Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سائرس کا بابل پر قبضہ

 
   
 
زمانہ قدیم میں بحیرہ روم کے آس پاس تین بڑی تہذیبوں نے نشوونما پائی، ایک مصری تہذیب، دوسری ہتی تہذیب اور تیسری وادی دجلہ و فرات (عرق) کی تہذیب، جو سب سے زیادہ پرانی تھی۔ اس تہذیب کا آخری بڑا مرکز بابل تھا۔ بابل کے بہادر سپاہی بارہا حملہ آوروں کے سیلاب کا رخ چکے تھے، لیکن اکتوبر 539ء ق۔ م میں ان کی مرکزی حکومت کو جنگ کے بغیر سائرس کے سامنے ہتھیار ڈال دینے پڑے۔
سائرس نے میڈیا اور پارس کو متحد کرکے جس سلطنت کی بنیاد ڈالی، وہ اس تیزی سے ابھری کہ بابل کے بادشاہ نابونی دس کواس کا صحیح اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ ابتدا میں وہ خوش تھا کہ میڈیا کی بادشاہی ختم ہوگئی جو مدت سے بابل کی دشمنی چلی آتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ پارس کی نئی قوت کو زک دینا مشکل نہ ہوگا۔ اس نے مصر، لیڈیا، سپارٹا وغیرہ کو ملا کر مقابلے کے لیے ایک متحدہ محاذ بھی قائم کرلیا تھا، لیکن متحدہ ایرانی قبائل نے بابل کے تمام حلیفوں کو آناً فاناً تتر بتر کر ڈالا۔ سائرس نے  546ء ق۔ م میں پہلے لیڈیا کو فتح کیا۔ پھر بحیرہ روم کے کنارے کی تمام یونانی نو آبادیاں لے لیں۔ نابونی دس نے بھی بابل کے شمال میں شکست فاش کھائی۔ اس کے بعد بابل والوں کے لیے مقابلے کا سوال ہی باقی نہ رہا، چنانچہ انہوں نے دس کر سیروس کی اطاعت قبول کرلی۔
بابل کے علاوہ سائرس نے شام، فلسطین، مشرقی ایران، قبرض اور ایشیائے کو چک کے آس پاس کے تمام یونانی جزیرے مسخر کرلیے، چنانچہ 519 ق۔ م تک دنیا کے تمام مہذب ممالک اس کے باجگزار بن چکے تھے۔ اولوں کی طرح تیر برسانے اور آندھی کے مانند تیز چلنے والے سواروں نے ایک روشن دماغ سپہ سالار کی ماتحتی میں اس سلطنت کی طرح ڈالی، جو اس دنیا میں غالباً پہلی شہنشاہی تھی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close