Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

جنگ قادسیہ

 
   
 
عربوں اور ساسانیوں کے درمیان پہلی بڑی لڑائی قادسیہ کے میدان میں ہوئی، (16-637) اسی نے ساسانی سلطنت کی قسمت پر قضا و قدر کی آخری مہر لگادی۔ یہ لڑائی چار دن جاری رہی۔ ساسانیوں کو اپنے جنگی ہاتھیوں پر بڑا بھروسا تھا۔ ہاتھی آگے بڑھتے تھے تو عربوں کے گھوڑے ان متحرک چٹانوں کو دیکھ کر بدکتے اور پیچھے کی طرف بھاگ نکلتے تھے۔ عربی لشکر کے سپہ سالار کو یقین ہوگیا کہ جب تک ہاتھیوں سے نجات نہ ہوگی کامیابی کی کوئی امید نہ رکھنی چاہیے۔ چنانچہ اس نے من چلے جوانوں کی ایک جماعت کے ذمے یہ کام لگادیا کہ ہاتھیوں کی آنکھوں میں نیزے ماریں اور ان کی سونڈیں کاٹ دیں۔ یہ جوان گھوڑوں سے اتر کر ہاتھیوں پر پل پڑے، انہوں نے تاک تاک کر ہاتھیوں کی آنکھوں میں نیزے مارے اور ساتھ ہی چابک دستی سے ان کی سونڈیں اڑادیں۔ ہاتھی چنگھاڑتے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگے اور ساسانی لشکر کو روندتے ہوئے نکل گئے۔
ساسانیوں نے رات کے وقت چھاپا مارنے کی تیاری کی، عربوں نے اونٹوں کی ایک قطار تیار کی جن پر خشک گھاس کے گھٹے مضبوط باندھ کر لاد دیے پھر ان گٹھوں کو آگ لگا کر اونٹوں کو ساسانی لشکر کی طرف دوڑا دیا۔ آگ کی اس دیوار نے جدھر کا رخ کیا۔ ساسانیوں کے گھوڑے باگیں تڑا تڑا کر بھاگ گئے، تھوڑی دیر کے بعد سارا ساسانی لشکر ریت کے ذروں کی طرح بکھر گیا۔
اس شکست کے بعد ساسانی کہیں بھی نہ ٹھہرسکے۔ چند سال میں پوری ساسانی سلطنت عربوں کے قبضے میں آگئی اور اسلامی فتوحات کی سیل ہند و چین کی جانب پھیلنے لگا اور دوسری طرف اس کی لہریں اوقیانوس تک پہنچ گئیں۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close