Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بنی اسرائیل غلامی سے نجات پاتے ہیں

 
   
 
بنی اسرائیل مصر میں ایک لمبی مدت غلامی میں گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رہنمائی میں وہاں سے نکلے اور ارض موعود (فلسطین) کی طرف سفر شروع کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جو مصرمیں پیدا ہوئے حضرت اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ اس زمانے میں فرعون یعنی مصر کے بادشاہ نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اسے فوراً موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ خدا جانے کتنے معصوم ہستیاں دنیا میں قدم رکھتے ہی موت کی گود میں پہنچا دی گئیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لیے بچ گئے کہ پیدا ہوتے ہی انہوں نے سرکنڈوں کی ایک ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیاگیا تھا فرعون کی بیوی نے یہ ٹوکری دیکھی تو دریا سے نکلوائی اور بچے کو اپنے بیٹے کی طرح پالا۔ یوں قدرت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے شاہی دربار کی شان و شوکت میں پروان چڑھنے کا موقع پیدا کردیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے تو ایک دن آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو پیٹ رہا ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے مصری کو ظلم سے روکنا چاہا،  لیکن وہ باز نہ آیا۔ اس پر آپ نے سے ایک گھونسا رسید کیا اور وہ مصری وہیں گر کر مرگیا۔ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا، لیکن اس کا عام چرچا ہوگیا۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ مناسب سمجھا کہ مصر سے نکل جائیں، چنانچہ آپ بحیرہ احمر کے نزدیک ایک صحرائی علاقے میں حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس چلے گئے اور ایک مدت تک وہاں ریوڑ چراتے رہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دے دی۔ پھر ایک "جھاڑی" سے آگ نکلنے کا واقعہ پیش آیا اور حضرت کو بشارت ملی کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائیں گے۔ چنانچہ وہ اس غرض سے مصر واپس چلے گئے۔
مصر میں پہنچ کر انہوں نے اپنے بھائی ہارون کی امداد سے بنی اسرائیل کو جمع کرلیا لیکن فرعون نہ تو بنی اسرائیل کو ذلت کی زندگی سے نجات دینے کے لیے تیار تھا۔ جب خدا کے حکم سے مصر میں یکے بعد دیگرے دس وبائیں نازل ہوئیں تو فرعون نے مجبور ہو کر اجازت دے دی۔ مگر بنی اسرائیل کا قافلہ روانہ ہوا تو فرعون کی نیت پھر بدل گئی۔ اس نے لائو لشکر لے کر بنی اسرائیل کا تعاقب کیا اور ان کے پیچھے پیچھے بحیرہ روم کے کنارے پہنچ گیا، تاکہ انہیں روکے یکایک خدا کی قدرت سے ایسی ہوائیں چلیں کہ پانی کے اترنے سے سمندر میں راستہ پیدا ہوگیا اور بنی اسرائیل سلامتی کے ساتھ پار اتر گئے، لیکن جب فرعون ان کے پیچھے پیچھے چلا تو پھر موجیں آگئیں اور وہ لائو لشکر سمیت ڈوب گیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close