Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سندھ میں اسلام کا پہلا قدم

 
   
 
تمہیں اپنی فوج، ساز و سامان اور ہاتھیوں پر ناز ہوگا مگر ہمارا بھروسہ صرف خدا پر ہے، ہار جیت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اس خط کا ایک حصہ ہے جو نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم نے سندھ کے راجا داہر کو بھیجا۔
یہی محمد بن قاسم تھا جسے 91ھ-701ء میں پانچ ہزار بہادروں کے ساتھ اس غرض سے سندھ بھیجا گیا تھا کہ داہر کو مسلمانوں کے جہاز پر حملہ کرنے کی سزا دے اور جن نہتے لوگوں کو قید میں رکھا ہے انہیں رہائی دلائے۔اس وقت محمد بن قاسم کی عمر سترہ سال سے زیادہ نہ تھی۔
نوجوان سپہ سالار نے سندھ پہنچتے ہی سب سے پہلے دیبل کو فتح کیا، جہاں جہازوں پر حملہ ہوا تھا اور قیدیوں کو چھڑایا پھر تھوڑے ہی عرصے میں دریائے سندھ کے مغرب  کا پورا علاقہ مسخر کرلیا۔ راجا داہر کی فوج دریا کے مشرقی جانب بالکل صحیح و سالم موجود تھی اور اس کی موجودگی میں دریا کو عبور کرنا آسان کام نہ تھا۔ محمد بن قاسم نے مغربی کنارے پر دریا کے پاٹ کے برابر کشتیاں جمع کیں اور انہیں لمبائی میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھوادیا۔ پھر ان میں ایسے تیر انداز بٹھادئیے جن کے نشانے کبھی خطا نہ ہوتے تھے۔ ،کشتیوں کے ایک سرے کو مضبوط رسوں سے کنارے پر بندھوادیا اور دوسرے درے کو دریا میں دھکیل دیا۔ یہ پانی کے دھارے میں پہنچا تو خود بخود دوسرے کنارے پر جالگا۔ اگلی کشتیوں کے تیر انداز بجلی کی سی تیز سے اترے اور کنارے پر مورچے بنا کر بیٹھ گئے۔ باقی لوگوں نے اگلے سرے کو دوسرے کنارے پر کس کر باندھ دیا۔ یوں پل بن گیا جس سے پوری فوج صحیح سلامت دوسرے کنارے پر اترگئی۔
یہاں داہر اور محمد بن قاسم کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جو دس روز جاری رہی۔ محمد بن قاسم کے ساتھ صرف بارہ ہزار فوج تھی اور وہ اپنے مرکز سے بہت دور اجنبی ملک میں لڑرہا تھا۔ داہر کے ساتھ ساٹھ ہزار جنگجو بہادر تھے اور وہ اپنے وطن میں تھا، جہاں اسے ہر قسم کی امداد مل سکتی تھی، دسویں دن20 جون 712ء (10 رمضان 93ھ) کو غروب آفتاب کے وقت داہر مارا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سندھ کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا اور ہندوستان میں اسلامی حکومت کا بنیادی پتھر رکھا گیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close