Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

میراتھان کے میدان میں یونان کی شاندار فتح

 
   
 
میرا تھان یونان میں ایک چھوٹا سا میدان ہے جو صرف پانچ میل لمبار اور دو میل چوڑا ہے۔ اس کے ایک طرف سمندر ہے اور باقی تین پہلوئوں کو پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ 49 ق۔ م کے موسم بہار میں اسی مقام پر ایرانیوں اور یونانیوں کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس میں ایرانیوں نے تعداد میں چھ گنا ہونے کے باوجود شکست کھائی۔
جب ایران کے شہنشاہ داراگشا سپ کی فتوحات کا سکہ ایشیا میں رواں ہوچکا تو اس نے یونان کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا جو اس زمانے مین اوج شہرت پر پہنچا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ایک سپہ سالار کو چھ سو جہازوں کا بیڑا، چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار تک سوار اور بے شمار پیادہ فوج دے کر یونان بھیجا۔
جو یونانی فوج مقابلے میں آئی، وہ دس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ ایرانی میراتھان کے میدان میں خیمہ زن ہوئے اور یونانی پہاڑوں پر راستہ روکے بیٹھے تھے۔
یونانیوں کے پاس بڑی بڑی ڈھالیں اور لمبے لمبے نیزے تھے۔ ملٹیا ڈیز نے دائیں اور بائیں بازو کو خوب مضبوط کرلیا اور قلب کو کمزور رکھا۔ لڑائی شروع ہوئی تو ایرانیوں نے قلب ہی پر حملہ کیا، جو پیچھے ہٹا اور ایرانی آگے بڑھے۔ اس اثناء میں یونانی فوج کے بازوئوں نے پوری ایرانی فوج کو نرغے میں لے لیا اور قتل عام شروع کردیا۔ چھ ہزار چار سو ایرانی کھیت رہے، باقی بھاگ کر جہازوں پر سوار ہوگئے۔ اب یونانی تیزی سے کوچ کرتے ہوئے ایتھنز کے سامنے پہنچ گئے، تاکہ ایرانیوں کے نئے حملے کی روک تھام کرسکیں۔ ایرانی سپہ سالار نے یہ مستعدی دیکھی تو لنگر اٹھائے اور واپس چلاگیا۔
جنگ میراتھان میں ایرانیوں کی شکست کے بعد ایک یونانی بہادر ایتھینز کی طرف دوڑا اور کسی مقام پر دم لیے بغیر شر کے دروازے تک پہنچ گیا۔ وہ بے چارا لڑائی میں حصہ لینے کے بعث تکان سے چور ہورہا تھا۔ اس پر چوبیس میل کا پہاڑی راستہ دوڑ کر طے کیا۔ آخر طاقت جواب دے گئ۔ اپنے اہل وطن کو صرف یہ پیغام پہنچا سکا کہ "جشن منائو، ہمیں فتح حاصل ہوئی" اس کے بعد گرا اور دم توڑ دیا۔
یونانیوں نے اولمپیائی کھیلوں میں اس بہادر یونانی کی دوڑ کو بھی شامل کرلیا۔ چنانچہ جب ان کھیلوں کا انتظام ہوتا تو لمبی دوڑ کا مقابلہ بھی کیا جاتا تھا۔ جسے "میراتھان" کی دوڑ کہا کرتے تھے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close