Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > اسلامی تاریخ
بحر ظلمات میں...
انڈونیشیا کی...
قیام پاکستان
میسور کی...
قیصر کی شام...
مشرق اور مغرب...
فتح مکہ
صلح حدیبیہ
معرکہءبدر
مغلیہ سلطنت...
خشکی پر جہاز
تاتاریوں کو...
ہندوستان میں...
جامعہ ازہر کا...
الفانسو کی...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

آخری خطبہ

 
   
 
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال حج کیا، اس موقع پر کم و بیش ڈیڑھ لاکھ مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان کے سامنے ایک سے زیادہ خطبے ارشاد فرمائے۔ ان میں زیادہ تر وہ باتیں تھیں جو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری بنی نوع انسان کے لیے چراغ ہدایت تھیں۔ بعض ارشادات یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔
توحید اور انسانی مساوات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔
لوگو، بیشک تمہارا خدا ایک ہے اور بیشک تمہارا باپ ایک ہے، جان لو کہ عربی کو عجمی پر اور  عجمی کو عربی پر، کالے کو گورے پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوی کی بنا پر۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر قیامت تک کے لیے اس طرح حرام ہیں جس طرح تم آج کے دن (یوم حج) اس شہر (مکہ شریف) اور اس مہینے (ماہ حج) کی حرمت کرتے ہو۔
میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو۔
ہر مسلمان دوسرے کا بھائی ہے اور تمام مسلمان باہم بھائی بھائی ہیں۔
عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو اور غلاموں کا خیال رکھو، جو خود کھائو انہیں کھلائو جو خود پہنو انہیں پہنائو۔
دین میں حد سے نہ بڑھو، تم سے پہلی قومیں حد سے بڑھ جانے ہی کے باعث برباد ہوئیں۔
مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ داری ہے، نہ باپ کے جرم کے لیے بیٹا جواب دہ ہے نہ بیٹے کے جرم کے لیے باپ۔
تم پر ایک نکٹا حبشی بھی امیر بنادیا جائے اور وہ تمہیں خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کا حکم سنو اور اس کی فرمانبرداری کرو۔
لوگو!۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت پیدا ہونے والی ہے۔
خطبہ ارشاد فرما چکے تو حاضرین سے پوچھا کہ خدا کے ہاں تم سے میری نسبت پوچھا جائے گا تو کیا کہو گے۔ سب نے بیک وقت جواب دیا ہم کہیں گے آپ نے خدا کا پیغام پہنچادیا اور اپنا فرض ادا کردیا۔ جواب سن کر آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا اے خدا! گواہ رہنا۔

 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close