Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قیصر کی شام سے رخصتی

 
   
 
الوداع اے شام! تو کتنا اچھا ملک ہے جسے دشمن کے حوالے کرنا پڑا۔ یہ الفاظ مشرقی رومی سلطنت کے شہنشاہ نے اس وقت کہے تھے جب یرموک کی لڑائی میں اسے شکست فاش ہوچکی تھی اور اسے صاف نظر آرہا تھا کہ کم از کم شام کا علاقہ ضرور چھوڑنا پڑے گا۔
جنگ یرموک دنیا کی چند فیصلہ کن لڑائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ عربوں کے عروج اور رومیوں کے زوال میں اسے سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے، عرب دمشق کو فتح کرلینے کے بعد تیزی سے بڑھے چلے جارہے تھے۔ اس اثناء میں رومی شہنشاہ نے فوجیں جمع کرنے کے لیے عام حکم دے دیا اور تھوڑی ہی دیر میں فوجوں کا طوفان امنڈ آیا جن کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان کے مقابلے میں عرب تیس پینتیس ہزار ہوں گے اور وہ بھی مختلف محاذوں پر بکھرئے ہوئے، اس حالت میں دانشمندی کا تقاضا یہی تھا کہ تمام سالاروں کو پیچھے ہٹ کر ایک موزوں مقام پر جمع ہوجانے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ متحد ہو کر لڑسکیں اور دشمن کے علاقوں میں جا بجا محصور نہ ہوجائیں۔ اس غرض سے دریائے یرموک کا کنارا مناسب سمجھا گیا۔ یہ دریا اردن کی پہاڑیوں سے نکل کر بحیرہ طبریہ کے نیچے دریائے اردن میں مل جاتا ہے اور آج کل اردوں میں واقع ہے۔
رومی فوج بہت زیادہ تھی اور جوش کا یہ عالم تھا کہ تین ہزار آدمیوں نے پائوں میں بیڑیاں پہن لی تھیں تاکہ ہٹنا چاہیں بھی تو ہٹ نہ سکیں۔ لڑائی بڑی سخت ہوئی۔ کئی مرتبہ عربوں کے مختلف دستوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ آخر کار رومی ستر ہزار جانوں کا نقصان اٹھا کر بھاگ نکلے۔ عربوں میں سے صرف تین ہزار شہید ہوئے۔
اس کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں شام کے تمام شہر عربوں کے قبضے میں آگئے اور رومی ہمیشہ کے لیے وہاں سے رخصت ہوگئے۔ اتنے تھوڑے عرصے میں شام و فلسطین جیسے اہم علاقوں کی تسخیر نے دنیا بھر میں عربوں کی دھاک بٹھادی اور وہ بھی پورے اعتماد سے اپنی تقدیر کی شاہراہ پر گامزن ہوگئے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close