تھا۔ دوسری طرف ہسپانیہ کا بادشاہ راڈرک تھا جس کی فوج دگنی سے کم نہ تھی، لیکن راڈرک نے شکست کھائی اور مارا گیا، ہسپانیہ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا، جہاں انہوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ یہی حکومت تھی جس نے صدیوں تک یورپ میں علم و حکمت اور تہذیب و دانش کا چراغ روشن رکھا۔ اسی چراغ کی لو سے یورپ کے اندھیرے میں اجالے کا سامان ہوا۔
مسلمان شمالی افریقا پر قابض ہوچکے تھے اور ہسپانیہ ان کے سامنے تھا۔ وہاں ایک طرف تاج و تخت کے جھگڑے شروع تھے، دوسری طرف راڈرک کے ظلم وجور نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ لوگ بار بار مسلمانوں سے امداد کی درخواستیں کررہے تھے، آخر شمالی افریقا کے حاکم نے طارق بن زیاد کو بارہ ہزار فوج دے کر ہسپانیہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ اس کے پاس صرف چند جہاز تھے، جب پوری سپاہ اس مقام پر اتر گئی جو بعد میں طارق کے نام پر جبل طارق مشہور ہوا تو اس نے جہازوں کو جلوادیا۔ جب پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا اور شریعت میں ترک اسباب کب جائز ہے! تو طارق نے تلوار کے قبضے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ہر ملک ہمارا ہے اس لیے کہ ہمارے خدا کا ہے۔
پھرخود سب سے پہلے آگے بڑھ کر حملہ کیا۔ اسی روز جنگ کا فیصلہ ہوگیا۔ تھوڑی ہی مدت میں پورا ہسپانیہ مسلمانوں کے زیر نگین آگیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close